• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Muslims condition in Syria (شام میں رہنے والے مسلمان اپنے تباہ شدہ گھروں کے باہر ایسے روزہ افطار کرنے پہ مجبور ہیں)

Danish Raza

New Member
ٹائٹینک پر تقریبا 2230 لوگ سوار تھے،جن میں سے 706 بچا لیا گیا تھا، اس کا مطلب ہے کہ 1500 سے زیادہ ڈوب گئے تھے۔۔۔!!
فلم میں تقریبا سارے ڈوب کر مرجاتے ہیں جبکہ ہیرو چند گھنٹے بعد سردی کی شدت سے مرتا ہے ڈوب کر نہیں۔۔۔!! یہ فلم کے واقعات ہیں۔
جس نے بھی یہ فلم دیکھی، ڈوبنے والے سینکڑوں بچوں اورخواتین کے ساتھ کسی کو ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا. حالانکہ یہ خواتین اور بچے بڑی بے بسی سے ڈوبتے ہوئے مرے. یہ فلم دیکھنے والے ہر شخص کی تمنا تھی کہ بس ہیرو اور ہیروئن ڈوبنے سے بچ جائیں۔
کیا آپ میں سے کسی نے کبھی اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ اس چور، شرابی اور جواباز ہیرو کے ساتھ فلم دیکھنے والا ہر شخص ہمدردی کا اظہار کرتا ہے جبکہ بے بسی میں ڈوب کر مرنے والے سینکڑوں بچوں اور خواتین کے ساتھ فلم دیکھنے والا کوئی بھی شخص ہمدردی کا اظہار نہیں کرتا. بلکہ دل تھام کر ہیرو اور ہیروئن کے اوپر ہی فوکس کرتا ہے؟؟ اور سب ان دو لوگوں کے لئے ہی آنسو بہاتے ہیں ۔۔
جواب:
کیونکہ پروڈیو سر کا فوکس اور توجہ اس ہیرو اور ہیروئن پر ہے. کیمرہ گھوما پھرا کر انہی کو دکھاتا ہے. ڈائیلاگ انہی کے دکھائی جارہے ہیں. گویا کہ اس کشتی میں یہی دو سوار ہیں. اس لیے فلم دیکھنے والے ہر شخص بھی ان کو ہی بھر پور توجہ سے دیکھتا ہے ،ان ڈوبنے والے سینکڑوں بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو خاطر میں نہیں لاتا۔
بالکل اسی طرح میڈیا شام، عراق، افغانستان، فلسطین، کشمیر اور برما میں مارے جانے والے مسلمانوں کا ذکر تک نہیں کرتا، جبکہ اداکاروں کے ناشتے، سیاہ کاروں کے مذاکرات، بدکاروں کے اجلاس اور بے کاروں کے تماشے پر توجہ مرکوز ہے ۔“

(شام میں رہنے والے مسلمان اپنے تباہ شدہ گھروں کے باہر ایسے روزہ افطار کرنے پہ مجبور ہیں)​

English translation(for those people who can not read Urdu)
About 2230 people were aboard the Titanic, of which 706 were rescued, which means that more than 1500 drowned ... !!
In the movie, almost everyone drowns and dies, while the hero dies a few hours later from the cold, not by drowning ... !! These are the events of the film.
Whoever watched the film did not see anyone expressing sympathy with the hundreds of children and women who drowned. However, these women and children drowned helplessly. Everyone who watched the film wished that the hero and heroine would not drown.
Have any of you ever asked yourself that everyone who watches the movie sympathizes with this thief, drunk and responsive hero while someone who watches the movie with the hundreds of children and women who drowned in helplessness? Even the person does not show empathy. Rather, he focuses on the hero and heroine by holding his heart ?? And everyone sheds tears for these two people.
the answer:
Because the focus and focus of the production head is on this hero and heroine. The camera turns and shows them. The dialogs are displayed. As if there are only two passengers in this boat. Therefore, every person who watches the film also watches them with full attention, does not bring to mind the hundreds of drowning children, old people and women.
Similarly, the media does not even mention the Muslims killed in Syria, Iraq, Afghanistan, Palestine, Kashmir and Burma, while focusing on the breakfast of the actors, the talks of the black cars, the meetings of the wicked and the spectacle of the useless.



