• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information Work hard on children's habits! (بچوں کی عادات پر محنت کریں)

بچوں کی عادات پر محنت کریں

دنیا کے تمام مشاغل اور کاموں میں اگر کوئی بہترین اور حساس کام ہے تو وہ بچوں کی تربیت ہے ۔تمام والدین کی یہ بھرپور خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ ایک بہترین انسان بنے
جس کی دنیا بھی اچھی ہو اور آخرت بھی۔اس مقصد کے لیے وہ ہرممکن کوشش کرتے ہیں اور اسی فکر میں سرگرداں نظر آتے ہیں ۔گزشتہ آرٹیکل میں ہم نے والدین کی کچھ عمومی غلط فہمیوں کی نشاندہی اور ان کے حل کے بتائے تھے ۔آج کی اس نشست میں ہم ’’عادات ‘‘ کے بارے میں اہم عوامل سپردِ قلم کریں گے۔

عادات کیا ہوتی ہیں :
انسان کا ذہن دو چیزوں کی بنیاد پر کام کرتاہے ، ایک کو شعور اور دوسرے کو تحت شعور کہتے ہیں ۔شعور وہ ہے جس کے ذریعے انسان اندازہ ،احتیاط اور حساب کتاب کا کام کرتا ہے جبکہ تحت شعور میں انسان کی عادات ،نظریات ، طرزِ زندگی ، یقین اور بنیادی حافظے کی چیزوں کے ساتھ ساتھ 80فی صد عادات بھی پڑی ہوتی ہیں ۔انسان دن بھر میں جتنی عادات بھی سرانجام دیتا ہے، وہ تحت شعور کی بدولت ہی دیتا ہے جبکہ باقی 20فی صدعادات اسے شعور کی مدد سے بنانی پڑتی ہیں۔اگر یہ 20فی صد کا مارجن نہ ہو تو پھر انسان پولیس یا فوج میں بھرتی نہیں ہوسکتا اور ٹریننگ و تربیت کانتیجہ ہی ختم ہوجائے گا،کیونکہ ٹریننگ کے دوران کوئی بھی انسٹرکٹر اسی 20فی صد کے مارجن میں چیزوں کو رکھتا ہے اور اس کی عادات بناتا ہے ۔اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ جو انسان جبلتاً خراب ہے تو پھر اس کو درست کرنا مشکل ہے۔اس کو صرف ایک ہی ذریعے سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے انسپائریشن اور مضبوط قوتِ ارادی ۔خوش قسمتی سے اگراس کی زندگی میں کوئی انسان ایسا آجائے جس سے وہ انسپائر ہوجائے یا اس کی اپنی Will powerاتنی زبردست ہو کہ وہ اپنی عادات کے خلاف کھڑا ہوجائے تو ٹھیک ورنہ ۔۔اس کی عادت بدلنا بڑا مشکل ہے۔
والدین اپنی تربیت میں دراصل اپنے بچوں کو عادت دے رہے ہوتے ہیں۔آپ نے جتنی اچھی عادات اپنے بچوں کو دی ہوتی ہیں اتنے ہی وہ کامیاب ہوتے ہیں۔بھارت کے سابق صدرعبد الکلام کاکہنا ہے کہ ’’آپ اپنے مستقبل کو نہیں بدل سکتے مگر اپنی عادات بدل کر اپنا مستقبل بہتر کرسکتے ہیں۔‘‘اسی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عادات کی ترقی کا نام تربیت ہے ۔
بچوں کو عادت کیسے دی جاتی ہیں؟

والدین مندرجہ ذیل عوامل کی بناء پر اپنے بچوں کو عادات دے سکتے ہیں:

(۱)Pain & pleasureپرنسپل :
انسان کا دل ہمیشہ اس چیز کو پسند کرتا ہے جس میں اس کو مزہ آتا ہے اور اس کو ناپسند کرتا ہے جس میں اس کو تکلیف ملتی ہے ۔ انسان کی عادات بھی وہی بنتی ہیں جن میں اس کو سرور مل رہا ہو اور جن کاموں میں تکلیف ہو تو وہ اس کو عادت نہیں بناتا۔
بچوں میں نئی عادات پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان عادات کو دلچسپ بنایا جائے۔

