• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Preshan Rehne ki adat ko kaise door karen(پریشانی پر قابو کے طریقے سیکھئے)

پریشان رہنے کی عادت

’’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ برا محسوس کرنے سے آپ کے ماضی کے تجربات بدل جائیں گے تو آپ غلط سیارے پر آئیں گے؛ کیوں کہ زمین پر ایسا کوئی نظام نہیں!‘‘
(ڈاکٹر وین ڈائیر)
ہر طرف مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ چہروں کی رونقیں مدھم پڑچکی ہیں اور زندگی گزارنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ دفتر، دُکان، کاروبار اور ملکی و معاشی حالات...سب پریشانی کا باعث ہیں۔ کوئی خوش خبری نہیں اور نہ کوئی ہم سے راضی ہے۔ ہم دفتر کی پریشانی کو اٹھاکر گھر لے آتےہیں اور گھر کی پریشانی کی گٹھڑی دفتر میں جاکر کھولتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی پریشانیوں کا ذمے دار دوسروں کو قرار دیتا ہے۔ ایسے میں ہم یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ پریشانیوں کو خوشیوں میں بدلنے کا سب سے بڑا ذمہ خود ہمارے اوپر ہے۔ ہم پریشان رہتے ہیں تو ہمارے بچے بھی ’’پریشان خٹک‘‘ بن جاتے ہیں۔ ہم تمام زندگی اس انتظار میں رہتے ہیں کہ اب حالات بدلیں کہ تب حالات بدلیں۔

’’پریشانی حالات سے نہیں، خیالات سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘(واصف علی واصف)

ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ والدین کی حیثیت سے جب ہم پریشان ہوتے ہیں تو ہماری پریشانی کے اثرات ہمارے بچوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور وہ بھی پریشان ہونا شروع کردیتے ہیں... چاہے کوئی سبب بھی نہ ہو۔ دراصل، والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری پریشانی صرف ہمیں پریشان کرے گی۔ لیکن، حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ جب ہم پریشان ہوتے ہیں تو اس کا غیر ارادی اثر ہمارے ملنے جلنے والوں بالخصوص گھر والوں پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ ان گھر والوں میں سب سے حساس ہمارے گھر کے بچے ہوتےہیں۔
بچے نازک کلیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ آپ کے پریشان چہرے کو دیکھ کر یہ کلیاں مرجھا جاتی ہیں۔ یہ یاد رکھیے کہ جس پریشانی کو آپ اہمیت کی غذا دیتے ہیں، اس پریشانی سے آپ کا چھٹکارا ممکن نہیں ہوتا۔ آپ اپنی زندگی کی تمام ذمے داریوں کو قبول کرتے ہوئے اپنے کاروبار اور کام سے محبت کریں، پریشانیاں خود بہ خود بھاگ جائیں گی۔
گھر میں ایک بہتر سوچ والا شخص پورے گھر کے ماحول کو بہتر بناسکتا ہے۔ یقینا، ماحول کا دخل انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ ایک ناسازگار ماحول بعض اوقات اعلیٰ سے اعلیٰ دماغی صفات ضائع کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
اگر معقول ماحول اور محبت میسر آجائے تو بچے ترقی کی معراج پر پہنچ جاتے ہیں۔ بچوں کے کردار کی اصلاح کیلئے ضروری ہے کہ گھر کے ماحول کی اصلاح ہو۔ خوشیاں بازار سے نہیں ملتیں۔ انھیں میں خود پیدا کرنا پڑتا ہے۔ مسکراتے چہرے زندہ دلی کی علامت ہیں، پریشان آدمی کو خود پر ترس کھانے کی عادت ہوجاتی ہے اور وہ دوسروں کی مدد کا متلاشی رہتا ہے۔ ایسا انسان خود کو کمزور سمجھتا ہے اور کمزور ہی رہنا چاہتا ہے۔
دفتر اور دکان کی پریشانیوں کو وہیں چھوڑ آئیں، کیوں کہ مرتے وقت کسی انسان کو کاروبار یاد نہیں آتا بلکہ اُس وقت اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ کاش، میں نے اپنی بیوی اور بچوں کےساتھ زیادہ وقت گزارا ہوتا۔
یہاں ہم چند ایسی عملی تدابیر آپ کو بتاتے ہیں جنھیں اختیار کرکے آپ اپنے تئیں پریشانی کی عادت اور مزاج سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔

اپنی پریشانی کے تاثرات کو جانئے
بچے اپنے والدین کے چہرے کے تاثرات سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بچے اپنے والدین کی پریشانی کو اُن کے چہرے سے جانچ لیتے ہیں اور خود بھی پریشان ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ انھیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے، کیوں کہ یہ سب لاشعوری ہوتا ہے، تاہم وہ اس کی وجہ سے تذبذب کا شکار ضرور رہتے ہیں۔ او راگر ایک ماں یا باپ مسلسل پریشان رہے تو بچہ اس کیفیت کو اپنے اوپر اپنی شخصی کیفیت کی حیثیت سے طاری کرلیتا ہے۔ وہ خود اپنے گھر میں بھی غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔
اگر والدین کی حیثیت سے آپ کسی بھی وجہ سے پریشان ہیں تو اپنے پریشانی کے مسئلے کو کھوجھئے۔ جانئے کہ آپ کیوں پریشان ہیں۔
والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کا بچہ ان کی طرح پریشان ہو، لیکن اَن چاہے یہ ہوتا ہے۔ چنانچہ جب وہ پریشان ہوتےہیں تو اس توانائی کے ارتعاشات بچے میں منتقل ہوتے ہیں۔ ایسے میں سب سے پہلا کام یہی ہے کہ پریشانی کی اپنی کیفیت کو جانا جائے۔ خود کو مجرم قرار دینے یا موردِ الزام ٹھہرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
بعض والدین یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کے والدین بھی اسی طرح پریشان رہا کرتے تھے، اس لیے انھیں یہ پریشاں مزاجی ورثے میں ملی ہے۔ لیکن، پریشانی کا یہ ایک عام ہے، اور وہ بھی بہت معمولی۔ ایسا نہیں کہ اسے قابو نہ کیا جاسکے۔ آپ اپنے بچے کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ اپنے بچے کو اپنی ذات سے وہ شخصیت فراہم کریں جو آپ اس کے اندر تخلیق کرنے کے خواہش مند ہیں۔

پریشانی پر قابو کے طریقے سیکھئے
اگر ماں یا باپ خود ہی کسی اسٹریس، ڈپریشن یا اینزائٹی میں گرفتار ہیں تو ان کیلئے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ اپنے بچے کو خوشی سکھاسکیں یا منتقل کرسکیں۔ ایسے میں ،ماں یا باپ کی حیثیت سے آپ کو سب سے پہلے ذہنی صحت کے کسی مستند ماہر سے ملنا ہوگا۔ وہ آپ کی پریشاں مزاجی کا خاص سبب تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرے گا۔ وہ آپ کو اسٹریس مینجمنٹ کے مختلف طریقے سکھائے گا۔ ان طریقوں کو استعمال کرکے جب اپنی پریشانی کو قابو کریں گے، تبھی آپ اپنے بچے میں پریشانی کی منتقلی کو روکنے کے قابل ہوں گے۔
ماہرین نفسیات کا یہ ماننا ہے کہ بچے کو پریشاں مزاجی سے بچانے کا ایک موثر طریقہ یہ ہے کہ اس کے والدین صبر کرنے والے اور متحمل مزاج ہوں۔ وہ اپنی زندگی کے روزمرہ اسٹریس کو کنٹرول کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

