• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information IRFAN KHAN LETTER WHICH HE WROTE JUNE 23, 2018.(کینسر کے مریض اداکار عرفان خان کا خط)

''کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تمہاری آنکھ اس جھٹکے سے کھلتی ہے جو زندگی تمہیں جگانے کے دیتی ہے، تم ہڑبڑا کے اٹھ جاتے ہو۔ پچھلے پندرہ دنوں سے میری زندگی ایک سسپنس والی کہانی بنی ہوئی ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ انوکھی کہانیوں کا پیچھا کرتے کرتے میں خود ایک انوکھی بیماری کے پنجوں میں پھنس جاؤں گا۔ ابھی تھوڑے دنوں پہلے ہی مجھے اپنے نیورو اینڈوکرائن (آنتوں سے متعلق) کینسر کے بارے میں پتا چلا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کے مریض پوری دنیا میں بہت ہی کم ہیں، نہ ہونے کے برابر۔ مریض نہیں ہیں تو اس پہ تحقیق بھی ویسے نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہئے تھی۔ نتیجہ کیا ہو گا؟ ڈاکٹروں کے پاس دوسری بیماریوں کی نسبت اس کے بارے میں کم معلومات ہیں، علاج کامیاب ہو گا یا نہیں، یہ بھی سب ہوا میں ہے، اور میں... میں بس دواؤں اور تجربوں کے کھیل کا ایک حصہ ہوں۔

یہ میرا کھیل نہیں تھا بھائی، میں تو ایک فل سپیڈ والی بلٹ ٹرین میں سوار تھا، میرے تو خواب تھے، کچھ کام تھے جو کرنے تھے، کچھ خواہشیں تھیں، کچھ ٹارگٹ تھے، کچھ تمنائیں تھیں، آرزوئیں تھیں، اور میں بالکل ان کے درمیان لٹکا ہوا تھا۔ اب کیا ہوتا ہے کہ اچانک پیچھے سے کوئی آ کر میرے کندھا تھپتھپاتا ہے، میں جو مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ ٹکٹ چیکر ہے؛ ''تمہارا سٹاپ آنے والا ہے بابو، چلو اب نیچے اترو‘‘۔ میں ایک دم پریشان ہو جاتا ہوں؛ ''نہیں نہیں بھائی میاں، میری منزل ابھی دور ہے یار‘‘۔ اور پھر ٹکٹ چیکر مجھے سمجھانے والے انداز میں کہتا ہے؛ ''نہ، یہی ہے، سٹاپ تو بس یہی ہے، ہو جاتا ہے، کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے‘‘۔
اس اچانک پن میں پھنس کے مجھے سمجھ آ گئی کہ ہم سب کس طرح سمندر کی بے رحم لہروں کے اوپر تیرتے ایک چھوٹے سے لکڑی کے ٹکڑے کی طرح ہیں۔ بے یقینی کی ہر بڑی لہر کے آگے ہم تو بس اپنے چھوٹے سے وجود کو سنبھالنے میں لگے رہتے ہیں۔ نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔ ہرا سمندر گوپی چندر، بول میری مچھلی، کتنا پانی، اتنا پانی! تو بس پانی، بے رحم پانی، وقت کی موجوں کے تھپیڑوں میں تیرتی نامعلوم ہستی اور پانی!

اس مصیبت میں پھنسنے کے بعد ایک دن جب میں ڈرا سہما ہوا ہسپتال جا رہا تھا تو میں نے اپنے بیٹے سے ایویں بڑبڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے اس وقت اپنے آپ سے کچھ نہیں چاہئے، ہاں بس اتنا ضرور ہے کہ یار اس عذاب سے میں اس طرح نہ گزروں جیسے اب اس وقت گزر رہا ہوں۔ مجھے اپنا سکون اپنا اطمینان واپس چاہئے۔ یہ جو ڈر، جو خوف، جو پریشانیاں میرے کندھوں پہ چڑھی بیٹھی ہیں میں انہیں اٹھا کے پھینک دینا چاہتا ہوں، میں ایسی قابل رحم قسم کی ہونق حالت میں اب مزید نہیں رہنا چاہتا۔ اس بیماری کا شکار ہونے کے بعد میری واحد خواہش یہی تھی۔ اور پھر اپنی تکلیف کی طرف میرا دھیان چلا گیا۔ مطلب اتنے عرصے سے میں بس اپنی تکلیف جھیل رہا تھا، برداشت کر رہا تھا، درد کی شدت کا احساس کر رہا تھا، لیکن اس پوری مدت میں کوئی بھی چیز اسے ختم نہیں کر پا رہی تھی۔ کوئی ہمدردی، پیار بھرے بول، کوئی ہمت بندھانے والی بات، کچھ بھی نہیں! اس وقت پتا ہے کیسا لگتا تھا؟ جیسے پوری کائنات صرف ایک چیز کا روپ دھار چکی ہے ، درد، خوفناک درد۔ وہ درد جو ہر چیز سے بڑا ہے!

