• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Question انسان رحمتِ خداوندی میں کب آتا ہے؟

Ali Raza liaqat

Administrator
انسان رحمتِ خداوندی میں کب آتا ہے؟

اگر آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو کس درجے اور مقام پر رکھا ہوا ہے تو یہ دیکھیں کہ اللہ آپ سے کام کیا لے رہا ہے۔یہ بہت بڑا سوال ہے ۔کبھی کبھی سوچنا چاہیے کہ اللہ مجھ سے کوئی کام لے رہا ہے یا نہیں ؟اگر کام نہیں لے رہا تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے مجھے کسی بڑی منزل کے لیے منتخب نہیں کیا۔جب بھی وہ آپ کو کسی بڑی منزل کے لیے منتخب کرلے گاتو وہ آپ کو چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں دینا شروع کردے گا۔
انسان اللہ کے نظرِ کرم میں کیسے آتا ہے ، اس کی مناسبت سے ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک بادشاہ روزانہ دو گھنٹے کے لیے اپنے شاہی محل کی کھڑکی سے باہر کا نظارہ دیکھتا تھا ۔ محل کے سامنے والی شاہراہ پر ایک شخص پرانی سی سائیکل پر روز گزرا کرتا اور ساتھ میں بادشاہ کو ہاتھ کے اشارے سے سلام بھی کیاکرتا۔بادشاہ چونکہ اپنے جاہ وجلال میں ہوتا تھا اس لیے جواب نہ دیتا مگر اس شخص کا سلام کرنا اس کو بھلا بھی لگتا ۔پھر یہ رو ز کا معمول بن گیا ۔وہ شخص روز گزرتا اور روز ہی سلام کرتا۔بادشاہ اس شخص کے سلام کا اس قدر عادی ہوگیا کہ پھر وہ بھی عین اسی وقت کھڑکی میں کھڑا ہوجاتا۔ان کا یہی معمول جاری رہا اور پھر ایک دِن سائیکل سوار کی خوشی کی انتہاء نہ رہی جب بادشاہ کی طرف سے اس کے سلام کا جواب آگیا ۔
ہمارا کام بھی فقط یہ ہے کہ اپنی پرانی سائیکل کی صورت میں اپنی معمولی محنت وخلوص کے ساتھ رب کی بارگاہ میں باربارحاضری دیتے رہا کریں توایک دِن آئے گاکہ اس کی رحمت ہماری طرف متوجہ ہو ہی جائے گی ۔رب جب دیکھتا ہے کہ میرا یہ بندہ کتنے عرصے سے لگا ہوا ہے اور مسلسل محنت کررہا ہے توپھر وہ اپنی شان دکھاتا ہے اورپھر جب اس کا فضل و کرم کسی انسان پر ہوتا ہے تو پھر اس کو عظیم بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔یہی فضل پھر عام سے انسان کو محمد علی جناح بنادیتا ہے۔عام سے طالب علم کوعلامہ محمد اقبال بنادیتاہے۔یہ میرے اور آپ کی طرح عام سے لوگ تھے ۔ان کی زندگی میں بھی پریشانیاں تھیں ، سخت اور مشکل ترین حالات تھے اور 1896 ء کا سال تو محمد علی جناح کے لیے بہت مشکل ترین تھا کہ اس سال ان کی والدہ بھی فوت ہوئی اور بیوی بھی۔اِن کو ساری زندگی یہ دُکھ رہا کہ کاش وہ اپنی والدہ کا آخری دیدارکرلیتے مگر شاید تقدیر میں نہیں تھا ۔یہ سب مشکل حالات ہونے کے باجود بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔وہ اپنی محنت اور خلوص کو بار بار رب کے سامنے پیش کرتے رہے اور پھر ایک دِن رب کورحم آہی گیا اور پھرساری دنیا نے دیکھا کہ ایک عام سا وکیل ،قوم کا بانی اور قائد بن گیا۔
یاد رکھیں کہ توفیق بھی انہی کو ملتی ہے جو بار بارمالک کی نظر سے گزرتے رہتے ہیں اور جس نے کبھی ایسا کام ہی نہیں کیا توپھر اس کو بڑے کام کے لیے قبولیت بھی نہیں ملتی ۔آپ اپنی زندگی میں کوئی ایک کام اللہ کے لیے کرنا شروع کردیں،چاہے وہ کسی کو سلام کرنا ہو ، راستے سے پتھر ہٹانا ہویاکسی کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہوں ، پھر دیکھیں آہستہ آہستہ آپ کے سارے کام اللہ کے لیے ہونے لگ جائیں گے اور پھر چاہے آپ استاد ہیں ، انجینئر ہیں یا ڈاکٹر ،آپ ایک ایسے قالب میں ڈھل جائیں گے کہ ترقی کے راستے آپ کے لیے کھلنا شروع ہوجائیں گے ،کیونکہ جو اللہ کا بن جاتا ہے ،اللہ اس کا بن جاتا ہے۔​
 
Top