• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

رحم


رحم

زبان جو کسی بھی تہذیب اور ثقافت کا ترجمان ہوتی ہے، وہ صرف ابلاغ کا ہی کام نہیں دیتی بلکہ اس قوم کے کلچراور تاریخ کوبھی اپنے اندر سموئے رکھتی ہے۔زبانوں میں سے بالغ زبان اس کو تصور کیا جاتا ہے جس کی عمر کم از کم ایک ہزا ر سال ہو۔اس لحاظ سے ام اللسان یعنی زبانوں کی ماں ’’عربی‘‘ کو کہا جاتا ہے،کیونکہ یہ آج تک فصاحت وبلاغت کے اعلیٰ معیار پر ہے او ر اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ صرف ایک اونٹ کی اقسام بتانے کے لیے اس میں ڈیڑھ سو الفاظ ہیں ،جبکہ اس کے مقابلے میں دیگر زبانیں اس طرح نہیں ہیں۔

ہم میں سے کسی نے ایم اے انگریزی کیا ہو تو اس کوچوسر کی انگلش سمجھ نہیں آتی جو کہ صر ف چار سو سال پرانی ہے ۔اسی طرح ایم اے اردوکا طالب علم ولی دکنی کی شاعری کے آگے سر جوڑ کر
بیٹھ جاتا ہے حالانکہ اس کوصرف دوسو سال گزر چکے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ زبانیں ابھی بلوغت کے معیار تک شاید نہیں پہنچیں ۔ اسی وجہ سے اہل عرب اپنے علاوہ باقی سب کو عجمی (گونگا) کہتے ہیں اور گونگا وہی ہوتا ہے جو ابلاغ اچھے طریقے سے نہ کرسکے ۔چونکہ اردو ایک نابالغ زبان ہے اور جب بھی ہم کسی بالغ زبان(عربی) کا ترجمہ ایک نابالغ زبان(اردو) سے کرتے ہیں تو اس کے حقوق اس طرح ادا نہیں ہوسکتے جیسے ہونے چاہییں ۔یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ عجمی ہونے کی حیثیت سے قرآن کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے جس طرح ایک عربی سمجھتا ہے۔
قرآن کریم کی ابتدا بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوتی ہے ۔اس میں اللہ کے لیے صفاتی نام رحمان اور رحیم استعمال ہوئے ہیں ۔ان دونون الفاظ کا ماخذ اشتقاق ’’ر۔ح۔م‘‘ ہے یعنی رحم ،جوکہ مہربانی

کی ایک کیفیت کا نام ہے ۔اس کے علاوہ عربی میں رحم ماں کے پیٹ کے اس حصے کو بھی کہا جاتا ہے جس میں بچہ پلتا ہے ۔’’رحم مادر‘‘ میں پلنے والے بچے کی کچھ کیفیات ہوتی ہیں ۔ایک تو یہ کہ اس کے پاس مانگنے کا شعور نہیں ہوتا پھر بھی اس کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔دوسری کیفیت ، اس کو بن مانگے غذا ملتی ہے۔تیسری کیفیت یہ ہے کہ اس حالت میں بچے کو کب کیا چاہیے ،کتنے عرصے میں چاہیے ،کیسے اور کس طرح چاہیے ،ان تمام سازگار حالات کا بندوبست یہاں مکمل طورپر موجود ہوتا ہے۔چوتھی حالت یہ ہے کہ یہاں پر بچہ مکمل طورپر محفوظ ہے ،کسی بھی چیز کاخطرہ نہیں ۔پانچویں حالت یہ ہے کہ رحم مادر میں پلنے والے بچے کا اختیار اس کے پاس بھی نہیں ہے جس نے بچہ اٹھایا ہوا ہے اور اس کے پاس بھی نہیں ہے جو رحم میں موجود ہے بلکہ صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے ۔ آسان الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں یہاں رب کی ربوبیت کامل طور پراپنا جلوہ دکھاتی ہے۔