ہر چیز سے مایوس ہو کر تھکا ہارا، بے حال جب میں ہسپتال کے اندر داخل ہو رہا تھا تو سامنے کی طرف میری نظر پڑی۔ ادھر لارڈز کرکٹ گراؤنڈ تھا۔ وہ لارڈز جسے دیکھنا میرے بچپن کی سب سے بڑی حسرت تھا۔ اور اب اس تکلیف کے دوران وہاں لگا ویوین رچرڈز کا ایک بڑا سا ہنستا ہوا پوسٹر بھی مجھے اپنی طرف کھینچ نہیں سکا۔ دنیا تو جیسے اب میرے کام کی رہ ہی نہیں گئی تھی۔ خیر، اس ہسپتال میں ایک کوما وارڈ بھی تھا، وہ سارے مریض جو لمبے عرصے کے لیے ہوش اور بے ہوشی بلکہ زندگی اور موت کے درمیان لٹکے ہوتے تھے، وہ ادھر رکھے جاتے تھے، اوپر، بالکل میرے وارڈ کے اوپر والے کمرے میں۔ ایک دن میں اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا تھا تو جیسے ایک جھماکا ہوا۔ گیم آف لائف اور گیم آف ڈیتھ کے بیچ میں ہے کیا؟ ایک سڑک؟ (کرکٹ کو گیم آف لائف بھی کہتے ہیں) ایک طرف ایک ہسپتال ہے اور اس کے بالکل سامنے دوسری طرف ایک سٹیڈیم، اور دونوں میں کھیلے جانے والے کھیل کی ایک چیز کامن ہے ، بے یقینی۔ نہ لارڈز سٹیڈیم میں پتہ ہے کہ اگلی گیند پہ کیا ہو گا، نہ ہسپتال میں اگلی سانس کا پتہ ہے۔ کامل بے یقینی۔ یہ فیلنگ جیسے میرے اندر اتر گئی۔

اب مجھے کائنات کی وسعت، اس کی طاقت اور اس کا نظام، سب کچھ کہیں نہ کہیں سمجھ آنا شروع ہو گئے تھے۔ آخر میرا ہسپتال ایک کھیل کے میدان کے سامنے کیوں تھا؟ اور صرف میں نے ہی اس بات کو اتنی شدت سے محسوس کیوں کیا؟ یہ سب مجھے آپس میں جڑا ہوا لگنے لگا۔ تو سمجھو کہ بس جو چیز یقینی ہے وہ بے یقینی ہے۔ یعنی بے یقینی کے علاوہ اس پوری کائنات میں کچھ بھی ایسا نہیں جسے یقینی کہا جا سکے۔ اب جب سبھی بے یقینی کے بہاؤ میں ہیں تو میں کیا اور میری بے یقینی کیا؟ مجھے تو بس اپنی باقی رہ جانے والی طاقت کو سنبھالنا ہے اور اپنے حصے کا کھیل اچھے سے کھیلنا ہے، دیٹس اٹ! تو بس اس ایک لمحے کے بعد مجھے سمجھ آ گئی۔ میں جان گیا کہ نتیجہ جو بھی نکلے مجھے اس حقیقت کو ماننا ہو گا۔ ادھر سب کچھ ایسا ہی ہے۔ چاہے میرے پاس آٹھ مہینے بچے ہیں، چاہے دو ماہ یا بے شک دو مزید سال، سب کچھ ایک طوفانی لہر میں ہے۔ اس کے بعد تمام خدشے، تمام ڈر، تمام خوف، تمام پریشانیاں سب کچھ دھندلے ہوتے گئے اور میرا دماغ ان سب سے خالی ہو گیا۔
ساری عمر میں پہلی بار تب مجھے اندازہ ہوا کہ آزادی کا مطلب واقعی میں ہے کیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے مجھے کوئی بڑی کامیابی ملی ہے۔ جیسے زندگی کا جادو بھرا ذائقہ مجھے پہلی بار چکھنے کو ملا ہے اور یہ سب میرے جسم کی ایک ایک پور میں اتر چکا تھا۔ اس پوری بیماری کے دوران لوگ میرے لیے دعائیں کرتے رہے ہیں، لوگ جنہیں میں جانتا ہوں، لوگ جنہیں میں نہیں بھی جانتا، وہ سب مختلف جگہوں پہ، مختلف ٹائم زونز میں رہتے ہوئے میرے لیے دعائیں کرتے رہے اور مجھے لگا کہ ان کی سب دعائیں مل کے ایک ہو گئیں۔ ایک بڑی سی طاقت، جیسے ایک لہر کی، بڑی سی موج کی طاقت ہوتی ہے ، وہ بس ریڑھ کی ہڈی سے میرے اندر تک اتر گئی اور میری کھوپڑی کے اندر اس نے اپنی جڑیں بنا لیں۔ اب وہ ادھر اگتی رہتی ہے، کبھی ایک چھوٹا سا امید کا پودا، کبھی ایک پتا، کبھی ایک نرم سا تنا۔ میں اسے دیکھتا ہوں اور خوش ہوتا رہتا ہوں۔ اتنی ساری دعاؤں کے نتیجے میں اس پہ جو بھی پھول اگتا ہے، جو بھی نئی ٹہنی نکلتی ہے، جو بھی پتا آتا ہے، وہ مجھے صرف خوشگوار سی حیرت اور خوشیاں دیتا ہے۔ تو وہ جو لکڑی کا ننھا سا ٹکڑا ہے نا، اسے کیا ضرورت کہ وہ پانی کے بہاؤ کا رخ بدلنے کی کوشش کرے؟ اسے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہم سب قدرت کی گود میں بیٹھے ہیں جو ہمیں ہلکے پھلکے جھولے دے رہی ہے، نہ اس سے زیادہ نہ اس سے کچھ بھی کم، دیٹس اٹ‘‘

