• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information چین کی ساڑھے چار ہزار ڈالر والی برقی کاروں نے ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا

چین کی صرف ساڑھے چار ہزار ڈالر مالیت کی سستی الیکٹرک گاڑی نے دنیا میں برقی کاریں بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
چین کے سرکاری گاڑی بنانے والے ادارے ایس اے آئی سی موٹرز کی بنائی ہوئی چھوٹے سائز کی برقی کار صارفین میں بے انتہا مقبول ثابت ہو رہی ہے۔
ہانگ گوانگ منی ای وی کے نام سے منسوب گاڑی امریکہ کے گاڑی بنانے والے معروف ادارے جنرل موٹرز کے ساتھ تعاون سے تیار کی جا رہی ہے۔
اس شراکت داری کو مقامی طور پر وولنگ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

گذشتہ ماہ چین میں بجٹ ای وی یعنی سستی برقی کاروں کی فروخت ٹیسلا کے مقابلے میں دگنی تھیں اور ساڑھے چار ہزار ڈالر مالیت کی ہانگ گوانگ منی ان میں سب سے زیادہ مقبول گاڑی ہے۔
اس کا ایئر کنڈیشنر والا ماڈل پانچ ہزار ڈالر میں فروخت ہوتا ہے اور اس کی تشہیری مہم میں اس گاڑی کو 'لوگوں کے لیے آمد و رفت کے قابل بنانے' والی گاڑی کے طور پر کیا جا رہا ہے۔

گاڑیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ چینی برقی گاڑیاں ٹیسلا کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کافی پیچھے ہیں اور ان کی بیٹری اور کارکردگی اتنی اچھی نہیں ہے لیکن کم قیمت کی وجہ سے اس کا بہت تیزی سے چین میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی 'نیو انرجی' گاڑیوں میں شمار ہونے لگا ہے۔
وولنگ کمپنی کی اس گاڑی کو گذشتہ برس متعارف کرایا گیا تھا اور اس کی تیز ترین رفتار کی حد سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور اس میں ایک وقت میں بمشکل چار افراد بیٹھ سکتے ہیں۔
چائنا مارکیٹ ریسرچ گروپ کے مینجینگ ڈائریکٹر شان رئین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'چینی حکومت آلودگی کم کرنے کے لیے بہت سنجیدہ ہے اور اس سلسلے میں وہ برقی کاروں کا استعمال میں دنیا میں سب سے آگے ہونا چاہتی ہے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ہانگ گوانگ منی جیسی دیگر برقی کاروں اور حتی کہ مہنگی برقی کاریں جیسے نیوں اور ٹیسلا کی بھی مقبولیت چین میں بڑھتی جائے گی اور لوگوں میں انھیں استعمال کرنے کا رحجان بڑھے گا۔
چینی حکومت نے برقی کاریں استعمال کرنے کے لیے صارفین کو مختلف مراعات دی ہیں جیسے مفت میں نمبر پلیٹ دینا۔ چین میں کئی شہروں میں پیٹرول سے چلنے والی عام گاڑیوں کے لیے نمبر پلیٹ حاصل کرنے کے لیے کئی مہینے کا وقت درکار ہوتا ہے اور وہ بھی نیلامی کے ذریعے دیا جاتا ہے۔

ٹیسلا سے مقابلہ
ہانگ گوانگ منی ای وی نے گذشتہ سال کے آخری چھ ماہ میں ایک لاکھ سے زیادہ گاڑیاں فروخت کیں جبکہ شنگھائی میں بننے والی ٹیسلا کی ماڈل تھری گاڑیوں کا فروخت میں سب سے پہلا نمبر تھا۔
لیکن اس مہینے کے اوائل میں چینی حکام نے ٹیسلا کو ان کی فیکٹری میں حفاظتی معیار اور گاڑیوں کی تیاری کے معیار میں پیدا ہونے والے مسائل کے باعث طلب کیا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے بعد چین ٹیسلا کے لیے سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔
لیکن اس سال جنوری کے اعداد و شمار کے مطابق ہر ایک ٹیسلا گاڑی کے فروخت پر ہانگ گوانگ منی کی دو گاڑیاں فروخت ہو رہی ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں بھی ٹیسلا کی ماڈل تھری کے بعد سب سے مقبول برقی گاڑی ہانگ گوانگ منی ہی ہے۔
چائنا پسنجر کار ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2021 میں ہانگ گوانگ منی کی 25778 گاڑیاں فروخت ہوئی ہیں جبکہ ٹیسلا کی ماڈل تھری کی کُل 13843 گاڑیاں فروخت ہوئی ہیں۔
مقامی طور پر تیاری کی وجہ سے چین میں ٹیسلا ماڈل تھری کی قیمت قدرے کم ہے اور وہ 39 ہزار ڈالر میں فروخت ہوتی ہیں۔
مستقبل میں بہت ممکن ہے کہ ہانگ گوانگ منی چین سے باہر بھی ملنا شروع ہو جائے کیونکہ وولنگ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کو برآمد کریں۔
آٹو فورکاسٹ سلیوشنز سے منسلک سیم فیورانی کا کہنا ہے کہ چین کے پاس چھوٹی اور سستی برقی کاریں تیار کرنے والی کمپنیاں بہت ہیں لیکن ان کا معیار کم ہے اور وہ کم رفتار کی گاڑیاں ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت بڑے پیمانے پر لوگوں میں مقبول نہیں ہیں۔
'لیکن پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہانگ گوانگ منی جیسی برقی گاڑی بنانے والی ایک بڑی کمپنی نے ان صارفین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے جو ایک اچھی، معیاری گاڑی کے خواہشمند ہیں۔'
ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ یورپی ملک لیٹویا کی ایک کمپنی اور وولنگ کے درمیان گاڑیاں فروخت کرنے کا معاہدہ ہو رہا ہے لیکن ان کی قیمتیں یورپ میں ماحولیاتی قوانین کی پاسداری کرنے کی وجہ سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
 
Top