• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE
اس عید پہ میں نے سوچا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو کرنا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو دِکھنا ہے
کچھ الگ سا اب سنورنا ہے
میں نے پوری کیں ہمیشہ ہی
اپنی دولت سے اُمیدیں اپنی
گزاری ہیں پہلے کتنی ہی
نئے کپڑوں میں عیدیں اپنی
مگر اب جو دَورِ وبا آیا
تو مجھے بھی یاد خدا آیا
فکریں جو حد سے بڑھ جائیں
جب قرضے سر پر چڑھ جائیں
جو بھوک اور فکر میں جکڑے ہیں
جن کے تن پر پرانے کپڑے ہیں
ان کی اُمیدیں ہوتی ہیں
خاموش سی عیدیں ہوتی ہیں
مگر اب کے سوچا ہے میں نے
جتنی بھی میری دولت ہے
میرے رب ہی کی بدولت ہے
حقداروں میں دے کر مجھ کو
دُعا ان کی لے کر مجھ کو
سکون سا دل میں بھرنا ہے
اس عید پہ میں نے سوچا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو کرنا ہے
شاعر: طارق اقبال حاوی
 
Top