• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE
بڑی عجیب لڑکی ہے
کسی سے کچھ نہیں کہتی
زندگی کی تلخیوں کو
چپ چاپ ہے سہتی
بڑا ہے حوصلہ اس کا
جو اتنے دُکھ چھپاتی ہے
غموں سے چور ہو کر بھی
ہمیشہ مسکراتی ہے
صبر جب حد سے بڑھ جائے
درد جب سر کو چڑھ جائے
تو وائیلن تھام لیتی ہے
اور اکثر ایسا کرتی ہے
بجاتی ہے دُھنیں دِلسوز
اور من کو ہلکا کرتی ہے
نہیں سمجھتی وہ ناداں
درد، درد ہی رہتا ہے
چاہے بدل بھی لو
اندازِ بیاں
میں چاہتا ہوں وہ اپنا سر
اُٹھا کر اپنے وائیلن سے
رکھ دے میرے کاندھے پر
میں چاہتا ہوں کہ وہ لڑکی
اپنے وائیلن کو توڑے
اپنے سارے دُکھ سکھ وہ
میرے ذات سے جوڑے
(شاعر: طارق اقبال حاوی)​
 
Top