• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں گدھے کے گوشت کی مانگ میں اضافہ کیوں؟

انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں ان دنوں گدھے کی طلب بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بھینس اور بکری کے مقابلے گدھی کا دودھ بہت مہنگا فروخت ہورہا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ پوری ریاست میں مرغے اور بکرے کے گوشت کے ساتھ ساتھ گدھے کے گوشت کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ دیھکنے میں آیا ہے۔
بعض افراد کا کہنا ہے کہ وہ گدھی کے دودھ کا استعمال اپنی ’صحت بہتر کرنے کے لیے‘ کررہے ہیں جبکہ ان کا خیال ہے کہ گدھے کا گوشت کھانے سے ’جنسی قوت میں اضافہ‘ ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق گدھی کا دودھ صحت کے لیے مفید ہوتا ہے لیکن اس کا گوشت کھانے سے جنسی قوت پر اثرات کے کوئی سانئسی شواہد نہیں۔

آندھرا پردیش کے متعدد اضلاع میں گدھے کے گوشت کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاست میں جانوروں کے تحفط کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'اینیمل ریسکیو آرگینائزیشن' کے مطابق ریاست میں گدھوں کے غیرقانوی کاروبار میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
تنظیم کے اراکین کے مطابق لوگوں کا ماضی میں بھی یہ یقین تھا کہ گدھی کا دودھ پینے سے کوئی بیماری نہیں ہوتی اور اس کا گوشت کھانے سے جنسی قوت بڑھتی ہے لیکن حال میں گدھوں کی ڈیمانڈ میں زبردست اضافہ ہوا۔
گدھے

طبی ماہرین کے مطابق گدھی کا دودھ صحت کے لیے مفید ہوتا ہے لیکن آیا اس کا گوشت کھانے سے جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے اس کے کوئی سانئسی شواہد نہیں ہے۔
تنظیم کے سربراہ سرباتولہ گوپال نے بی بی سی کو بتایا ’گدھے کے گوشت کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے۔ اس لیے اس کے گوشت کی دکانیں بھی بہت کھل گئی ہیں۔ دوسری ریاستوں کے مقابلے آندھرا پردیش میں گدھوں کی تعداد کم ہے، اس لیے اب انھیں دوسری ریاستوں سے خرید کر یہاں لایا جارہا ہے۔‘
گدھے کا گوشت کھانے لائق ہوتا ہے؟
گوپال کا مزید کہنا تھا کہ ’آندھرا پردیش میں ایک گدھے کی قیمت 15 ہزار سے 20 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اس لیے دوسری ریاستوں کے لوگ یہاں آکر اپنے گدھے فروخت کررہے ہیں۔
’حال ہی میں انڈیا کے مختلف علاقوں میں گدھوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اور اگر یہی حال رہا تو جلد ہی گدھے صرف چڑیا گھر میں دیکھنے کو ملیں گے۔‘
ایک اندازے کے مطابق آندھرا پردیش میں فی الوقت صرف 5000 گدھے موجود ہیں۔
گوپال مزید بتاتے ہیں کہ ’فوڈ سیفٹی سٹینڈرڈ 2011 کے ضوابط کے مطابق گدھے اپنے گوشت کے لیے یا انھیں فروخت کرنے کے لیے نہیں پالا جاتا ہے، اس لیے اس کا گوشت فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا ہوسکتی ہے۔‘
سرباتولہ گوپال

لیکن یہاں گدھے کا گوشت فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ اور اس سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا ہوسکتی ہے
ریاست کے شہر وشاکھاپٹنم کے میونسپل کاروپوریشن کے فوڈ انسپیکٹر اپپا راؤ نے بتایا کہ ’خوراک سے متعلق قوانین کے تحت گدھے کا دودھ یا گوشت انسانوں کی خوراک کی فہرست میں شامل نہیں۔ ابھی اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ اس کو کھانے سے کیا ہوتا ہے، اس لیے اس کو کھانے کی فہرست میں رکھا ہی نہیں گیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی گوشت یا کھانے کی دیگر چیز کو اس وقت انسانوں کے لیے صحیح قرار دیا جاتا جب اس کا سائنسی ٹیسٹ کر کے اس بات کی تصدیق کرلی جاتی ہے کہ وہ انسانوں کے لیے مفید ہے یا اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا
آندھرا پردیش میں گدھی کا دودھ فروخت کیا جانا عام بات ہے

گذشتہ ایک برس میں 5000 گدھے غائب
ریاست میں جانوروں کی پرورش سے متعلق محکمے کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر گوپال کرشنا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’2019 کی جانوروں کی مردم شماری کے مطابق ملک بھر میں گدھوں کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار تھی جبکہ آندھرا پردیش میں صرف پانچ ہزار گدھے تھے۔
’2012 کے سروے کے مطابق آندھرا پردیش میں 10 ہزار گدھے تھے یعنی سات برسوں میں گدھوں کی تعداد میں پانچ ہزار کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یعنی اس میں پچاس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ پورے ملک میں گدھوں کی تعداد میں 61 فیصد کمی درج کی گئی ہے۔‘
گدھے

جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو تشویش ہے کہ جلد ہی ریاست میں گدھے دیکھنے کو نہیں ملیں گے
گدھوں کی غیر قانونی تجارت
آندھرا پردیش میں گدھوں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے، اس لیے غیر قانونی طریقے سے دوسری ریاستوں سے گدھے لاکر انھیں یہاں فروخت کرنے کا کاروبار بڑھ گیا ہے۔
گذشتہ دنوں پولیس نے ممبئی سے لائے گئے آٹھ گدھے برآمد کیے تھے اور گذشتہ ہفتے پولیس نے ریاست کے ڈاچاپلے علاقے میں 39 گدھے برآمد کیے تھے۔ تاہم جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے کارکنوں کا خیال ہے کہ حقیقت میں گدھوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا غیر قانونی کاروبار ہو رہا ہے۔
اینیمل ریسکیو آرگینائزشن سے منسلک کشور نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک گلاس چائے بنانے کے لیے جتنے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے، گدھی کے اتنے دودھ کی 50 سے 100 روپے ہے۔
’جبکہ اس کا گوشت 500 سے 700 روپے فی کلو میں فروخت ہوتا ہے۔ بعض لوگ دوسری ریاستوں سے غیر قانونی طور پر گدھوں کو یہاں لاکر فروخت کرتے ہیں اور زیادہ رقم بناتے ہیں۔‘
ڈور ٹو ڈور دودھ کی سپلائی
آندھرا پردیش کے متعدد ایسے اضلاع ہیں جہاں گھر گھر گدھی کی دودھ کی سپلائی ہوتی ہے۔ جبکہ بعض ایسے بازار ہیں جہاں کھلے عام گدھے کا گوشت ملتا ہے۔
گھر گھر جاکر گدھی کا دودھ فروخت کرنے والے ننچار نے بتایا کہ ’اگر ہم برتن میں گدھی کا دودھ لے کر لوگوں کے گھر جاتے اور بتاتے ہیں کہ یہ گدھی کا دودھ ہے تو کوئی یقین نہیں کرتا۔
’اس لیے ہم اپنے ساتھ گدھی کو لے کر جاتے ہیں اور وہیں ان کے سامنے گدھی نکال کر دیتے ہیں۔ راجستھان کے ہم چالیس لوگوں کا خاندان ہے اور وہ یہی کام کرتے ہیں۔ اس کے دودھ سے کئی بیماریاں صحیح ہوجاتی ہیں۔ گذشتہ بیس برسوں سے ہم لوگ یہ کاروبار کررہے ہیں۔‘
وجے واڑا کی دواما نے بتایا کہ ’گذشتہ 25 سالوں سے مجھے سانس لینے میں تکلیف تھی۔ جب سے میں نے گدھی کا دودھ پینا شروع کیا ہے تب سے میری تکلیف کم ہوگئی ہے۔ اب تو ہم اپنے بچوں کو بھی یہی دودھ دیتے ہیں۔ ہم لوگ اس کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ مجھے آج تک کوئی پریشانی نہیں ہوئی ہے۔‘

گدھی کے دودھ سے جنسی قوت میں اضافے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے، لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گدھے کے دودھ میں وٹامن ڈی اور فیٹی ایسڈ ہوتے ہیں۔
گوشت کے لیے گدھوں کی چوری
آندھرا پردیش سمیت انڈیا بھر میں پہلے گدھے کا استعمال سامان لے جانے کے لیے ہوتا تھا۔ لوگ گدھوں کی مدد سے ریت اور مٹی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتے تھے۔
وجے نگرم ضلع کی پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے سے متعدد بار گدھے کے چوری ہونے کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ چوری کر کے گدھوں کو ان علاقوں میں بیچ دیا جاتا ہے جہاں اس کے گوشت کی ڈیمانڈ زیادہ ہے۔
گدھی کے دودھ سے جنسی قوت میں اضافے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے، لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گدھے کے دودھ میں وٹامن ڈی اور فیٹی ایسڈ ہوتے ہیں۔
ریاست کے نامور طبی ماہر کوٹی کوپالا راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گدھے کے دودھ میں جو پروٹین ہوتا ہے اسے پروٹین کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ جن بچوں کو گائے یا بھینس کے دودھ سے ایلرجی ہوتی ہے ان کو یہ دودھ دیا جاسکتا ہے۔
’لیکن اس کا گوشت کھا کر جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ حقیقت میں گدھوں کے گوشت میں ایسی کوئی خاصیت موجود نہیں ہے۔‘​
 
Top