• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

ڈاکٹر کفیل

Usama Afaaq

Moderator
ڈاکٹر کفیل خان شاید انڈیا کے مشہور ترین ڈاکٹر ہیں۔ بدقسمتی سے وہ اپنے پیشے کی وجہ سے نہیں بلکہ اترپردیش حکومت کی جانب سے متعدد بار جیل بھیجے جانے، ہر مقدمے میں عدالت سے ضمانت مل جانے اور پھر دوبارہ جیل بھیجے جانے کے لیے مشہور ہیں۔
بچوں کے امراض کے ڈاکٹر کفیل خان ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ حال ہی میں انڈیا کی سپریم کورٹ اور آلہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قومی سلامتی کے مقدمے میں ان کو باعزت رہا کیے جانے کے فیصلے کو صحیح قرار دیے جانے کے بعد اترپردیش کے شہر گورکھپور کی انتظامیہ نے ان کو اتر پردیش کے دس بڑے ’ہسٹری شیٹر‘ یا سنگین مجرموں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے اور اب تاحیات ان پر پولیس کی نگاہ رہے گی۔
اس بارے میں ڈاکٹر کفیل خان نے کہا: ’اترپردیش کی حکومت نے میری ہسٹری شیٹ کھول دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پوری زندگی مجھے پر نظر رکھیں گے۔ اچھا ہو اگر ریاستی حکومت مجھ پر نظر رکھنے کے لیے مجھے دو سیکورٹی گارڈز دیں دے تاکہ میں خود کو فرضی مقدمات سے تو محفوظ کر سکوں گا۔‘
بی بی سی نے اترپردیش حکومت سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔


اترپردیش کے ضلع گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر 38 سالہ ڈاکٹر کفیل خان کو سب سے پہلے دو ستمبر سنہ 2017 میں بی آر ڈی ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بچوں کی اموات کے سلسلے میں جیل بھیجا گیا۔
نو مہینے بعد 25 اپریل سنہ 2018 کو آلہ باد ہائی کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کیا۔ اس کے بعد 23 ستمبر 2018 میں ہی اترپردیش کی پولیس نے ایک اور مقدمے میں انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔
اس بار بھی ڈاکٹر کفیل کو ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہائی ملی۔ لیکن 29 جنوری سنہ 2020 کو اترپردیش کی حکومت نے شہریت کے متنازعہ قانون سی اے اے کے خلاف علی گڑھ یونیورسٹی میں کی گئی ایک تقریر کے سلسلے میں انھیں گرفتار کر لیا۔
جس دن ان کی ضمانت ہوئی اسی دن ان پر قومی سلامتی ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا اور وہ جیل میں ہی رہے۔
ڈاکٹر کفیل خان سپریم کورٹ کے باہر


سپریم کورٹ نے حال ہی میں آلہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو صحیح قرار دیا ہے جس میں ڈاکٹر کفیل پر این ایس اے کے مقدمے کوغیر قانونی قرار دیا گیا تھا
اس کیس میں میں یکم ستمبر کو آلہ آباد ہائی کورٹ نے ان کے خلاف قومی سلامتی کے مقدمے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انھیں رہا کر دیا۔ لیکن عدالت کی جانب سے رہائی کے بعد اترپردیش اور مرکزی حکومت نے مشترکہ طور پر سپریم کورٹ میں درخواست دی کہ آلہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کیا جائے۔
لیکن سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کیے بغیر یہ کہہ دیا کہ ’یہ ایک بہترین فیصلہ ہے اور وہ اس میں مداخلت نہیں کریں گے لہذا ڈاکٹر کفیل آزاد ہیں۔‘
بار بار عدالت سے رہائی کے باوجود ڈاکٹر کفیل کو جیل کیوں بھیجا جاتا ہے؟ ڈاکٹر کفیل کون ہیں اور اترپردیش کی حکومت کو ان سے کیا مسئلہ ہے؟
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد بی بی سی نے ڈاکٹر کفیل خان سے رابطہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اترپردیش کی حکومت انھیں بار بار کیوں جیل بھیجتی ہے۔
ڈاکٹر کفیل اپنے بھائیوں کے ساتھ

ڈاکٹر کفیل کے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں
ڈاکٹر کفیل خان کا پس منظر
ڈاکٹر کفیل کا تعلق اترپردیش کے شہر گورکھپور سے ہے۔ یہ وہی شہر ہے جو اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا پارلیمانی حلقہ اور ان کا آبائی شہر بھی ہے۔
ڈاکٹر کفیل کے والد شکیل احمد خان اترپردیش کے شعبہ آبپاشی میں انجینیئر تھے۔ مارچ 2003 میں ان کی وفات ہو گئی۔ ان کی والدہ نزہت پروین نے بی اے تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور وہ ہاؤس وائف ہیں۔
ڈاکٹر کفیل خان کے بڑے بھائی عدیل خان ایک بزنس مین ہیں، دوسرے بھائی کاشف جمیل خان نے ایم بی اے اور ایم سی اے کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور اپنا کاروبار کرتے ہے اور سب سے چھوٹے بھائی ڈاکٹر فضیل خان، دلی کے ایک نامور ہسپتال میں ہڈیوں کے ڈاکٹر ہیں۔
ڈاکٹر کفیل خان کی ایک بہن مائیکرو بائیولوجسٹ ہیں جبکہ دوسری بہن نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ دونوں بہنیں شادی شدہ ہیں۔
ڈاکٹر کفیل کے والدین کی شادی کی فوٹو

