• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

یوں سنگ چاٸے پیتے عمر بیت جاٸے

بھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے
مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے

تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو
ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے

یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں
ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے

یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر
بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے

تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے
اک کپ اپنے پن کا تو پھر سے پلاٸے

ہے اتنی سی حسرت، رہے باقی قربت
یوں سنگ چاٸے پیتے عمر بیت جاٸے

( شاعر: طارق اقبال حاوی)​
 
Top