(۲)حوصلہ افزائی :
والدین اپنے بچوں کی جس کام پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں ،وہ آہستہ آہستہ ان کی عادت بن جاتی ہے۔آج سے آپ ایک لسٹ بنائیں کہ کن کن چیزوں پر آپ نے شاباشی اور حوصلہ شکنی کرنی ہے۔دراصل حوصلہ افزائی اور تنقید دو ایسے اوزار ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے بچوں کی عادات بنارہے ہوتے ہیں ۔مثال کے طورپر آپ کے بیٹے نے آپ سے کہا:’’بابا آپ نے جوپیسے دیے تھے ،وہ میں نے خرچ کردیے ۔‘‘ آپ نے پوچھا کہ کہاں خرچے؟وہ بتاتا ہے کہ ’’ بابا! چھوٹی بہن کی سالگرہ تھی میں نے اس کے لیے گفٹ لے لیا۔‘‘ اب یہ وہ مقام ہے جہاں آپ کاکوئی بھی ردِعمل بچے کو اچھایا برا بناسکتا ہے ۔ اگرآپ نے کہا :’’ بہت خوب! بہنوں کے لیے ایسا ہی کرنا چاہیے۔‘‘ تو آئندہ وہ دوسروں کی مدد کرے گا،لیکن اگر آپ نے کہا: ’’ میں نے تمہیں دیے تھے ،تم نے بہن پر خرچ کردیے،تمہیں ضرورت ہی کیا تھی ؟؟‘‘تو یہ الفاظ سننے کے ساتھ ہی اس کے ذہن میںیہ بات بھی بیٹھ جائے گی کہ’’ احساس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘
یاد رکھیں !برائی کی شاباشی بڑی برائی کو پیدا کرتی ہے اور اچھائی کی شاباشی بڑی اچھائی کو پیدا کرتی ہے۔

بچوں کو ایک ہدف دیں اور ان سے مستقل وہ کام کروائیں ،کرتے کرتے وہ ان کے شعورمیں موجو د عادات ، نظریات اور ایقان میں تبدیل ہوجائے گا۔ مثلاً آپ نے ان سے کہا :’’بیٹا! معاف کرنا
چاہے ۔‘‘ وہ شاید کہہ دے کہ یہ مشکل کام ہے مگر آپ نے اس سے کئی بار معاف کرایا اور وہ معاف کرنا اس کی عادت بن گئی تو پھر اس کی زندگی بدل جائے گی ،کیونکہ پھر اس کومعاف کرنے پر زور نہیں لگانا پڑے گا،بلکہ لاشعوری طورپر وہ اس کو کرگزرے گا۔

بہترین عادات میں سے ایک عادت Proactivenesبھی ہے یعنی وقت سے پہلے تیار ہونا،اس کے ساتھ ساتھ کچھ چیزوں سے بے فکری بھی دے دیں ۔ہم نے بچوں کو سب سے بڑی فکر یہ دی ہے کہ’’ لوگ کیا کہیں گے؟‘‘حالانکہ یہ سوچ اس معاشرے کے سینکڑوں اور ہزاروں بیماریوں کی جڑ ہے۔

ہر بچے کو اللہ نے کوئی نہ کوئی انرجی دی ہوتی ہے، جس کو ٹیلنٹ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کو دریافت کرنا اور اس کے مطابق اس کو مصروفیت دینا یہ والدین کی اہم ذمہ داری ہے ۔
کسی بھی انسان کواگر پیشن کے ساتھ پروفیشن نہ ملے تو وہ ضائع ہوجاتاہے۔بچے کی انرجی معلوم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کو سنا کریں،اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اورپھر اس کے بعد ان کو سہولت بھی دیں ،یعنی ان کے پیشن کے مطابق ان کو ماحول دیں اور ان کو اپنے ٹیلنٹ کے مطابق رول ماڈلز سے ملوائیں ۔اس کے خوابوں کے شہزادے سے ان کی ملاقات ضرور کروائیں ۔جب بچوں کو آپ نے مختلف شخصیات سے ملوایا ہوتا ہے تو ان کے لیے اپنا آپ ڈھونڈنا انتہائی آسان ہوجاتاہے۔بچوں کو اچھا بنانے کے لیے ضروری ہے کہ والدین خوداچھے بنیں۔جدید ریسرچ کے مطابق والدین کی 65فی صدعادات بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔وہ تمام خوبیاں جو آپ اپنے بچوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے اپنے اندر پیدا کریں ۔
آپ کا بچہ درست ٹریک پر ہے ؟