اپنی پریشانی کی وضاحت کیجیے
یہ مشورہ اکثر والدین کیلئے ناقابل ہضم ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ والدین اپنے بچوں کے سامنے آئیڈیل بننے کی کوشش میں رہتےہیں اور یہ خواہش بھی کرتے ہیں کہ وہ ہماری پریشانی کی وجہ سے کہیں پریشان نہ ہوجائے۔ ایسی صورت میں، ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بچے کو سب کچھ بتانا اگر نامناسب ہے تو بچے سے سب کچھ چھپانا بھی خطرناک ہوسکتا ہے۔
بچے سے اپنی پریشانی کی کیفیت بیان کرنے سے بچے میں یہ اعتماد آسکتا ہے کہ آپ اسے اہمیت دے رہے ہیں۔ نیز، بچے سے مثبت انداز میں گفتگو یہ سمجھنے میں بھی مدد گار ہوگی کہ یہ کیفیات انسانی زندگی کا لازمہ ہیں۔ آپ کو یہ فائدہ ہوگا کہ آپ اپنی پریشانی کی شدت کو اس انداز سے کم کرنے کے قابل ہوں گے۔
مثال کے طور پر، آپ کے بچے کو اسکول جانے میں دیر ہورہی ہے۔ آپ اس پر چیختےاور غصہ کرتے ہیں۔ شام کو جب آپ دونوں ملتےہیں تو آپ اسے اپنے پاس بٹھا کر اس سے پوچھئے کہ کیا تمہیں یاد ہے کہ آج صبح جب تم اسکول جانے میں دیر کررہے تھے تو میں نے تم پر غصہ کیا تھا۔ اس کے بعد اسے بتائیےکہ آپ کا یہ غصہ بے جا نہیں تھا، اس میں اسی کا بھلا تھا۔ البتہ، اگر غصہ زیادہ ہوگیا تھا تو اس سے یہ بھی ذکر کیجیے کہ آپ نے غصہ کس وجہ سے زیادہ کردیا۔ ہوسکتا ہے، آپ پر دفتر کا دباؤ ہو یا آپ کسی اور الجھن کا شکار ہوں۔
اس سےایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ وہ بچہ اگلی صبح خود وقت پر نکلنے کی کوشش کرے گا۔ نیز، وہ یہ جان پائے گاکہ یہ منفی کیفیات زندگی کا حصہ ہیں۔ وہ پہلے سے خود کو ان چیزوں کیلئے تیار کرے گا تو اس کیلئے ممکن ہوگا کہ وہ پیش بندی کرلے۔ ایسے بچے زندگی میں آگے چل کر مسائل پیش آنے پر زیادہ اعتماد کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ایسے بچے پریشانی کی حالت میں بھی اپنے اعصاب پر قابو رکھنے کے قابل ہوتے ہیں جو کسی بھی کامیاب انسان کی بڑی خوبی ہے۔

منصوبہ بندی
یہ تو ممکن نہیں کہ پریشانیاں نہ آئیں۔ لیکن پیشگی ان کیلئے منصوبہ بندی کرلینے سے پریشانیوں کا بوجھ ہلکا ضرور ہوجاتا ہے۔ اس پیشگی منصوبہ بندی میں آپ اپنے بچوں کو بھی شامل کرسکتےہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ اپنے بچے کو بتانا چاہ رہے ہیںکہ آپ کیسا برا محسوس کررہے ہیں تو اس سے یہ بات ذکر کرکے اسے یہ بھی بتائیے کہ آپ اور وہ مل کر اس کے خاتمے کیلئے کیا کرسکتےہیں۔
تاہم، اس گفتگوکا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ بچے کو اپنی طرح پریشان کردیں یا اسے اپنی پریشانی کا ذمے دار قرار دینے لگیں۔ بلکہ اس مشق کا اصل مقصد یہ ہے کہ آپ اپنے بچے (اور شریک حیات) کے ساتھ مل کر اپنی پریشانی کو نجات کی تدبیر کرنے کےقابل ہوجائیں۔​
 
Top