ایک طرف جہاں ’’رحم مادر‘‘میں پلنے والے بچے اس قدر منظم نظا م میں پلتے ہیں ،وہیں کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو دنیا میں آنے سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔باریک نظری سے دیکھا جائے تو یہ بھی رحمان کے رحم کا ایک انداز ہے،اس طرح کہ مرنے والے بچوں کے بار ے میں جب بعد میں تحقیق ہوتی ہے توپتا چلتا ہے کہ اس بچے کے دل میں سوراخ تھا۔کسی کے دوسر ہوتے ہیں اور کوئی شدید معذور ۔میرے ایک عزیز کے ہاں بچہ ہوا جس کی آنکھوں کی جگہ مکمل طورپر ہموار ہے ۔وہ ایک خوشحال اور کامیاب فیملی ہے ،ان کے بقول ساری زندگی کی کمائی ہوئی خوشیاں ایک طرف اور بچے کی یہ معذوری ایک طرف۔ایک اور جاننے والا ہے جس کے بچے کو ایک ایسی بیماری لاحق ہے جس کے بارے میں یقینی طورپر معلوم ہے کہ اس میں انسان 14سال کے بعد زندہ نہیں بچتا۔اس کے والدین وقت گن رہے ہیں ،وہ روز مرتے اور روز جیتے ہیں ۔

اللہ اس دنیا میں اس طرح کی کچھ مثالیں اس لیے رکھ لیتا ہے تا کہ ہم سوچ لیں کہ ہم یہ جو کچھ ہیں ا س میں ہمارا کیا کمال ہے ۔اس کے ساتھ یہ بھی ذہن سے نکال دیں کہ کوئی شخص اگرکسی آزمائش میں ہے تو وہ گناہ گار ہے ۔نہیں ،ایسا نہیں ۔یہ ایک ہندوانہ سوچ ہے جو ہمیں ملی ہوئی ہے ۔ہندوؤں کے ہاں معذور کو شودر سمجھا جاتا ہے ۔ان کے بقول اس نے پچھلے جنم میں کوئی گناہ کیا تھا جس کی سزا اس صورت میں ملی ہے ۔اسلام میں اس چیز کا کوئی تصور نہیں۔ایسا ہوسکتا ہے کہ جو ٹھیک لوگ ہیں ،اللہ نے ان کو احساس دلانے کے لیے ایک انسان ایسا پیدا کیاہوکہ یاد رکھنا! اللہ کے لیے کسی کو معذور یا تندرست پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔

یہ خیال کہ میرا مالک ماں کے پیٹ میں مجھے رزق دے رہا تھا ، میری حفاظت کررہا تھا اور میرے لیے گرمی ،سردی اور درکار تمام حالات کا بندوبست کررہا تھا ،اس کی تجدید کا نام ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ’’رحم مادر‘‘ کا شاندار نظام انسان میں ایک نیا مزاج پیدا کرتا ہے وہ امید کامزاج ہے۔ اس بات کی امید کہ اگر وہ رب یہاں تک لایا ہے تو آگے بھی میرے لیے کوئی منصوبہ بندی ضرورہوگی ۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ ماں کے پیٹ میں تو پالتا رہامگر اب نہیں پالے گاکیونکہ رب وہ ہوتاہے جوخود اسباب پیدا کرتا ہے اگر وہ اسباب پید انہ کرے تو پھر رب کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی۔

اسباب کیا ہیں؟
اسباب کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کے پاس کسی چیز کی قابلیت ہے اور وہ قابلیت اس کے لیے روزی روٹی بن گئی ۔جو رب آپ کے اندر ایک صلاحیت رکھ کر آپ کو رزق دیتا ہے اس کے لیے دوسرے اسباب پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟بن مانگے دینے والے رب سے جب ہم مانگیں گے تو کیوں نہیں دے گا۔حضر ت حسن بصریؒ نے ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت سے کہا:دعا مانگاکرو ،کبھی تو اس کا دَ ر کھلے گا۔ بڑھیا نے جواب دیا:اس کادَر کبھی بند ہوا ہے جو میں کھلوانے لیے دستک دوں؟وہ تو رب ہی اس لیے ہے کہ اس کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے ۔