آپ کابچہ درست ٹریک پر چل رہا ہے یا نہیں ،یہ معلوم کرنے کے لیے تین چیزیں دیکھنا ضروری ہیں۔

)ملنسار ی اورسماجی ذہانت:
آپ دیکھیں کہ اس میں ملنساری اور سماجی ذہانت (سوشل جینیس)کتنی ہے ؟اس موضوع پر ایک کتاب Get to the top کے نام سے موجود ہے جس میں ان لوگوں کی ترقی کے بارے میں معلومات ہیں جن کے اندر سماجی ذہانت اچھی تھی ۔اگرآپ کے بچے میں سوشل جینییس موجود ہے تو آپ مطمئن ہوجائیں۔زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور جس بچے میں سماجی ذہانت ہوگی تو یقینی طورپر وہ آگے بڑھ سکے گا،کیونکہ اس کے لیے ٹیم بنانا اور لوگوں کو ساتھ ملاکر چلنا آسان ہوتا ہے۔
میں نے اپنی تدریسی زندگی میں تقریباًچھ سات ہزار بچوں کو پڑھا یا ہے ،جو بچے لوگوں سے دور رہتے ہیں یا جب مہمان آجائیں تو وہ پڑھنا شروع کردیتے ہیں ، ان کوعملی زندگی میں ناکام دیکھا ہے ۔سماجی ذہانت اتنی طاقتور چیز ہے کہ وہ آپ کے گرد میلا لگادیتی ہے ۔اشفاق صاحب کا جملہ ہے کہ ’’انسان اگر سچا ہو اور وہ جنگل میں بھی بیٹھ جائے تو لوگ پگڈنڈیاں بناکراور چل چل کر اس تک پہنچ جاتے ہیں ۔‘‘

(۲)قوتِ ارادی:
آپ کبھی اپنے بچے کے پاس بیٹھ کر اس چیز کی لسٹ بنائیں کہ وہ خود سے کتنا سوچتا ہے اور کتنا کام کرتا ہے ۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر قوتِ ارادی موجود ہے ۔اسی قوت کی بدولت وہ نئے اقدامات کرکے زندگی میں آگے بڑھے گا۔

(۳)قربانی:
دیکھیں کہ آپ کابچہ قربانی کتنا دیتا ہے ،بانٹتا کتنا ہے اوراپنے جیب خرچ سے کتنے لوگوں کو کھلاتا ہے؟اگر یہ اوصاف ہیں توپھر اگرچہ وہ اسکول میں نمبرکم لے لے لیکن وہ زندگی میں ترقی کرے گا کیونکہ اس کے اندر قربانی کا جذبہ ہے۔

)سیکھنے کا شوق:
یہ بات معلوم کرنے کے بے شمار طریقے ہیں ۔آ پ ایک انسان کو آزاد چھوڑدیں توجو وہ کرتا ہے اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کوکس چیز کی طلب ہے۔آپ بھی اپنے بچوں کی سرگرمیوں کو نوٹ کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ ان میں کن چیزوں کے سیکھنے کا شوق ہے ۔یہی شوق ہی ان کو آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔

