• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

برداشت اور صبر میں فرق

Ali Raza liaqat

Administrator
ہمارے معاشرے میں جہاں اور بہت ساری کم فہمیاں عام ہیں وہیں ایک چیز اور بھی ہے جس میں ہم زیادہ فرق نہیں کرتے اور عموماً اس کا درست مفہوم نہیں سمجھا جاتا۔وہ ہے برداشت اور صبر ،ان دونوں میں بہت واضح فرق ہے ۔ برداشت کا مطلب ہے کہ انسان یوں کہے:’’میں کچھ نہیں کرسکتا،میں بے بس ہوں اور بے بسی کی وجہ سے کھوکھلے پن کا شکار ہوں۔‘‘ جبکہ صبر کا مطلب اس سے بہت مختلف ہے۔اس کا معنی ہے کہ انسان تکلیف میں رہتے ہوئے بھی اللہ پر توکل کرے او ریہ یقین رکھے کہ اچھا وقت آنے والا ہے۔یعنی وہ اچھی امید جو انسان نے اللہ سے باندھی ہوتی ہے اس کا نام صبر ہے ۔
اسلام میں بھی ہمیں صبر کا حکم ہے برداشت کا نہیں ۔ اگرکوئی مشکل آگئی ہے تواس میں گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔اسی طرح اگر کوئی پریشانی آگئی ہے تواس میں بھی پریشان نہیں ہونا ۔صبر کا مظاہرہ کرنے سے ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ صبر میں ایمان کو نقصان نہیں پہنچتا جبکہ برداشت میں ایمان کے ختم ہونے کا اندیشا ہوتا ہے۔لہٰذا ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ میرے اوپر جو سخت حالات آئے ہیں، اس کا اجراللہ نے بہت اچھے انداز میں دینا ہے۔جب انسان کا ایمان یہ ہو کہ میرا رب میری اس مشکل کو جانتا ہے اور وہ میرے ساتھ ہے تو پھر اس کا یہ ایمان اس مشکل وقت کو ختم کردیتا ہے اور اس کے بعد اچھا وقت بھی لے آتا ہے۔
مشکل وقت میں صبر اور ایمان کے دامن کو تھامے رکھنا، دراصل امتحان ہے ۔اچھے حالات میں ہر انسان خوش ہوتا ہے مگر جب حالات خراب ہوجائیں تب انسان کا پتا چلتا ہے ۔برتن ہلنے پر ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کیا پڑا ہواہے ۔ زہر پڑاہوتو نکل آتا ہے اور اگر شہد ہوتو بھی نکل آتا ہے ۔اسی طرح انسان کے ظرف کے برتن کا پتا بھی تب لگتا ہے جب اس پر ٹف ٹائم آجائے ۔پھر اگر اس کا ظرف اعلیٰ ہو تو وہ صبر کرے گا اور اگر ظرف کمزور ہو تو پھر وہ گلہ شکوہ اور مایوسی کا شکار ہوگا۔
جاپانی قوم کے ایک قبیلے میں یہ رواج ہے کہ جب ان کا برتن ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی دراڑ کو سونے سے بھردیتے ہیں۔ہمیں بھی اس بات پر ایمان رکھنا چاہیے کہ جس انسان کا دِل ٹوٹ جائے تواللہ اس کا ساتھ زیادہ دیتا ہے اوراس کو اپنے فضل و کرم سے جوڑ دیتا ہے۔ٹوٹے دِل سے اللہ زیادہ محبت کرتا ہے ۔جس کا دِل ٹوٹ جائے تو اس کو تڑپ مل جاتی ہے اورپھر تڑپ والے سجدے کے ذریعے وہ اپنے رب سے سب کچھ منوالیتاہے۔تڑپ کا سجدہ اللہ کی عطا اور اس کا انعام ہے ۔اقبال ؒ کوجب اس راز کا علم ہوا تو فرمایا:
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیزتر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

اللہ کو ایسی بے بسی بہت پسند ہے جس میں آپ اللہ کے زیادہ قریب ہوجائیں ۔وہ مشکل بہت اچھی لگتی ہے جس میں انسان اپنے اللہ کو یاد کرلے۔ماں اگر بچے کو ایک تھپڑ ماردے تب بھی بچے کے منہ سے ’’ماں ‘‘ ہی نکلتا ہے ۔ایسا ہی اللہ والے کو اگر کوئی تکلیف آتی ہے تواس کے منہ سے ’’اللہ‘‘ ہی نکلتا ہے اور یہ اللہ کے دَر کا سوالی ہونا بذاتِ خو د اللہ کی عطا اور اللہ کا انعام ہے ۔میری دعا ہے کہ اللہ ہمیں فقط اپنے دَر کا سوالی بناکر رکھے تاکہ ہمیں دوسرے دَروں پر جھک کر رسوا نہ ہونا پڑے۔اللہ کے دَر کا سوالی پھر کسی اور دَر کی طرف دیکھتا بھی نہیں ۔واصف علی واصف ؒ کا جملہ ہے کہ
’’ اگر آنکھ کھل جائے تو انسان اس مشکل کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے جس نے اللہ کا رستہ دیاہوتا ہے۔‘‘اس گناہ کا بھی شکریہ اداکرتا ہے جس کے بعد توبہ کی توفیق ملتی ہے اور انسان رب کے دَرتک پہنچتا ہے۔
ہم ان کے پاس گئے حرفِ آرزو بن کر
حریم ناز میں پہنچے تو بے نیاز ہوئے

کہ ہم تواپنی بات کرنے گئے تھے مگر جب وہاں پہنچے تو ان کے حرم میں دِل لگ گیا ،پیشانی سجدہ ریز ہوگئی ، بندگی کا حق ادا ہوگیا ،پھر خواہشیں پیچھے رہ گئیں اور رب سے آشنائی اور شناسائی ہوگئی ۔یاد رکھیں!خواہشات کو قربان کرنا بڑا پن ہے ۔خواہشات کو ترک کرنا ہی بڑا پن ہے ۔اپنا حق چھوڑدینا ہی بڑا پن ہے اور بندۂ مومن وہی ہے جو ہمیشہ بڑے پن کا مظاہرہ کرے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم سب اپنی خواہشات پوری کرواکر ایمان پر قائم رہنا چاہتے ہیں ،حالانکہ خواہشات کبھی پوری ہوتی ہیں اورکبھی نہیں ۔اگر پوری ہوجائیں تو اللہ کا شکر گزار بندہ بن جانا چاہیے اور اگر نہ ہوں تب بھی ہمیں اسی کواپنا رَب مان لینا چاہیے ۔
اہلِ اسلام کو جس طرح نمازکا حکم ہے اس طرح صبر کا بھی ہے۔کاش کہ ہمارے منبرومحراب سے نماز کے ساتھ ساتھ صبر کے بارے میں بھی تبلیغ ہو تو پھرپورا معاشرہ امید سے بھر جائے گا۔آج اس مایوسی اور ناامیدی کی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم میں صبر نہیں ہے ۔میاں محمد بخش کا شعر ہے کہ
صبر دا پھل میٹھا ہونداتے بے صبرا پھل کوڑا
منزل نوں وہ پا نئیں سکدا جیڑا پے جانداں اے سوڑا

جلد باز انسان منزل کو نہیں پاسکتا ، صبر کرنے والے ہی منزلوں پر پہنچتے ہیں ۔​
 
Top