• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Story of Hazrat Abu Dujana R.A(حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ)

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ ایک صحابی ہیں..
کون ابو دجانہ؟؟
اَلّسَبِقُون الولون مِنَ المہاجرین والانصَار ۔الخ..!
پہلی صف کے صحابہؓ

کون ابو دجانہ؟؟
جب آپ علیہ السلام حج پر گئے تو اپنی جگہ ابو دجانہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا کہ ابو دجانہ مدینہ میں میری جگہ امیر ہے وہ ابو دجانہ۔۔!

کون ابو دجانہ؟؟
جو جنک بدر سے لیکر آخری حج تک ہر سفر میں شریک ہیں وہ ابو دجانہ۔۔
انکی ایک بات بتانا چاہتا ہوں لیکن اس بات سے پہلے تھوڑی سی انکی ہسٹری بتانا چاہتا ہوں تاکہ بات میں وزن پیدا ہوسکے ۔

یہ بہت بڑے جنجگنو صحابی گزرے ہیں یہ بدر سے لے کر آخری حج تک ہر سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے ہیں ایسے صحابہ چند سو ہی بے جو ہر سفر میں نبی علیہ السلام کے ساتھ رہے ہیں..
انکا ایک واقعہ بہت مشہور ہے
تاریخ میں لکھا آتا ہے کہ یہ ایک آدمی ہزار کے برابر شمار ہوتے تھے ایسے صحابہ چند ہے جو ایک ہزار کے برابر شمار ہوتے تھے جب یہ میدان میں اترتے تھے تو یہ ایک ہزار کے برابر شمار ہوتے تھے کہ یہ ایک تلوار نہیں ایک ہزار تلوار ہے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر ابن عاص رضی اللہ عنہ کے مدد کے لئے جو لشکر بھیجا وہ چار ہزار کا لشکر تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمر ابن عاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ویسے تو میں چار ہزار بھیج رہا ہوں لیکن یہ اصل میں آٹھ ہزار ہے چار ہزار تم پہلے ہو اور بارہ ہزار کو شکست نہیں ہوتی کمی کی وجہ سے ان میں ایک عبادہ بن صامت، مسلمہ بن مخلد، زبیر بن عوام، اور ابو دجانہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین تھے...

غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار اٹھائی اور کہا یہ کون لیگا؟؟؟
سارے صحابہ کھڑے ہوگئے تو آپ نے فرمایا اسکا حق کون ادا کریگا...؟ سب بیٹھ گئے تین صحابہ کھڑے رہے ایک حضرت عمر بن خطّاب، دوسرے زبیر بن عوام، اور تیسرے ابو دجانہ رضی اللہ عنہم اجمعین انکا اصل نام ہے سِماک ابن خرشنہ رضی اللہ عنہ ابو دجانہ سے مشہور ہے...
تو نبی علیہ السلام نے تلوار نا عمر کو دی نا زبیر کو دی ابو دجانہ کو دے دی عمر رضی اللہ عنہ نے تو محسوس نہیں کیا.. لیکن حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے محسوس کرلی یہ بات کہ تلوار مجھے کیوں نہیں دی اسکو کیوں دی میں پھوپی کا بیٹا ہوں مہاجرین میں سے بھی ہوں دلیری میں بھی اس سے کم نہیں (بلکہ حضرت زبیر رض کی دلیری کی تو دھاک تھی پورے عرب میں جہاں تلوار چلتی کاٹتی چلی جاتی تھی) چلو میں دیکھتا ہوں کہ ابو دجانہ کیا کرتا ہے.!!
تو حضرت ابو دجانہ نے چند شعر پڑھے..
مفہوم:- میں نے آج رسولؐ سے عہد کیا ہے کہ میں آج اُنکی تلوار کا حق ادا کرونگا یہ کہہ کر جو حملہ کیا تو تین ہزار کا لشکر تھا پورے لشکر کو کاٹ کر آگے نکل گئے
آگے قریش کی عورتیں کھڑی تھی جو اپنے جنگجوؤں کو جوش دلا رہی تھی اشعار پڑھ کر انہوں نے جب صحابی رسولۖ کو دیکھا تو بھاگنے لگی ان میں سے (ہندہ) پکڑی گئی ( ہندہ ابو سفیان رض کی بیوی حضرت سفیان رض اور ہندہ بعد میں فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئے تھے)
حضرت ابو دجانہ رضی نے تلوار جو انکے سر پر رکھی تو ہندہ نے ایک چیخ ماری
حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے تلوار واپس کھینچ لی
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جو ابو دجانہ کے پیچھے پیچھے تھے کہنے لگے یہ کیا کیا ؟
اسکو کیوں چھوڑ دیا ؟
حالانکہ جو عورت جنگ میں حصہ لے اسکو مارنا جائز ہے (البتہ ویسے جنگ میں بچوں کو بوڑھوں کو عورتوں کو مارنا جائز نہیں) جو جنگ میں حصہ لے انکو مارنا جائز ہے ۔
تو حضرت ابو دجانہ نے کہا زبیر میں نبی علیہ السلام سے عہد کرچکا ہوں کہ انکی تلوار کا حق ادا کرونگا اس لئے میں یہ تلوار عورت کے خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا ۔
یہ میرے نبی کی تلوار ہے اسکو عورت کے خون سے رنگین کر کے اسکی شان نہیں گٹھانا چاہتا...!