)انسپائریشن :
سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کے بچے کے پاس کوئی انسپائریشن ہے ؟ویسے تو زندگی میں کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے مگر ایک چیز میں نے ضرور دیکھی ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی انسپائریشن ہے تو آپ کامیاب ہوسکتے ہیں۔انسپائریشن کا مطلب ہے کہ کسی کو دیکھ کر ارادہ کرلینا کہ میں نے کچھ بننا ہے ۔
بچپن کی زندگی اسپنج کی طرح ہوتی ہے جس میں وصول کرنے کی بھرپور گنجائش ہوتی ہے ۔جن بچوں کو وقت پر کوئی انسپائریشن مل جائے تو وہ زندگی میں بڑا نام کماتے ہیں ،جبکہ بڑی عمر کی مثال پتھرکی سی ہے ۔آپ نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو یہ کہتے ہیں کہ میں فلاں مشہور شخصیت کے ساتھ اتناعرصہ رہا ہوں لیکن ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔وجہ یہ ہے کہ ان میں اثر لینے کی وہ صلاحیت ختم ہوچکی ہوتی ہے جو بچپن میں ہوتی ہے ۔
انسپائریشن کاوقت پر ملنا بہت ضروری ہے ۔اسی وجہ سے میں نے تعلیمی اداروں کوجو مشورے دیے ہیں ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمیں پہلی جماعت سے سولہویں تک سیرت رسول ﷺ کو پڑھانا چاہیے ۔اسی طرح ایڈمنسٹریشن میں حضرت عمر فاروق ؓ کی زندگی ضرور پڑھانی چاہیے ۔محمد علی جناح ، علامہ اقبال ،نواب آف بہاولپور ، حکیم سعید اور عبدالستار ایدھی کوبھی پڑھانا چاہیے۔انہی سے بچہ انسپائریشن لے گا۔

)بچہ اوریجنل (اصلی) کتنا ہے ؟
ہم بچوں کو شروع ہی سے مصنوعی بنالیتے ہیں ۔ہمارے ہاں یہ رجحان بنتا جارہا ہے کہ بچے کو پہلے پہل انگریزی سکھائیں ،اس کو آرٹیفیشل بنائیں ۔وہ کوٹ ٹائی لگاتا ہے ،آدھے ہاتھ سے مصافحہ کرتا ہے اور بات بھی پوری طریقے سے نہیں کرتا۔نہ اس میں خود احساس ہوتا ہے نہ اگلے سے احساس کرواتا ہے ۔بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو بظاہر تو بڑے خوش لباس اور خوش گفتار ہیں مگر اندر سے کھوکھلے ہیں ، نہ ان کی کوئی فکری نشوونما ہوئی ہے نہ نظریاتی ، بس جس طرح حالات ہوتے ہیں اسی کے مطابق خود کو سنوارلیتے ہیں ۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہوکر صرف اپنے اور اپنے بچوں کے لیے جیتے ہیں ،ان کے دل میں ملک،ملت اور قوم کا احساس نہیں ہوتا۔یاد رکھیں جو انسان پل بڑھ کر صرف اپنی ذات کے قابل ہوجائے وہ ناکام ہے ۔ہاں جو اپنی کامیابی کے ساتھ معاشرے کوبھی کچھ دینے لگ جائے، وہ کامیاب ہے ۔

بچوں کو جہاں اپنے اقدار دینا ضروری ہے وہیں اپنے حقیقی رشتوں کے بھی قریب رکھنا ہے ۔میں والدین سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تمام تر اختلافات کے باوجود بھی اپنے بچوں کوان کے دادا،دادی سے دور نہ کریں ۔ اللہ نے جو رشتے دیے ہیں انہیں نبھائیں اور بچوں کو نبھاکر دکھائیں ۔ بچوں کو اللہ نے رشتوں کی جوانرجی دی ہے وہ ان کو ضرور انجوائے کرائیں ۔اگر آپ ان کو بڑوں سے دور رکھیں گے تو یہ ان کی حق تلفی ہے۔ قابلیت ،اسکلز اور صلاحیتوں میں آپ کے بچے انتہائی ماڈرن اور جدت پسند ہونے چاہییں مگران کاانداز اورطرزِ زندگی اوریجنل( دیسی)ہو،ان میں نرم مزاجی ہو، وہ کہیں بھی بیٹھ کر کھاپی سکیں ۔اپنے بچوں کو یہ بات ضرور سکھائیں کہ بہت ساری چیزوں کونظر اندا ز کرنا ہوتا ہے ،بہت ساری چیزوں کو بھول جانا ہوتا ہے اوربہت ساری باتوں میں اگرانسان فقط خاموشی اختیار کرلے تو معاملات درست ہوجاتے ہیں او ر وہ بلاوجہ کے غموں اور تفرات سے بچ جاتا ہے۔
والدین کا اپنے بچوں پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ان کی بہترین تربیت کریں اور تربیت نام ہے اچھی عادات اپنا نے کا۔ہر انسان کے پاس اچھائی اوربرائی منتخب کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔اختیار کے استعمال سے رویہ بنتا ہے ،رویے سے عادت اورپھر۔۔۔ عادات ہی انسان کی دین ودنیا کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتی ہیں۔​
 
