• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

جوہرِخاص

Zohaib

Member
ہر چیز اپنے ہونے کا ثبوت کسی نہ کسی صورت رکھتی ہے جس طرح ایک کمرے میں لائٹ اپنی روشنی سے موجود ہونے کا ثبوت دیتی ہے اسی طرح ہر انسان کاشوق بھی اُس میں اپنے ہونے کا ثبوت رکھتا ہے۔لیکن ہمارے معاشرے میں اس موضوع پر بات نہیں کی جاتی کہ پیشہ اور شوق ایک ہو ۔ جب بندے کو اپنے شوق کے بارے میں علم ہو تو اُس کے لیے اپناپسندیدہ پیشہ اختیار کرنا آسان ہوتا ہے۔ اور وہ ایک مخصوص کیفیت میں اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ زندگی کے جھمیلے اگر راہ کی رکاوٹ بن بھی جائیں اور آگے بڑھنے کا راستہ نہ بھی ملے تو وہ اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔ غالب اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’ دنیا کا خوش بخت انسان وہ ہے جس کا ذریعۂ معاش اور شوق ایک ہی ہو۔‘‘
ذریعۂ معاش اور شوق ایک ہونے سے زندگی با کمال ہوجاتی ہے۔کیونکہ دنیا کا ہر انسان کام سے تھکتا ہے لیکن محبت سے کوئی نہیں تھکتا یعنی کام سے محبت ہو تو تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا۔ شوق والے کام کو کرنا آسان ہوتا ہے،اس میں معاوضے کی پروا نہیں ہوتی، راستے خود بخود بننے لگتے ہیں، بندہ وقت کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے، معلومات ملنا شروع ہو جاتی ہیں، شوق سے متعلقہ لوگ اچھے لگنے لگتے ہیں۔ یہ دنیا آئینہ ہے ۔یہ آپ کو آپ کا اصل چہرہ دکھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اصل چہرے کی تلا ش تب ممکن ہوتی ہے جب بندہ دنیا کو دیکھتا ہے اور اس میں اپنی موٹیویشن اور انسپائریشن تلاش کرتا ہے۔ سوال اپنے اندر ہوتا ہے اندرہی اُٹھتا ہے جبکہ کائنات اس کا جواب دیتی ہے۔ انسان کی انسپائریشن بتاتی ہے کہ اس کے آنے والے دن کیسے ہوں گے۔ دوسرے ممالک نے ہمارے مقابلے میں پیشے اور شوق پر زیادہ تحقیقات کی ہیں اورہر پیشے کے متعلق ضروری صلاحیتوں کی جانچ پڑتال کی ہے جیسے ماہرِ نفسیات کے لیے ضروری ہے کہ وہ سننے میں اچھا ہو، اس کی آبزرویشن بہترین ہواور دوسروں کی نسبت ایکسپویر زیادہ ہو ۔اس کے علاوہ اسے انسانی روّیے کو پڑ ھنا اور سمجھنا آتا ہو۔ پیشہ اور اس کی ضروریات آپس میں ملیں تو کامیابی ممکن ہو جاتی ہے۔
شوق کی تلاش کے بارے میں سب سے پہلی تھیوری(ملٹی پل انٹیلی جنس ) 1986ء میں ہاورڈ گارڈنر نے پیش کی۔ اس تھیوری کے مطابق ’’ذہانت ایک نہیں نو طرح کی ہوتی ہیں اور یہ ہر شخص میں مختلف پائی جاتی ہے۔‘‘ اس کے بعد ’’جان ہالینڈ‘‘ نے اپنی تھیوری پیش کی۔ اس کے مطابق شخصیت کی تین سے چار اقسام ہوتی ہیں اس نے ان کی کیٹگر یز بنا دیں اور ٹیسٹ بنا دیے۔ ہمارے ملک میں ابھی تک ان تھیوریز پر بات نہیں ہوئی۔ صحیح پیشے کو اختیار کرنے کے متعلق جدید ترین تھیوری ’’ڈانلڈ کلفٹن‘‘ نے پیش کی،اس تھیوری کو اس کے پوتے ’’ٹام روتھ‘‘ نے ایک کتاب Strength Finderمیں یوں بیان کیا ہے کہ