آپ کی امید کہاں ہے؟
’’رحم ‘‘ انسان کو سب سے پہلاسبق امیدکا دیتا ہے۔ اپنی امید دیکھا کریں کہ کہاں پر ہے ۔امید کا یقین چھیننے والا شیطان ہے جواور کچھ نہیں کرتا صرف آپ کی امید سے کھیلتا ہے ۔آپ دنیا کی سب سے قیمتی چیزیں کسی انسان کو دے دیں لیکن اس کے ساتھ ناامیدی بھی دے دیں تووہ سب چیزیں اس کے کام کی نہیں ہیں۔شیطان آپ سے ’’رب ہونے کایقین‘‘چھینتا ہے ۔جب بھی آپ سے یہ یقین چھن جائے گی اس کے بعد آپ کی ذہنی حالت ’’ناامیدی ‘‘والی ہوگی اور ناامیدی میں آپ کا آئندہ زندگی پر یقین ختم ہوجائے گا۔
واصف علی واصف ؒ کا قول ہے کہ ’’حالات کی بد ترین ہونے کے باوجودمستقبل کے بہتر ہونے کی امید ترک نہیں کرنی ۔‘‘خبر نہیںہے کہ کتنے اندھیرے کے بعد اجالا ہوجائے۔دنیا میں کوئی رات ایسی بنی نہیں کہ جس کے بعد سحر نہ ہو۔رات کتنی ہی تاریک اور سیاہ کیوں نہ ہو، اس کے بعد اُجالا ضرور پھیلتا ہے۔قرآن میں بھی اللہ فرماتا ہے :’’ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔‘‘سورۃ الانشراح/آیت نمبر: 5

مسائل نے ختم ہوجانا ہے
جس طرح دنیا میں ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے ایسے ہی مسائل کی بھی ایک عمر ہوتی ہے ، ہر مسئلے اور پرابلم نے اپنی عمر گزارکر مرجانا ہوتا ہے ۔جتنے بھی بڑے بڑے بابے ہیں ،وہ یہی کام تو کرتے ہیں ۔وہ بندے کا مسئلہ سنتے ہیں اور پھر اُس انسان کا قد اس کے مسئلے سے بڑا کردیتے ہیں،اس کو ایک امید دے دیتے ہیں اور جس انسان میں بھی امید پیدا ہوجاتی ہے وہ خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے ۔یہ بات یاد رکھیں کہ دنیا میں وہ مصیبت بنی نہیں ہے جو انسان کو اُڑاکر رکھ دے۔کسی مفکر کا جملہ ہے کہ ’’اپنے رب کو یہ نہ بتاؤ کہ مسئلہ کتنا بڑا ہے بلکہ اپنے مسئلے کو بتاؤ کہ میرا خدا کتنا بڑا ہے۔‘‘
زندگی گزارنے میں سب سے طاقتور چیز ’’امید ‘‘ہے کیونکہ ناامیدی انسان میں ایک چیز اور پیدا کرتی ہے جس کانام خدشاہے اور یہ بات یاد رکھیں کہ اگر انسان کے خدشے کی بنیادجانچ ،پرکھ پر نہ ہوبلکہ بلا تحقیق ہو تو پھر وہ خدشا ایک بیماری ہے اور یہ بات بھی آپ کے علم میں رہے کہ 98فی صدخدشے جھوٹ ہوتے ہیں۔انسان جب بھی کوئی نیا کام کرنے لگتا ہے تو اس کا دِل گھبرارہا ہوتا ہے ۔مثال کے طورپر جو انسان کسی فائیواسٹار ہوٹل میں نہیں گیاتو PCکے باہر کھڑے ہوکر اس کی ٹانگیں ضرور کانپیں گی۔ایسا ہی انسان خدشوں سے بھی گھبراتا ہے ۔ڈیل کارنیگی نے اس بات پر باقاعدہ تحقیق کی ہے کہ دنیا کے 98فی صدخدشے وہ ہوتے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔باقی 2فی صدوہ ہوتے ہیں جو بالکل معمولی ہوتے ہیں،لیکن اس دنیا میں ہزاروں سینکڑوں لوگ ایسے ہیں جو اُن حادثوں سے مرجاتے ہیں جو ابھی ہوئے بھی نہیں ۔