Last edited:
Work hard on children's habits:

In all the hobbies and activities of the world, if there is one best and sensitive job, it is the training of children. All parents have a strong desire that their child becomes a better person.
Whose world is good and also the hereafter. For this purpose, they try their best and seem to be wandering in the same thought. In the previous article, we pointed out some common misconceptions of parents and their solutions. In this session we will write about the important factors about "habits".

What are habits:

The human mind works on the basis of two things, one is called consciousness and the other is called subconsciousness. Consciousness is the means by which man performs the work of estimation, caution and calculation, while the subconscious man uses habits, ideas, manners. Along with life, belief and basic memory, 80% of the habits are also lying. Man gives all the habits he performs throughout the day only through subconsciousness while the remaining 20% of the habits he has to make with the help of consciousness. If this margin is not 20%, then a person cannot be recruited in the police or the army and the training will end as a result, because During running, any instructor puts things at the same 20% margin and makes habits. The whole premise is that if a person is inherently bad then it is difficult to correct him. There is only one. Can be cured by means and that is inspiration and strong will power. Fortunately if a person comes in his life who will inspire him or his own will power is so strong that he will stand against his habits then fine otherwise It is very difficult to change his habit.
Parents are actually instilling habits in their children. The more good habits you instill in your children, the more successful they will be. Former President of India Abdul Kalam says, “You cannot change your future but We can improve our future by changing our habits. ”On this basis, we can say that the development of habits is called training.

How are children given habits?
Parents can instill habits in their children for the following reasons:

(1) Pain & pleasure Principal:
The human heart always likes what it enjoys and dislikes what hurts it. Man's habits also become those in which he is getting a servant and in the tasks in which he has difficulty, he does not make it a habit.
It is important to make these habits interesting in order to inculcate new habits in children.

(2) Encouragement:
The work that parents encourage their children to do gradually becomes a habit. From today, make a list of things you should applaud and discourage. In fact, encouragement and criticism are two such tools. Through which you are making habits of your children. For example, your son said to you: "Dad, I spent the money you gave me." You asked, "Where did you spend it?" That is “Baba! It was my younger sister's birthday and I took a gift for her. "Now this is the place where any reaction of yours can make a child good or bad. If you say: “Great! The same should be done for the sisters. ”So in the future he will help others, but if you say:“ I gave it to you, you spent it on the sister, what did you need ?? ” As soon as he hears these words, he will think that "there is no need to realize."
Remember! Praise for evil produces great evil, and praise for good produces great good.

Give children a goal and get them to do it consistently, as they do so it will change the habits, ideas and beliefs in their consciousness. For example, you said to him: “Son! forgive me
He may say that it is a difficult task but you have forgiven him many times and if he becomes accustomed to forgiving then his life will change, because then he will not have to insist on forgiving. Yes, but subconsciously he will pass it.

One of the best habits is Proactivenes, which means getting ready ahead of time, as well as being carefree about certain things. The biggest concern we have given children is, "What will people say?" This thinking is the root cause of hundreds and thousands of diseases in this society.