یہ کہہ کر واپس پلٹے اور فوج پر حملہ کردیا دوبارہ کفار کی صفوں کو چیرتے جا رہے تھے زبیر رض عنہ پیچھے پیچھے جا رہے تھے زبیر رض عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے دل میں کہنے لگا کہ مشرکین کے لشکر میں ایک سخت جنگنجو ہے جسکی شمشیر زنی عرب میں مشہور ہے کبھی اس سے سامنا ہو تو میں دیکھوں کہ ابو دجانہ کیا ہے ۔۔
اتفاقاً ابو دجانہ اور وہ جنگجو آمنے سامنے ہو گئے ۔۔!
جب ان دونوں کی مدبھیڑ شروع ہوگئی تو دونوں طرف کے لشکر کچھ دیر کے لئے رکھ گئے اور ان دونوں کی جنگ دیکھنے لگے کہ اب کیا ہوتا ہے ۔
انکی آپس میں شمشیر زنی چل رہی تھی اور دونوں لشکر اپنے اپنے جنگجوؤں کی ہمت بڑھا رہے کہ اتنے میں اس مشرک نے ابو دجانہ کو زخمی کردیا ۔۔۔
حضرت ابو دجانہ نے جو جوش میں آکر ماری ایک تلوار تو اس مشرک کے دو ٹکڑے کرکے کاٹ کر پھینک دیا اور پھر لشکر کفار کی طرف منہ کر کے اپنے سر سے لوہے کی وہ ٹوپی اتاری اور کہنے لگے ۔۔۔
ما_تراہ؟؟؟
کیا دیکھتے ہو؟؟
اناابودجانہ
میں ابو دجانہ ہوں ابو دجانہ