 
IRFAN KHAN LETTER WHICH HE WROTE JUNE 23, 2018

"Sometimes it happens that your eye is opened by the shock that life wakes you up, you get up in a hurry. For the past fortnight, my life has been a suspenseful story. Little did I know that I would find myself in the clutches of a strange disease as I pursued strange stories. Just a few days ago I found out about my neuroendocrine (bowel) cancer. I have also learned that it is a disease with very few, if any, patients all over the world. If you are not a patient, then the research has not been done as it should be. What will be the result? Doctors have less information about it than other diseases, whether the treatment will be successful or not, it's all in the air, and I ... I'm just a part of the game of medicine and experiments.

It wasn't my game bro, I was riding in a full speed bullet train, I had dreams, there were things to do, there were desires, there were targets, there were aspirations, there were aspirations, and I Was hanging between What happens now is that suddenly someone comes from behind and slaps me on the shoulder. When I look back, it is a ticket checker: "Your stop is coming, Babu, let's get down now." I get upset for a moment, "No, no, brother Mian, my destination is far away man." And then the ticket checker explains to me, "No, that's it, that's the stop, that's it, it happens, sometimes it happens."
Trapped in this suddenness, I realized how we are all like a small piece of wood floating on the merciless waves of the sea. In the face of every big wave of uncertainty, we just keep on handling our small existence. Neither less nor more Green Sea Gopi Chandra, speak my fish, how much water, so much water! So just water, ruthless water, unknown being floating in the waves of time and water!

One day when I was going to the hospital in a panic after getting into this trouble, I muttered to my son, "I don't want anything from myself at this time. Yes, that's all. Don't pass like I'm passing now. I want my peace and contentment back. The fears, the fears, the worries that have been on my shoulders, I want to pick them up and throw them away, I don't want to live in such a pitiful state anymore. That was my only wish after suffering from this disease. And then I turned my attention to my pain. I mean, for so long I was just enduring my pain, enduring it, feeling the intensity of the pain, but nothing was going to end it all that time. No sympathy, no loving words, no encouragement, nothing! Do you know what it was like at that time? Like the whole universe has become one thing, pain, terrible pain. The pain that is greater than anything!

Disappointed and exhausted by everything, I looked to the front as I entered the hospital. There was Lord's Cricket Ground. The Lord I longed to see was my childhood. And now, in the midst of this ordeal, a large laughing poster of Vivian Richards could not pull me in. The world was no longer my job. Well, there was a coma ward in this hospital, all the patients who were unconscious for a long time and hanging between life and death, they were kept there, upstairs, in the room just above my ward. One day I was standing on the balcony of my room when there was a bang. What's in between the Game of Life and the Game of Death? A road? (Cricket is also called the Game of Life.) There is a hospital on one side and a stadium right in front of it on the other, and one thing in common in both games is uncertainty. Neither Lord's Stadium knows what will happen to the next ball, nor the hospital knows the next breath. Perfect uncertainty. It was as if a feeling came over me.

Now I began to understand the vastness of the universe, its power and its system, all somewhere. Why was my hospital in front of a playground? And why did I feel the same way? It all seemed to me to be interconnected. So understand that what is certain is uncertain. That is, there is nothing in this entire universe other than uncertainty that can be said to be certain. Now that everyone is in a state of uncertainty, what am I and what is my uncertainty? All I have to do is handle the rest of my strength and play my part well, that's it! So just after that one moment I understood. I realized that whatever the outcome, I would have to accept that fact. Everything is like that here. Whether I have an eight-month-old baby, two months or, of course, two more years, everything is in a whirlwind. Then all the fears, all the fears, all the fears, all the worries all faded and my mind became empty of them all.
For the first time in my life, I realized what freedom really means. It was as if I had some great success. It was as if I had tasted the magical taste of life for the first time and all this had descended into my body. Throughout this illness people have been praying for me, people I know, people I don't even know, all of them have been praying for me in different places, in different time zones and I felt that all of them The prayers became one.

A big force, like a wave, has the power of a big wave, it just came down from the spine to me and it took root inside my skull. Now it grows here, sometimes a small plant of hope, sometimes a leaf, sometimes a soft stem. I watch it and keep rejoicing. As a result of so many prayers, every flower that grows on it, every new branch that grows, whatever is known, it gives me only pleasant surprises and joys. So the little piece of wood, why does he need to try to change the direction of the flow of water? He should understand that we are all sitting in the lap of nature which is giving us light swings, neither more nor less than that.
 
Top