Every child is given some kind of energy by Allah, which is also called talent. It is the parents' responsibility to discover what that is and to bring it about.
If a person does not get a profession with a prophecy, he loses it. The easiest way to know the energy of a child is to listen to him, try to understand him and then facilitate him, ie his Give them an environment according to the prophecy and introduce them to role models according to your talent. Make sure to meet the prince of their dreams. When you have introduced children to different personalities, it is very important for them to find themselves. It becomes easier. In order for children to be good, it is necessary for parents to be good. According to modern research, 65% of parents' habits are passed on to children. All the qualities you want to instill in your children must first be instilled in you.
Is your child on the right track?
There are three things you need to look for to determine if your baby is on the right track.

(1) Social and social intelligence:
See how much social genius there is in it? There is a book on the subject called Get to the top which contains information about the development of people who had good social intelligence. If a child has a social genius, then you should be satisfied. Human beings are needed to move forward in life and a child who has social intelligence will definitely be able to move forward, because it requires team building and teaming up with people. It's easy to walk.
I have read about six thousand children in my teaching life, children who stay away from people or start reading when guests come, I have seen them fail in practical life. Social intelligence is such a powerful thing that you Ashfaq's statement is that "If a person is truthful and he sits in the forest, then people build trails and walk to reach it."

(2) Willpower:
Do you ever sit down with your child and make a list of how much he thinks and works for himself? It is a sign that he has the will power. Thanks to that power he can take new steps to live. I will move on.

(3) Sacrifice:
See how much your child sacrifices, how much he distributes and how many people he feeds at his own expense? If these are the qualities, then even if he gets low marks in school, he will progress in life because he has a spirit of sacrifice.

(4) Interest in learning:
There are many ways to find out. If you set a person free, what he does will determine what he wants. If you take note of your children's activities, you will know that they What are the things they are interested in learning? It is this interest that will help them move forward.

(5) Inspiration:
The most important thing is that your child has any inspiration. Well, there is no shortcut to success in life, but one thing I have definitely seen is that if you have any inspiration, you can be successful. It means seeing someone and intending to become something.
Childhood life is like a sponge in which there is ample scope to receive. Children who get inspiration in time, they make a big name in life, while the example of old age is like a stone. You may have seen people who say that I have been with such and such a celebrity for so long but nothing has changed in them. The reason is that they have lost the ability to make an impact that they had in childhood.
It is very important to get inspiration on time. That is why one of the suggestions I have given to the educational institutions is that we should teach Sira Rasool from the first grade to the sixteenth. Similarly, the life of Hazrat Omar Farooq in administration. Must be taught. Muhammad Ali Jinnah, Allama Iqbal, Nawab of Bahawalpur, Hakeem Saeed and Abdul Sattar Edhi should also be taught. The child will take inspiration from them.

-- How much is the child original?
We make children artificial from the beginning. We have a tendency to teach the child English first, make it artificial. He wears a coat and tie, shakes hands with half his hand and does not speak perfectly. There are many people who seem to be well-dressed and well-spoken but are hollow on the inside, they have no intellectual development or ideology, just the way they are. The situation is that they adjust themselves accordingly. The disadvantage of this is that when they grow up, they live only for themselves and their children. There is no sense of country, nation and nation in the world. Remember that a person who grows up and becomes capable only of his own caste is a failure.

Where it is important to give children their values, it is also important to keep them close to their true relationships. I urge parents not to take their children away from their grandparents, despite all the differences. Fulfill the relationships that Allah has given and show them to the children. God has given children the energy of relationships, they must enjoy them. If you keep them away from adults, it is a loss of their rights. Your children should be very modern and innovative in their abilities, skills and abilities, but their style and way of life should be original (indigenous), they should have a gentle temperament, they can sit anywhere and eat. You must teach your children that many Things have to be ignored, a lot of things have to be forgotten and in many things, if a person just keeps quiet, things will get better and he will avoid unnecessary sorrows and divisions.

The greatest kindness of parents to their children is to train them to the best of their ability and training is the name of adopting good habits. Every human being has the right to choose between good and evil. Habit and then ... Habits determine the success or failure of one's religion and the world.
 
Top