یمامہ کی جنگ میں ابو دجانہ شہید ہوئے
یہ ابو دجانہ کی تھوڑی سی سیرت آپ کے سامنے آئی ہے اسکے بعد آپ لوگ انکے قول کو سنو تاکہ اسکا وزن آپکے سامنے آئے
یہ بدری صحابی ہے الله کے رسولؐ نے کہا بدر کا صحابی جو چاہے کرے بخشا گیا ۔
یہ صلح حدیبیہ کے شریک ہیں الله نے قران میں کہا لقد رضی اللّٰہ میں ان سے راضی ہوگیا ۔
یہ صحابی ہیں کلاََ وَعدَ الله الحُسنَا.
اور ان کا اپنا قول ہے
اِنّ اَرجَع عَمَلِی عِندِی لوگوں میرے پاس بخشش کا ایک عمل ہے جس پر مجھے امید ہے کہ میں بخشا جاؤنگا ۔۔!
کونسا؟؟
بدر ۔۔۔نہیں
احد ۔۔۔نہیں
خندق ۔۔۔نہیں
خیبر ۔۔۔نہیں
فتح مکہ ۔۔۔نہیں
اِنّ اَرجَع عَمَلِی عندی۔
میرے پاس بخشش کا ایک عمل ہے وہ یہ کہ
مَا اذَیتُ احدََ بِلِسَانِک
وَلا اَجِدُ قَلبی غلا الاحد
کہ میں نے زبان سے کسی کو دکھ نہیں پہنچایا
اور میرے دل میں کسی کے لئے بغض کینہ حسد نہیں ہے بس یہی میری بخشش کا عمل ہے
دعا ہے الله رب العزت ہم سبکو صحابہؓ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے
آمین
اور توفیق کوشش کرنے والوں کو ملا کرتی ہے اس لئے صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرینگے تو الله رب العزت خود ہمارے لئے راستے آسان فرمائیں گے

 
Last edited:
Who is Abu Dujana ??

When he went on Hajj, he made Abu Dujana his deputy in Madinah. Abu Dujana is the Amir of Madinah in my place.

Who is Abu Dujana ??
Those who take part in every journey from Junk Badr to the last Hajj are Abu Dujana.
I want to tell them one thing but before that I want to tell a little bit about their history so that I can add weight to the thing.

These great Companions have passed away. They have been with the Holy Prophet (sws) in every journey from Badr to the last Hajj. There are only a few hundred Companions who have been with the Holy Prophet (sws) in every journey.

One of his incidents is very famous
It is written in history that this one man was counted as a thousand. There are a few Companions who were counted as a thousand. When they came down to the field, they were counted as a thousand. Is
The army that Hazrat Umar (RA) sent to help Hazrat Umar Ibn Aas (RA) was an army of four thousand. Hazrat Umar (RA) wrote to Umar Ibn Aas (RA) that by the way I am sending four thousand but This is actually eight thousand. Four thousand you are first and twelve thousand are not defeated.

In the battle of Uhud, the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) raised his sword and said, "Who will take it?"
When all the companions stood up, he said, "Who will pay for it?" All the three companions were standing. One was Hazrat Umar bin Khattab, the other was Zubair bin Awwam, and the third was Abu Dujana. His real name is * Simak Ibn Khurshana (RA).

So the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) gave the sword to Na Umar and gave it to Zubair and gave it to Abu Dujana. Umar did not realize it. I am the son of Phupi. I am also one of the Muhajireen. I am no less courageous than him. !!
So Hazrat Abu Dujana recited some poems.

Meaning: I have made a promise to the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) today that I will pay for his sword today, saying that the one who attacked was an army of three thousand.

Standing in front were the women of Quraysh who were encouraging their warriors. After reciting the poems, when they saw the Companions of the Holy Prophet, they started fleeing. (Hinda) was caught among them Became Muslims on the occasion of Mecca)
Hazrat Abu Dujana Razi placed the sword on his head and Hinda let out a scream
Hazrat Abu Dujana withdrew his sword
Hazrat Zubair, who was behind Abu Dujana, said, "What is this?"

Why did you leave it?
However, it is permissible to kill a woman who takes part in war (although it is not permissible to kill children, old people or women in war).
Hazrat Abu Dujana said, "I have made a promise to the Prophet (sws) in Zubair that I will pay for his sword, so I do not want to stain this sword with the blood of a woman."
This is the sword of my prophet. I don't want to tarnish it by painting it with the blood of a woman ...!

Saying this, he turned back and attacked the army. They were again tearing the ranks of the infidels. Zubair (RA) was following them. Zubair (RA) says: Zani is famous in Arabia. If I ever face it, I will see what Abu Dujana is.
Coincidentally, Abu Dujana and those fighters came face to face ...!

