• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

وزیراعظم عمران خان آج قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے، اپوزیشن کا بائیکاٹ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ملک کی قومی اسمبلی میں سنیچر کو اس بات کا فیصلہ ہو رہا ہے کہ آیا اس کے ارکان کی اکثریت کو ملک کے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد ہے کہ نہیں۔
اس مقصد کے لیے قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس چھ مارچ کی دوپہر سوا بارہ بجے طلب کیا گیا ہے جس میں اس حوالے سے قرارداد پیش کی جائے گی۔
قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے طلب کیے گئے اس اجلاس کا مقصد پاکستان کے آئین کے آریٹکل 91 کی ذیلی شق سات کے تحت وزیراعظم سے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہنا ہے۔
پاکستان کے آئین کے مطابق صدر اس شق کے تحت صرف اسی صورت میں وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کو کہہ سکتا ہے جب اسے یقین ہو کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی کے اراکین کا اعتماد حاصل نہیں رہا۔


حکومتی ذرائع کے مطابق جمعے کی شام تحریکِ انصاف اور اس کے اتحادیوں کے ارکانِ اسمبلی کے اجلاس میں 180 ارکان شریک ہوئے اور اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے ارکان سنیچر کو وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دیں گے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم نے سنیچر کو ہونے والے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے 171 ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔
اس بائیکاٹ کا فیصلہ جمعے کی شام پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان پر عدم اعتماد سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی صورت میں ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا کوئی رکن اس اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا اور یہ کہ اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد اس اجلاس کی کوئی سیاسی حیثیت باقی نہیں رہ گئی۔
مولانا فضل الرحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا عمران خان سنیچر کو انھی ارکان سے اعتماد کا ووٹ لینا چاہتے ہیں جو ان کے بقول بک گئے تھے۔
بلاول بھٹو زرداری کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر تحریکِ عدم اعتماد لائے گی
عمران خان اعتماد کا ووٹ کیوں لے رہے ہیں؟
وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ سینیٹ کے انتخابات کے دوران وفاقی دارالحکومت کی نشست پر حکومت کی غیرمتوقع شکست کے بعد کیا۔
سینیٹ کے لیے اس نشست کے انتخاب میں قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کی عددی اکثریت کے باوجود متحدہ اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کوپانچ ووٹوں سے شکست دی تھی۔
اس شکست کے بعد جہاں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہو کر نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ سامنے آیا تھا وہیں عمران خان نے کہا تھا کہ وہ خود ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے کر یہ ثابت کر دیں گے انھیں اب بھی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔
انھوں نے جمعرات کی شام قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ اکثریت کا خاتمہ عدم اعتماد نہیں ہوتا اور اپوزیشن کا مقصد یہ تھا کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج کو استعمال کرتے ہوئے اُن کی حکومت پر ’عدم اعتماد کی تلوار لٹکا دیں‘ لیکن وہ خود ہی اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
انھوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ ارکان اسمبلی اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ انھیں اپنے وزیراعظم پر اعتماد نہیں رہا اور وہ انھیں اہل نہیں سمجھتے تو وہ حکومت چھوڑ کر اپوزیشن میں چلے جائیں گے۔
عمران خان سنہ 2018 کے عام انتخابات میں اپنی جماعت تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد پارلیمنٹ سے 176 اراکین کا اعتماد حاصل کر کے وزیراعظم بنے تھے اور اب حکومت کے تیسرے سال میں جب انھیں دوبارہ پارلیمنٹ کے ارکان کا اعتماد حاصل کرنے کا مرحلہ درپیش ہے تو کاغذ پر حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 181 ہے جبکہ اپوزیشن کے 161 ارکان ایوانِ زیریں میں موجود ہیں۔
ان اعداد و شمار کے باوجود حکومتی حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ سینیٹ کے لیے اسلام آباد کی نشست کے نتائج ہیں جہاں حکومتی امیدوار کو صرف 164 ووٹ ملے جبکہ اپوزیشن کے امیدوار 169 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