ایک شخص میں چونتیس صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔ان میں پانچ طاقتور ہوتی ہیں اور زندگی انہی طاقتورصلاحیتوں کے گرد گھومتی ہے۔ ان صلاحیتوں کا اپنا اظہار ہے جیسے ایک صلاحیت جس کو ’’اچیور (Achiever)‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس صلاحیت کے حامل لوگ ہر وقت اچیوکر نے کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔ یہ لوگ روزانہ اپنے کام کو زیرو سے شروع کرتے ہیں۔ ان کا دل کرتا ہے کہ آج کچھ بڑا کام کر کے دکھایا جائے۔ٹام روتھ کہتا ہے کہ ایسے لوگوں کو سیل کے شعبے میں جانا چاہیے۔ ایسے لوگوں کو مارکیٹنگ کا کام کرنا چاہیے۔ جس شخص کو اچیومنٹ کے احساسات آتے ہیں وہ اچیور کی کیٹیگری میں آتا ہے۔ ایسے بندے کو اگر اس شعبے میں لگا دیا جائے جہاں پر اچیو منٹ ہی نہ ہو تو وہ اپنی بہترین کارکردگی نہیں دکھا پائے گاکیونکہ اُس کی خوراک ہی اچیومنٹ ہوتی ہے۔ ہمارے ہاںAptitudeٹیسٹ توہوتا ہے لیکنAttitude ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ہمارے ہاں آئی۔کیو چیک ہوتا ہے لیکن بندے کا رجحان کیاہے ،یہ نہیں دیکھا جاتا۔ شخصیت ڈگریوں سے نہیں بلکہ رُجحان اور صلاحیتوں سے معلوم ہوتی ہے۔
تعلیم انسان کو شوق سے روشناس کراتی ہے، لیکن ہمارا تعلیمی نظام اس پرزیادہ بات نہیں کر رہا۔ جدھر رجحان ہو تا ہے لوگ اسی طرف چل پڑتے ہیں اسی رحجان کی وجہ سے وہ مخصوص ڈگریاں حاصل کرتے ہیں ۔ پاکستان کے قیام کے وقت ہمارے پاس نہ زیادہ ڈاکٹر ز تھے اورنہ ہی انجینئرز۔ ان کی تعداد میں کمی کی وجہ سے ان کی مانگ میں اضافہ ہو ا جس کا نتیجے میں لوگوں کی اکثریت یہ سمجھنے لگی کہ شاید ڈاکٹر ز اور انجینئرز ہی اصل پیشے ہیں۔ دوسری طرف پرائیویٹ ادارے بھی سمجھ گئے کہ لوگ ڈاکٹرز اور انجینئرز بننا چاہتے ہیں انہوں نے بھی اس کی تشہیر کی جس کی وجہ سے نمبروں کی دوڑ شروع ہوگئی۔ان دو پیشوں میں لوگوں کا رجحان ہونے کی وجہ سے دوسرے پیشوں کی طرف دھیان نہیں دیا گیا۔ شوق کے ساتھ انسان بڑے خواب دیکھتا ہے۔ بڑے خواب دیکھنے کے لیے اُمنگ اور اُمید کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُمیدنہ ہو نے کی وجہ سے انسان بڑے خواب نہیں دیکھتے۔ آج ڈگری ہولڈرز کی بہت بڑی تعداد موجود ہے لیکن ان کے پاس اُمید نہیں ہے۔
شوق اور پیشہ ایک ہونے کے باوجود زندگی میں محنت کرنا پڑتی ہے۔ دنیا میں جس شخص نے بھی اپنا نام بنایا اس نے راستے کی ٹھوکریں ضرور کھائیں۔ محنت کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کا آغاز بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن اس کا اختتام بہت بڑاہوتا ہے ۔ہر بڑے انسان کی کہانی تکلیف کی داستان ہوتی ہے۔ ہزار غلطیوں کے بعد جا کر منزل ملتی ہے۔ جو شخص شارٹ کٹ کے چکر میں ہوتا ہے وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ جب تک بنیاد نہ بنے عروج نہیں ملتا۔ محنت کے بغیرپھل نہیں کھایا جا سکتا۔ میٹھا پھل کھانے کے لیے صبر کرنا پڑتا ہے۔میٹھا پھل کھانے کے لیے زندگی میں مقصد ہونا چاہیے۔ جب زندگی میں مقصد ہوتو بندہ صحیح راستے پر رہتا ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو زمانہ طالب علمی میں ہی یہ شعو ر دیناچاہیے کہ اگر آپ نے زندگی میں ترقی کرنی ہے تو اپنے شوق اور پیشے کو ایک کرو۔اگر شوق اور پیشہ ایک نہیں ہوگا توآپ زندگی میں زیادہ تر قی نہیں کر سکیں گے۔ بچوں کے والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنا ایکسپویر (Exposure)بڑھائیں۔آج بچے کو رزلٹ سے پہلے اپنی فیلڈ کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ کس فیلڈ کا کیا فائدہ ہے۔ جدید ترین تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا میں کن مضامین میں جاب کے مواقع زیادہ ہیں اور کن مضامین میں کم۔ ہمارا میٹرک کا بچہ لاعلم ہوتا ہے وہ مشورے پر چل رہا ہوتا ہے۔ وہ والدین کی خواہشوں کے تابع ہوتا ہے۔ہمارے تعلیمی نظام نے بے روزگار لوگوں کو اُستاد بنا کر مصروف کر دیا۔ ان اساتذہ میں بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن کا پڑھانے کے ساتھ تعلق نہیں ہے لیکن وہ جاب کی مجبوری کی وجہ سے اس شعبے میں آ گئے۔اُستاد وہ ہوتا ہے جو نفسیات جانتا ہو ،جو جانتا ہوکہ کسی کو خود شناس کیسے کرنا ہے۔ ایک اچھے خود شناس انسان کا ساتھ خود شناسی کو ممکن بنا دیتا ہے۔خودی کی اہمیت پرایک جگہ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں:
’’خودی کسی شئے کا وہ جوہرِخاص ہے جس کے نہ ہونے سے وہ شئے نہیں ہوتی۔‘‘
تعلیم وہ چیز ہے جو لوگوں کے لیے جوہرِخاص کی تلاش ممکن بناتی ہے اور جس سے خود شنا س لوگ پیدا ہوتے ہیں۔آج تعلیم ہے لیکن خودشناسی نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے اندر دیکھیں گے ، اپنی تلاش کریں گے، اپنی صلاحیتوں کو دریافت کریں گے اوراپنی انسپائریشن دریافت کریں گے تو سمت بنے گی۔ سمت ہوگی تو منزل آئے گی اگر سمت نہ ہو تو پھر منزلیں نہیں آیا کرتیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صحیح پیشے کے انتخاب کے متعلق کام کرے اور اس کو تحریک کی شکل دے۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری قبول کر لے اور تعلیمی اداروں میں سیمینارز کروائے تو بہت بہتری آئے گی۔والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے خوابوں کا قتل نہ کریں بلکہ بچوں سے کہیں کہ وہ اپنے خوابوں کی پیروی کریں۔ا نہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آ پ کوجس کام کے لیے بھیجا ہے اور جس منزل پر آپ نے پہنچنا ہے آپ وہ کام کریں۔ ہم اپنے بچوں کے بارے میں دوستوں اور عزیز و اقارب سے پوچھتے ہیں ۔ ہمیں کبھی اپنے بچوں سے بھی پوچھنا چاہیے کہ ان کا دل کیا بننے کو کرتا ہے۔ ہرشخص دنیا میں کسی خاص مقصد کے لیے آیا ہے، وہ مقصد تب ہی پورا ہوگا جب وہ اپنے خوابوں کا پیچھا کر ے گا۔ پیسہ کمانا چھوٹی کامیابی ہے لیکن زندگی میں خوش اور مطمئن ہونا زیادہ بڑی کامیابی ہے۔ اگر آپ کام شوق سے کرتے ہیں تو خوش بھی رہیں گے اور زندگی میں کامیاب بھی ہوں گے۔
 
Top