When the two began to fight, the armies on both sides stayed for a while and began to see what was going on between them.
They were fighting each other and both the armies were increasing the courage of their respective fighters so much that this polytheist wounded Abu Dujana.
Hazrat Abu Dujana, in a fit of rage, struck a sword and cut it into two pieces and threw it away. Then the army turned towards the infidels, took off the iron cap from their heads and said ...
# ما_ترہ ؟؟؟
What do you see ??
# اناابودجانہ
I am Abu Dujana, Abu Dujana

Abu Dujana was martyred in the battle of Yamama
This little biography of Abu Dujana has come before you, then listen to his words so that its weight may come before you.
This is Badri Sahabi. The Messenger of Allah said: Badri Sahabi is forgiven whatever he wants.
They are partners in the peace treaty of Hudaybiyyah. Allah said in the Qur'an, "I am pleased with them."
These are the companions of * Kala-wa-Allah-ul-Hasna *.
And they have their own opinion
I have an act of forgiveness on which I hope I will be forgiven ...!
which one??
Badr ... no
Uh ... no
The trench ... no
Khyber ... no
Conquest of Mecca ... no
ان ارجع عَمَلِي عندی.
I have an act of forgiveness that
مَا اذَيتُ احدَ بِلِسَانِک
وَلاَ اَجِدُ قَلبی غلا احد
That I did not hurt anyone with my tongue
And in my heart there is no malice or envy for anyone, that is the process of my forgiveness
May Allah, the Exalted, grant us all the strength to follow in the footsteps of the Companions.
Amen..
 
حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ ایک صحابی ہیں..
کون ابو دجانہ؟؟
اَلّسَبِقُون الولون مِنَ المہاجرین والانصَار ۔الخ..!
پہلی صف کے صحابہؓ

کون ابو دجانہ؟؟
جب آپ علیہ السلام حج پر گئے تو اپنی جگہ ابو دجانہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا کہ ابو دجانہ مدینہ میں میری جگہ امیر ہے وہ ابو دجانہ۔۔!

کون ابو دجانہ؟؟
جو جنک بدر سے لیکر آخری حج تک ہر سفر میں شریک ہیں وہ ابو دجانہ۔۔
انکی ایک بات بتانا چاہتا ہوں لیکن اس بات سے پہلے تھوڑی سی انکی ہسٹری بتانا چاہتا ہوں تاکہ بات میں وزن پیدا ہوسکے ۔

یہ بہت بڑے جنجگنو صحابی گزرے ہیں یہ بدر سے لے کر آخری حج تک ہر سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے ہیں ایسے صحابہ چند سو ہی بے جو ہر سفر میں نبی علیہ السلام کے ساتھ رہے ہیں..
انکا ایک واقعہ بہت مشہور ہے
تاریخ میں لکھا آتا ہے کہ یہ ایک آدمی ہزار کے برابر شمار ہوتے تھے ایسے صحابہ چند ہے جو ایک ہزار کے برابر شمار ہوتے تھے جب یہ میدان میں اترتے تھے تو یہ ایک ہزار کے برابر شمار ہوتے تھے کہ یہ ایک تلوار نہیں ایک ہزار تلوار ہے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر ابن عاص رضی اللہ عنہ کے مدد کے لئے جو لشکر بھیجا وہ چار ہزار کا لشکر تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمر ابن عاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ویسے تو میں چار ہزار بھیج رہا ہوں لیکن یہ اصل میں آٹھ ہزار ہے چار ہزار تم پہلے ہو اور بارہ ہزار کو شکست نہیں ہوتی کمی کی وجہ سے ان میں ایک عبادہ بن صامت، مسلمہ بن مخلد، زبیر بن عوام، اور ابو دجانہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین تھے...

غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار اٹھائی اور کہا یہ کون لیگا؟؟؟
سارے صحابہ کھڑے ہوگئے تو آپ نے فرمایا اسکا حق کون ادا کریگا...؟ سب بیٹھ گئے تین صحابہ کھڑے رہے ایک حضرت عمر بن خطّاب، دوسرے زبیر بن عوام، اور تیسرے ابو دجانہ رضی اللہ عنہم اجمعین انکا اصل نام ہے سِماک ابن خرشنہ رضی اللہ عنہ ابو دجانہ سے مشہور ہے...
تو نبی علیہ السلام نے تلوار نا عمر کو دی نا زبیر کو دی ابو دجانہ کو دے دی عمر رضی اللہ عنہ نے تو محسوس نہیں کیا.. لیکن حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے محسوس کرلی یہ بات کہ تلوار مجھے کیوں نہیں دی اسکو کیوں دی میں پھوپی کا بیٹا ہوں مہاجرین میں سے بھی ہوں دلیری میں بھی اس سے کم نہیں (بلکہ حضرت زبیر رض کی دلیری کی تو دھاک تھی پورے عرب میں جہاں تلوار چلتی کاٹتی چلی جاتی تھی) چلو میں دیکھتا ہوں کہ ابو دجانہ کیا کرتا ہے.!!
تو حضرت ابو دجانہ نے چند شعر پڑھے..
مفہوم:- میں نے آج رسولؐ سے عہد کیا ہے کہ میں آج اُنکی تلوار کا حق ادا کرونگا یہ کہہ کر جو حملہ کیا تو تین ہزار کا لشکر تھا پورے لشکر کو کاٹ کر آگے نکل گئے
آگے قریش کی عورتیں کھڑی تھی جو اپنے جنگجوؤں کو جوش دلا رہی تھی اشعار پڑھ کر انہوں نے جب صحابی رسولۖ کو دیکھا تو بھاگنے لگی ان میں سے (ہندہ) پکڑی گئی ( ہندہ ابو سفیان رض کی بیوی حضرت سفیان رض اور ہندہ بعد میں فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئے تھے)
حضرت ابو دجانہ رضی نے تلوار جو انکے سر پر رکھی تو ہندہ نے ایک چیخ ماری
حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے تلوار واپس کھینچ لی
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جو ابو دجانہ کے پیچھے پیچھے تھے کہنے لگے یہ کیا کیا ؟
اسکو کیوں چھوڑ دیا ؟
حالانکہ جو عورت جنگ میں حصہ لے اسکو مارنا جائز ہے (البتہ ویسے جنگ میں بچوں کو بوڑھوں کو عورتوں کو مارنا جائز نہیں) جو جنگ میں حصہ لے انکو مارنا جائز ہے ۔
تو حضرت ابو دجانہ نے کہا زبیر میں نبی علیہ السلام سے عہد کرچکا ہوں کہ انکی تلوار کا حق ادا کرونگا اس لئے میں یہ تلوار عورت کے خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا ۔
یہ میرے نبی کی تلوار ہے اسکو عورت کے خون سے رنگین کر کے اسکی شان نہیں گٹھانا چاہتا...!

یہ کہہ کر واپس پلٹے اور فوج پر حملہ کردیا دوبارہ کفار کی صفوں کو چیرتے جا رہے تھے زبیر رض عنہ پیچھے پیچھے جا رہے تھے زبیر رض عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے دل میں کہنے لگا کہ مشرکین کے لشکر میں ایک سخت جنگنجو ہے جسکی شمشیر زنی عرب میں مشہور ہے کبھی اس سے سامنا ہو تو میں دیکھوں کہ ابو دجانہ کیا ہے ۔۔
اتفاقاً ابو دجانہ اور وہ جنگجو آمنے سامنے ہو گئے ۔۔!
جب ان دونوں کی مدبھیڑ شروع ہوگئی تو دونوں طرف کے لشکر کچھ دیر کے لئے رکھ گئے اور ان دونوں کی جنگ دیکھنے لگے کہ اب کیا ہوتا ہے ۔
انکی آپس میں شمشیر زنی چل رہی تھی اور دونوں لشکر اپنے اپنے جنگجوؤں کی ہمت بڑھا رہے کہ اتنے میں اس مشرک نے ابو دجانہ کو زخمی کردیا ۔۔۔
حضرت ابو دجانہ نے جو جوش میں آکر ماری ایک تلوار تو اس مشرک کے دو ٹکڑے کرکے کاٹ کر پھینک دیا اور پھر لشکر کفار کی طرف منہ کر کے اپنے سر سے لوہے کی وہ ٹوپی اتاری اور کہنے لگے ۔۔۔
ما_تراہ؟؟؟
کیا دیکھتے ہو؟؟
اناابودجانہ
میں ابو دجانہ ہوں ابو دجانہ