عمران خان نے کہا تھا کہ وہ خود ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے کر یہ ثابت کر دیں گے انھیں اب بھی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے
تاہم اگر آئین کے آرٹیکل 63 اے (ون) (بی) کو دیکھا جائے تو بظاہر اعتماد کا ووٹ لینے میں وزیراعظم عمران خان کو کوئی مشکل درپیش نہیں ہونی چاہیے کیونکہ سینیٹ الیکشن میں پارٹی کے ہدایت کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان اگر اعتماد کے ووٹ کے موقع پر ایسا کرتے ہیں یا ووٹ دینے سے اجتناب برتتے ہیں تو وہ اسمبلی کی رکنیت سے نا اہل ہو سکتے ہیں۔
اعتماد کا ووٹ کیا ہے اور اسے حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
پارلیمنٹ میں اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اراکین ایک منتخب قانون ساز رکن کو وزیراعظم بنانے یا برقرار رکھنے پر اپنا اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ہی ایک شخص وزیر اعظم کا حلف اٹھاتا ہے۔
وزیراعظم کی پانچ سالہ مدت کے دوران اسے تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا طریقہ کچھ یوں ہے:
  • پارلیمان کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے تمام اراکین کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے ایوان میں پانچ منٹ تک گھنٹی بجائی جاتی ہے۔
  • اس کے بعد لابی کی طرف جانے والے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ کسی کو اندر سے باہر جانے اور باہر سے اندر آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
  • اس کے بعد سپیکر اسمبلی کے سامنے وزیراعظم پر اعتماد سے متعلق قرارداد پڑھتا ہے اور اراکین کو، جو قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنا چاہتا ہیں، ایک قطار میں داخلی راستے کی جانب جانے کا کہتا ہے، جہاں ہر ممبر کا ووٹ ریکارڈ کرنے کے لئے ’ٹیلرز‘ یعنی اسمبلی اہلکار موجود ہوتے ہیں۔
  • ہر ممبر ’ٹیلر‘ کی میز پر پہنچنے پر قواعد کے تحت الاٹ کردہ ’ڈویژن نمبر‘ پکارے گا۔
  • ’ٹیلر‘ ممبر کا نام پکارتے ہوئے ڈویژن لسٹ سے اس کا نام کاٹ دے گا۔ وہاں سے آگے بڑھنے سے پہلے ممبر کو رُک کر واضح طور پر اپنا نام سننا ہو گا تاکہ اس کے ووٹ کو صحیح طرح سے ریکارڈ کیا جا سکے۔
  • اپنے ووٹ کے اندراج کے بعد ممبر پارلیمان کو لازمی طور پر چیمبر چھوڑنا ہو گا اور ان کی واپسی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ ایک بار پھر گھنٹیاں نہ بجیں۔
  • جب سپیکر کو یہ معلوم ہو جائے گا وہ تمام اراکین جو وزیر اعظم کو ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں، نے اپنے ووٹ درج کروا دیے ہیں، تو وہ اعلان کرے گا کہ ووٹنگ ختم ہو گئی ہے۔
  • اس کے بعد سیکرٹری ڈویژن کی فہرستوں کو جمع کرے گا، درج ووٹوں کی گنتی کرے گا اور اس کا نتیجہ سپیکر کے سامنے پیش کرے گا۔
  • اس کے بعد پھر سے دو منٹ تک گھنٹی بجے گی تاکہ قانون سازوں کو چیمبر واپس بلا لیا جائے۔ ان کی واپسی پر سپیکر نتائج کا اعلان کرے گا۔
  • سپیکر صدر کو قرارداد منظور یا مسترد ہونے سے متعلق نتائج کے بارے میں تحریری طور پر آگاہ کرے گا۔ سیکرٹری کے لیے ضروری ہے کہ وہ نتائج کا نوٹیفکیشن گزٹ آف پاکستان میں شائع کروائے۔
ماضی میں کن وزرائے اعظم نے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیا؟
یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلا موقع نہیں کہ کسی وزیراعظم کو اپنے دورِ اقتدار میں ایوان سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کا مرحلہ درپیش ہوا ہو۔
سیاسی نظام میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں بحران تھم جائے اور حکومت اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکے۔
ماضی میں ایک ہی بار ایسا ہوا لیکن وزیر اعظم کو اعتماد ملنے کے باوجود سیاسی کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ 27 مئی 1993 کو جب نواز شریف نے اپنی حکومت کی بحالی کے بعد ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے رجوع کیا تھا تو 123 ارکان کی حمایت سے انھیں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
قومی اسمبلی کے سابق ایڈیشنل سیکریٹری طاہر حنفی کے مطابق وہ کارروائی قومی اسمبلی کے ضابطہ 285 کے تحت ہوئی تھی جس میں ہاتھ کھڑے کر کے اعتماد کا ووٹ دیا گیا تھا۔
1993 اور 2021 میں ممکنہ طور پر ہونے والے اعتماد کے ووٹ میں کیا فرق ہے؟ اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کارروائی آئین کی دفعہ 91 شق 7 کے تحت ہو رہی ہے جس کی تحریر کا ترجمہ یہ ہے کہ صدر مملکت کو اب یہ اعتماد نہیں رہا کہ وزیر اعظم کو ایوان کا اعتماد حاصل ہے۔
 
Top