ڈاکٹر کفیل کے والدین کی ہمیشہ سے یہی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں
ڈاکٹر کفیل نے اپنی ابتدائی تعلیم گورکھپور کے امر سنگھ چلڈرن سکول سے حاصل کی۔ ہائی سکول اور بارہویں کلاس تک تعلیم گورکھپور کے مہاتما گاندھی انٹر کالج سے حاصل کی۔
ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ اور ان کے بڑے بھائی دونوں ڈاکٹر بنیں۔ بارھویں جماعت کے بعد انھوں نے ڈاکٹری کے لیے منی پال انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے آل انڈیا امتحان میں 30واں رینک حاصل کیا جس کے بعد انھوں نے بارہ سال تک گینگٹوک میں منی پال انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہیں انھوں نے بچوں کے شعبہ امراض میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے کام کیا۔ اس کے بعد سنہ 2013 میں واپس گورکھپور آ گئے اور ڈاکٹر شبستہ خان سے شادی کر لی۔
ڈاکٹر کفیل خان اپنی اہلیہ کے ساتھ

ڈاکٹر کفیل خان نے ڈاکٹر شبستہ خان سے شادی کی ہے
ڈاکٹر کفیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’اس وقت مجھے آسٹریلیا سے بچوں کے ایک ہسپتال میں ملازمت کی پیش کش تھی لیکن گھر والوں کا بہت دباؤ تھا کہ میں شادی کر لوں۔ انھیں لگتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں آسٹریلیا جاؤں اور واپس ہی نہ آؤں۔ انھوں نے کہا شادی کر لو پھر جانا۔‘
ہسپتال

اترپردیش کی حکومت کا موقوف ہے کہ بی آر ڈی کالج میں جن بچوں کی اموات ہوئی اس کی وجہ دماغی بخار تھا۔
بی آر ڈی میڈیکلکالج میں ملازمت کرنے کا مقصد
ڈاکٹر کفیل خان کی میڈیکل کی تعلیم و تربیت انڈیا کی شمالی مشرقی ریاست سکم کے دارالحکومت گینگٹوک میں ہوئی جہاں کا سیاسی اور سماجی پس منظر اترپردیش سے بالکل مختلف ہے۔
ڈاکٹر کفیل بتاتے ہیں: ’اترپردیش کی بیماریاں شمالی مشرقی انڈیا اور ملک کے دیگر حصوں سے مختلف ہیں۔ اترپردیش میں کمیونیکیبل یا ایک انسان سے دوسرے کو لگنے والی بیماریاں زیادہ ہیں، جیسے ڈپتھیریا، ڈائریا، خسرہ، چیچک اور فلو وغیرہ۔ ان میں سے بیشتر بیماریاں میں نے اپنی ٹریننگ کے دوران دیکھی ہی نہیں تھی۔ گھر والوں کا کہنا تھا کہ ایک بار بی آر ڈی میڈیکل کالج جوائن کرلو گے تو مقامی بیماریوں کا بھی علم ہو جائے گا۔‘
سنہ 2013 سے اپریل 2016 تک ڈاکٹر خان نے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں سینیئر ریذیڈنٹ ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیے۔ اپریل میں ان کا کنٹریکٹ ختم ہوا تو اپنے فیملی ہسپتال میں کام کرنے لگے۔ لیکن اسی برس آٹھ اگست کو انھیں بی آر ڈی کے بچوں کے شعبہ امراض میں اسسٹنٹ پروفیسر کی ملازمت مل گئی۔
بی آر ڈی ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کا معاملہ
دس اگست 2017 کی رات شمالی انڈیا کی ریاست اترپردیش کے بی آر ڈی ہسپتال میں 30 بچے ہلاک ہو گئے تھے، ہسپتال میں آکسیجن کی سپلائی سے متعلق تنازعے کی اکا دکا خبریں مقامی میڈیا میں شائع ہو رہی تھیں کیونکہ جو کمپنی بی آر ڈی ہسپتال کو مائع آکسیجن سپلائی کرتی تھی اس نے اپنی بقایہ رقم کی ادائیگی نہ ہونے پر بی آر ڈی انتظامیہ کو 14 خطوط لکھے تھے۔
چونکہ ڈاکٹر کفیل خان اس ہسپتال کے سب سے جونیئر ڈاکٹر تھے تو بقول ان کے ’مجھے تو اس وقت یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آکسیجن کون فراہم کرتا ہے، اور یہ سپلائی وارڈز تک کیسے پہنچتی ہے۔‘
بی آر ڈی انتظامیہ کو اس بات کا علم تھا کہ سپلائر کی دھمکی کے مطابق 10 اگست کی شام تک آکسیجن کی سپلائی یا تو کم کر دی جائے گی یا بالکل ہی کاٹ دی جائے گی۔
 
Top