• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information The importance of curriculum

It is no secret that the curriculum plays a major role in the mental, moral and social development of nations. No one reads the textbook, everyone reads the textbook. Every human being goes through the curriculum and gets a degree. We have to acknowledge that this is the means by which nations are formed and deteriorated. The best and best example of the impact of the curriculum and training on human thinking is the biography of the Prophet Where over a period of two decades people were created who had all the qualities of leadership and thanks to them they continued to rule the world.
The fact is that the curriculum is like a template that molds generations into their existence and nurtures their intellect and personality, since man is the product of his own ideas, the way he is trained, the same ideas he He thinks, acts according to them, influences other people and even trains his children in the same way. Thus, with the good or bad training of a human being, a whole society comes into existence.
Psychologists say that the first fifteen years of human life are extremely important. This is why the curriculum plays a huge role in humanization. After all these facts, we can say that the purpose of the curriculum is not only. The aim is to provide the best and up-to-date education but also to impart moral training to the new generation so that wherever they become competent professionals, they will also become the best human beings. Instill in them the habit of study, research and reflection.

In Urdu translation
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ قوموں کی ذہنی ، اخلاقی اور معاشرتی تعمیر میں ا س کے نصاب کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔غیر نصابی کتاب کو کوئی پڑھے نہ پڑھے ، نصابی کتاب ہر شخص پڑھتا ہے ۔ہر انسان نصاب سے گزرکر ڈگری حاصل کرتا ہے۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہی وہ ذریعہ ہے جس کی بنا پر قومیں بنتی بھی ہیں اور بگڑتی بھی ۔نصاب تعلیم اور تربیت انسانی سوچ پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے اس کی سب سے بہترین اور عمدہ مثال سیرت النبی ﷺ کی ملتی ہے جہاں دو عشروں کے عرصے میں ایسے انسان تیا ر کیے گئے جن کے اندر لیڈرشپ کی تمام خصوصیات موجود تھیں اور ان ہی کی بدولت وہ دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔
حقیقت یہی ہے کہ نصاب تعلیم ایک سانچے کی مانند ہوتا ہے جو کہ نسلوں کو اپنے وجود میں ڈھال کر ان کی فکری اور شخصی آبیاری کرتا ہے، چونکہ انسان اپنے خیالات کی پیداوار ہے ، جس طرح اس کی تربیت ہوتی ہے اسی طرح کے خیالات وہ سوچتاہے ، ان کے مطابق عمل کرتا ہے ،وہ دوسرے لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور یہاں تک کہ اپنی اولاد کو بھی اسی طرح تربیت دیتا ہے۔یوں ایک انسان کی اچھی یا بری تربیت سے ایک پورا معاشرہ وجود میں آجاتا ہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی زندگی کے پہلے پندرہ سال انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس میں اس کی شخصیت جیسی بنادی جاتی ہے ، باقی عمر تقریباً وہی چلتی ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ انسانیت سازی میں نصاب کا بہت بڑا کردار ہے ۔ان سارے حقائق کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نصاب تعلیم کا مقصد نہ صرف بہترین اور اپ ٹو ڈیٹ تعلیم دینا ہے بلکہ نئی نسل کو اخلاقی تربیت بھی دینی ہے تاکہ جہاں وہ ایک قابل پروفیشنل بنیں وہیں ایک بہترین انسان بھی بنیں۔وہ صرف کاپی پیسٹ کی مشین نہ ہوں بلکہ یہ نصاب اِن کو سوچنے کے نئے زاویے دے اور ان میں مطالعہ ، تحقیق اور غور وفکر کی عادت بھی ڈالے ۔