(Muslims in Syria are forced to break their fast outside their destroyed homes)
78

 

Fatima Rizvi

New Member
ٹائٹینک پر تقریبا 2230 لوگ سوار تھے،جن میں سے 706 بچا لیا گیا تھا، اس کا مطلب ہے کہ 1500 سے زیادہ ڈوب گئے تھے۔۔۔!!
فلم میں تقریبا سارے ڈوب کر مرجاتے ہیں جبکہ ہیرو چند گھنٹے بعد سردی کی شدت سے مرتا ہے ڈوب کر نہیں۔۔۔!! یہ فلم کے واقعات ہیں۔
جس نے بھی یہ فلم دیکھی، ڈوبنے والے سینکڑوں بچوں اورخواتین کے ساتھ کسی کو ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا. حالانکہ یہ خواتین اور بچے بڑی بے بسی سے ڈوبتے ہوئے مرے. یہ فلم دیکھنے والے ہر شخص کی تمنا تھی کہ بس ہیرو اور ہیروئن ڈوبنے سے بچ جائیں۔
کیا آپ میں سے کسی نے کبھی اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ اس چور، شرابی اور جواباز ہیرو کے ساتھ فلم دیکھنے والا ہر شخص ہمدردی کا اظہار کرتا ہے جبکہ بے بسی میں ڈوب کر مرنے والے سینکڑوں بچوں اور خواتین کے ساتھ فلم دیکھنے والا کوئی بھی شخص ہمدردی کا اظہار نہیں کرتا. بلکہ دل تھام کر ہیرو اور ہیروئن کے اوپر ہی فوکس کرتا ہے؟؟ اور سب ان دو لوگوں کے لئے ہی آنسو بہاتے ہیں ۔۔
جواب:
کیونکہ پروڈیو سر کا فوکس اور توجہ اس ہیرو اور ہیروئن پر ہے. کیمرہ گھوما پھرا کر انہی کو دکھاتا ہے. ڈائیلاگ انہی کے دکھائی جارہے ہیں. گویا کہ اس کشتی میں یہی دو سوار ہیں. اس لیے فلم دیکھنے والے ہر شخص بھی ان کو ہی بھر پور توجہ سے دیکھتا ہے ،ان ڈوبنے والے سینکڑوں بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو خاطر میں نہیں لاتا۔
بالکل اسی طرح میڈیا شام، عراق، افغانستان، فلسطین، کشمیر اور برما میں مارے جانے والے مسلمانوں کا ذکر تک نہیں کرتا، جبکہ اداکاروں کے ناشتے، سیاہ کاروں کے مذاکرات، بدکاروں کے اجلاس اور بے کاروں کے تماشے پر توجہ مرکوز ہے ۔“

(شام میں رہنے والے مسلمان اپنے تباہ شدہ گھروں کے باہر ایسے روزہ افطار کرنے پہ مجبور ہیں)​

English translation(for those people who can not read Urdu)
About 2230 people were aboard the Titanic, of which 706 were rescued, which means that more than 1500 drowned ... !!
In the movie, almost everyone drowns and dies, while the hero dies a few hours later from the cold, not by drowning ... !! These are the events of the film.
Whoever watched the film did not see anyone expressing sympathy with the hundreds of children and women who drowned. However, these women and children drowned helplessly. Everyone who watched the film wished that the hero and heroine would not drown.
Have any of you ever asked yourself that everyone who watches the movie sympathizes with this thief, drunk and responsive hero while someone who watches the movie with the hundreds of children and women who drowned in helplessness? Even the person does not show empathy. Rather, he focuses on the hero and heroine by holding his heart ?? And everyone sheds tears for these two people.
the answer:
Because the focus and focus of the production head is on this hero and heroine. The camera turns and shows them. The dialogs are displayed. As if there are only two passengers in this boat. Therefore, every person who watches the film also watches them with full attention, does not bring to mind the hundreds of drowning children, old people and women.
Similarly, the media does not even mention the Muslims killed in Syria, Iraq, Afghanistan, Palestine, Kashmir and Burma, while focusing on the breakfast of the actors, the talks of the black cars, the meetings of the wicked and the spectacle of the useless.



(Muslims in Syria are forced to break their fast outside their destroyed homes)
View attachment 78

well said
 
Top