یمامہ کی جنگ میں ابو دجانہ شہید ہوئے
یہ ابو دجانہ کی تھوڑی سی سیرت آپ کے سامنے آئی ہے اسکے بعد آپ لوگ انکے قول کو سنو تاکہ اسکا وزن آپکے سامنے آئے
یہ بدری صحابی ہے الله کے رسولؐ نے کہا بدر کا صحابی جو چاہے کرے بخشا گیا ۔
یہ صلح حدیبیہ کے شریک ہیں الله نے قران میں کہا لقد رضی اللّٰہ میں ان سے راضی ہوگیا ۔
یہ صحابی ہیں کلاََ وَعدَ الله الحُسنَا.
اور ان کا اپنا قول ہے
اِنّ اَرجَع عَمَلِی عِندِی لوگوں میرے پاس بخشش کا ایک عمل ہے جس پر مجھے امید ہے کہ میں بخشا جاؤنگا ۔۔!
کونسا؟؟
بدر ۔۔۔نہیں
احد ۔۔۔نہیں
خندق ۔۔۔نہیں
خیبر ۔۔۔نہیں
فتح مکہ ۔۔۔نہیں
اِنّ اَرجَع عَمَلِی عندی۔
میرے پاس بخشش کا ایک عمل ہے وہ یہ کہ
مَا اذَیتُ احدََ بِلِسَانِک
وَلا اَجِدُ قَلبی غلا الاحد
کہ میں نے زبان سے کسی کو دکھ نہیں پہنچایا
اور میرے دل میں کسی کے لئے بغض کینہ حسد نہیں ہے بس یہی میری بخشش کا عمل ہے
دعا ہے الله رب العزت ہم سبکو صحابہؓ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے
آمین
اور توفیق کوشش کرنے والوں کو ملا کرتی ہے اس لئے صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرینگے تو الله رب العزت خود ہمارے لئے راستے آسان فرمائیں گے

MASHA ALLAH
 
حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ ایک صحابی ہیں..
کون ابو دجانہ؟؟
اَلّسَبِقُون الولون مِنَ المہاجرین والانصَار ۔الخ..!
پہلی صف کے صحابہؓ

کون ابو دجانہ؟؟
جب آپ علیہ السلام حج پر گئے تو اپنی جگہ ابو دجانہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا کہ ابو دجانہ مدینہ میں میری جگہ امیر ہے وہ ابو دجانہ۔۔!

کون ابو دجانہ؟؟
جو جنک بدر سے لیکر آخری حج تک ہر سفر میں شریک ہیں وہ ابو دجانہ۔۔
انکی ایک بات بتانا چاہتا ہوں لیکن اس بات سے پہلے تھوڑی سی انکی ہسٹری بتانا چاہتا ہوں تاکہ بات میں وزن پیدا ہوسکے ۔