ہمارے ملک میں گزشتہ چند سالوں سے بیمہ پالیسی زیادہ بک رہی ہے ،کیونکہ جس معاشرے میں عدم تحفظ اور خدشے جتنے زیادہ ہوتے ہیں ،وہاں بیمہ زیادہ بکتا ہے ۔مایوسی صرف حالات پیدا نہیں کرتے بلکہ کچھ لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں جو اچھے بھلے انسان کی معمولی ناامیدی کو ہوا دے کر بھڑکادیتے ہیں۔وہ اس قدر لوگوں کو ناامید کردیتے ہیں کہ ناامیدی ضرب کھاکر واپس آجاتی ہے ۔ایسے لوگوں کو مایوسی کے فن میں کامل مہارت حاصل ہوتی ہے جبکہ اس کے برعکس کچھ لو گ ایسے بھی ملیں گے جو کہیں گے :’’بھائی آرام سے بیٹھ جاؤ،فکروں کو چھوڑدو، ان شاء اللہ اوپر والا خیر کرے گا۔‘‘مگر ایسے لوگوں کی مقدار آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔کسی بھی بڑے بزرگ یا قابل ماہرنفسیات کے پاس جب کوئی پریشان حال شخص جاتاہے تو وہ اس کو کہتا ہے :’’آپ کا جو بھی مسئلہ ہے وہ آپ نے یہاں میرے کمرے میں چھوڑ کر جانا ہے۔‘‘اور وہ پریشان شخص نارمل ہوکر وہاں سے چلا جاتا ہے ،دراصل مسئلہ ہوتا بھی نہیں ہے ،صرف اس کا خدشاہوتا ہے جس نے انسان کو ناامید کردیا ہوتا ہے۔
بعض لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے سے انسان ہلکا پھلکا ہوجاتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ آنے والا شخص بات ماننے والا ہوتا ہے ۔واصف صاحب نے اسی بارے میں فرمایا تھا کہ :’’کہنا ماننے والا بچت میں ہے ۔‘‘ کیونکہ وہ پہلے سے معتقد ہے ،اس وجہ سے اس کے لیے بات ماننے میں بڑی آسانی ہوتی ہے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ انسان ہوش میں ہو اور اس کا آپریشن ہورہا ہوبلکہ آپریشن سے پہلے اس کو بے ہوش کیا جاتا ہے تو تب جاکر ڈاکٹر کے لیے آسانی ہوتی ہے کہ وہ اپنا کام کرسکے ۔اسی طرح کوئی بھی بڑا شخص یا استاد بے ہوشی میں ہی ذہن کا آپریشن کرتا ہے ۔انسان کے اندر جب بھی کوئی نئی بات پیدا کرنی ہوتو اگر وہ پہلے سے متاثر ہے تب اس کے لیے ماننا بھی آسان ہوگاوگرنہ دنیا کی بہترین سے بہترین بات بھی اگر کسی کے سامنے ہورہی ہواور وہ کہنے والے سے عقیدت نہ رکھتا ہو تو اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ ایک محفل میں ایک ہی بات پر ایک شخص واہ واہ کرکے کہتا ہے یہ بات تومیرے لیے ہوئی ہے جبکہ دوسرے شخص کے نزدیک اس کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی۔بات کا اثر تب ہوتا ہے جب انسان کی فریکوئنسی کہنے والے کے ساتھ سیٹ ہو۔

’’رحم‘‘ دراصل یاد ہے رحم مادر کی ، کہ رب وہاں رازق تھا تو اس زندگی کے ہر چیلنج میں بھی رازق ہوگا اور ہر جگہ مجھے گزارے گا۔رزق پہلے بھی دیتا رہا ہے تو بعد میں بھی دیتا رہے گا۔میرا کام صرف احتیاط کرنا ہے، حفاظت کی ذمہ داری اس کی ہے بس مجھے اس پر بھروسا کرنا چاہیے ۔اس زندگی میں بہت ساری چیزوں کو بھول جانا اور مشکلات کو نظر انداز کرنا ہے ،کیونکہ جس انسان نے دور جانا ہوتو وہ چھوڑنا سیکھتا ہے ،صرف چیزوں کو نہیں بلکہ گلے شکوؤں اور ناامیدی کو بھی ۔
’’الرحمن الرحیم ‘‘سے نکلا سبق ’’لاتقنطوا من رحمۃ اللہ ‘‘(اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہونا) پر جاکر مکمل ہوجاتا ہے ۔بس ضرورت ہے تو اس سبق کو عملی زندگی میں لانے کی۔​
 
Top