یہ بہت بڑے جنجگنو صحابی گزرے ہیں یہ بدر سے لے کر آخری حج تک ہر سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے ہیں ایسے صحابہ چند سو ہی بے جو ہر سفر میں نبی علیہ السلام کے ساتھ رہے ہیں..
انکا ایک واقعہ بہت مشہور ہے
تاریخ میں لکھا آتا ہے کہ یہ ایک آدمی ہزار کے برابر شمار ہوتے تھے ایسے صحابہ چند ہے جو ایک ہزار کے برابر شمار ہوتے تھے جب یہ میدان میں اترتے تھے تو یہ ایک ہزار کے برابر شمار ہوتے تھے کہ یہ ایک تلوار نہیں ایک ہزار تلوار ہے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر ابن عاص رضی اللہ عنہ کے مدد کے لئے جو لشکر بھیجا وہ چار ہزار کا لشکر تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمر ابن عاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ویسے تو میں چار ہزار بھیج رہا ہوں لیکن یہ اصل میں آٹھ ہزار ہے چار ہزار تم پہلے ہو اور بارہ ہزار کو شکست نہیں ہوتی کمی کی وجہ سے ان میں ایک عبادہ بن صامت، مسلمہ بن مخلد، زبیر بن عوام، اور ابو دجانہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین تھے...

غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار اٹھائی اور کہا یہ کون لیگا؟؟؟
سارے صحابہ کھڑے ہوگئے تو آپ نے فرمایا اسکا حق کون ادا کریگا...؟ سب بیٹھ گئے تین صحابہ کھڑے رہے ایک حضرت عمر بن خطّاب، دوسرے زبیر بن عوام، اور تیسرے ابو دجانہ رضی اللہ عنہم اجمعین انکا اصل نام ہے سِماک ابن خرشنہ رضی اللہ عنہ ابو دجانہ سے مشہور ہے...
تو نبی علیہ السلام نے تلوار نا عمر کو دی نا زبیر کو دی ابو دجانہ کو دے دی عمر رضی اللہ عنہ نے تو محسوس نہیں کیا.. لیکن حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے محسوس کرلی یہ بات کہ تلوار مجھے کیوں نہیں دی اسکو کیوں دی میں پھوپی کا بیٹا ہوں مہاجرین میں سے بھی ہوں دلیری میں بھی اس سے کم نہیں (بلکہ حضرت زبیر رض کی دلیری کی تو دھاک تھی پورے عرب میں جہاں تلوار چلتی کاٹتی چلی جاتی تھی) چلو میں دیکھتا ہوں کہ ابو دجانہ کیا کرتا ہے.!!
تو حضرت ابو دجانہ نے چند شعر پڑھے..
مفہوم:- میں نے آج رسولؐ سے عہد کیا ہے کہ میں آج اُنکی تلوار کا حق ادا کرونگا یہ کہہ کر جو حملہ کیا تو تین ہزار کا لشکر تھا پورے لشکر کو کاٹ کر آگے نکل گئے
آگے قریش کی عورتیں کھڑی تھی جو اپنے جنگجوؤں کو جوش دلا رہی تھی اشعار پڑھ کر انہوں نے جب صحابی رسولۖ کو دیکھا تو بھاگنے لگی ان میں سے (ہندہ) پکڑی گئی ( ہندہ ابو سفیان رض کی بیوی حضرت سفیان رض اور ہندہ بعد میں فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئے تھے)
حضرت ابو دجانہ رضی نے تلوار جو انکے سر پر رکھی تو ہندہ نے ایک چیخ ماری
حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے تلوار واپس کھینچ لی
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جو ابو دجانہ کے پیچھے پیچھے تھے کہنے لگے یہ کیا کیا ؟
اسکو کیوں چھوڑ دیا ؟
حالانکہ جو عورت جنگ میں حصہ لے اسکو مارنا جائز ہے (البتہ ویسے جنگ میں بچوں کو بوڑھوں کو عورتوں کو مارنا جائز نہیں) جو جنگ میں حصہ لے انکو مارنا جائز ہے ۔
تو حضرت ابو دجانہ نے کہا زبیر میں نبی علیہ السلام سے عہد کرچکا ہوں کہ انکی تلوار کا حق ادا کرونگا اس لئے میں یہ تلوار عورت کے خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا ۔
یہ میرے نبی کی تلوار ہے اسکو عورت کے خون سے رنگین کر کے اسکی شان نہیں گٹھانا چاہتا...!

یہ کہہ کر واپس پلٹے اور فوج پر حملہ کردیا دوبارہ کفار کی صفوں کو چیرتے جا رہے تھے زبیر رض عنہ پیچھے پیچھے جا رہے تھے زبیر رض عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے دل میں کہنے لگا کہ مشرکین کے لشکر میں ایک سخت جنگنجو ہے جسکی شمشیر زنی عرب میں مشہور ہے کبھی اس سے سامنا ہو تو میں دیکھوں کہ ابو دجانہ کیا ہے ۔۔
اتفاقاً ابو دجانہ اور وہ جنگجو آمنے سامنے ہو گئے ۔۔!
جب ان دونوں کی مدبھیڑ شروع ہوگئی تو دونوں طرف کے لشکر کچھ دیر کے لئے رکھ گئے اور ان دونوں کی جنگ دیکھنے لگے کہ اب کیا ہوتا ہے ۔
انکی آپس میں شمشیر زنی چل رہی تھی اور دونوں لشکر اپنے اپنے جنگجوؤں کی ہمت بڑھا رہے کہ اتنے میں اس مشرک نے ابو دجانہ کو زخمی کردیا ۔۔۔
حضرت ابو دجانہ نے جو جوش میں آکر ماری ایک تلوار تو اس مشرک کے دو ٹکڑے کرکے کاٹ کر پھینک دیا اور پھر لشکر کفار کی طرف منہ کر کے اپنے سر سے لوہے کی وہ ٹوپی اتاری اور کہنے لگے ۔۔۔
ما_تراہ؟؟؟
کیا دیکھتے ہو؟؟
اناابودجانہ
میں ابو دجانہ ہوں ابو دجانہ

یمامہ کی جنگ میں ابو دجانہ شہید ہوئے
یہ ابو دجانہ کی تھوڑی سی سیرت آپ کے سامنے آئی ہے اسکے بعد آپ لوگ انکے قول کو سنو تاکہ اسکا وزن آپکے سامنے آئے
یہ بدری صحابی ہے الله کے رسولؐ نے کہا بدر کا صحابی جو چاہے کرے بخشا گیا ۔
یہ صلح حدیبیہ کے شریک ہیں الله نے قران میں کہا لقد رضی اللّٰہ میں ان سے راضی ہوگیا ۔
یہ صحابی ہیں کلاََ وَعدَ الله الحُسنَا.
اور ان کا اپنا قول ہے
اِنّ اَرجَع عَمَلِی عِندِی لوگوں میرے پاس بخشش کا ایک عمل ہے جس پر مجھے امید ہے کہ میں بخشا جاؤنگا ۔۔!
کونسا؟؟
بدر ۔۔۔نہیں
احد ۔۔۔نہیں
خندق ۔۔۔نہیں
خیبر ۔۔۔نہیں
فتح مکہ ۔۔۔نہیں
اِنّ اَرجَع عَمَلِی عندی۔
میرے پاس بخشش کا ایک عمل ہے وہ یہ کہ
مَا اذَیتُ احدََ بِلِسَانِک
وَلا اَجِدُ قَلبی غلا الاحد
کہ میں نے زبان سے کسی کو دکھ نہیں پہنچایا
اور میرے دل میں کسی کے لئے بغض کینہ حسد نہیں ہے بس یہی میری بخشش کا عمل ہے
دعا ہے الله رب العزت ہم سبکو صحابہؓ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے
آمین
اور توفیق کوشش کرنے والوں کو ملا کرتی ہے اس لئے صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرینگے تو الله رب العزت خود ہمارے لئے راستے آسان فرمائیں گے

MashaAllah
 
Top