• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information how we can change our thinking (اپنی سوچ بدلیے، زندگی خود بدل جائے گی)

Ali Raza liaqat

Administrator
اپنی سوچ بدلیے، زندگی خود بدل جائے گی

غیر معمولی شخصیت بننے کیلئے آپ کی سوچ غیر معمولی ہونی چاہیے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی کی ابتدا بھی ایک سوچ سے ہوئی ہے۔ غاروں کے دَور سے آج تک کی تمام ترقی صرف انسان کی سوچ اور غورو فکر کا نتیجہ ہے۔ انسان نے ابتدا سے ہی زندگی کو باسہولت بنانے کیلئے سوچنا شروع کیا اور آج اس سوچ کی وجہ سے بجلی، ٹیلی فون، ہوائی جہاز، کمپیوٹر، موبائل فون جیسی سہولیات ہر ایک کو میسر ہیں۔
عظیم لوگوں کو منفرد بنانے والی طاقت کا نام ان کی سوچ ہے۔ ایک سوچ کی اپنی کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ ہر شخص کی ایک ہی واقعے کے حوالے سے سوچ مختلف ہوتی ہے، لیکن ہر سوچ ایک حقیقت کو جنم دیتی ہے۔ آپ کے تمام حالات آپ کی سوچ کے مرہونِ منت ہیں، کیونکہ آپ جیسا سوچتے ہیں ویسا بن جاتے ہیں۔ جو شخص کامیابی اور خوش حالی کا نہیں سوچتا، وہ اسے حاصل بھی نہیں کر سکتا۔ سوچ پانی کے بہاؤ کی مانند ہے۔ جب یہ بہاؤ متواتر ایک پتھر پر پڑتا رہے تو سخت پتھر بھی کٹ جاتا ہے اور اسے راستہ فراہم کر دیتا ہے۔
اس دنیا میں نہ کچھ اچھا ہے اور نہ برا۔ یہ فقط آپ کے سوچنے کا انداز ہے۔ لوگ اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں، لیکن سوچ بدلنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے اُن کی زندگی بھی کامیاب نہیں ہوتی۔ ہمارے حالات ہمارا انتخاب نہیں، لیکن ہم اپنے خیالات کو ضرور منتخب کرسکتے ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ’’ ہم اپنے خیالات کو بدل کر اپنے حالات بدل سکتے ہیں۔‘‘ ایک اچھا انسان بننے کیلئے اچھا اور مثبت سوچیے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے :

’’نیک گمان رکھنا عبادت کا حصہ ہے۔‘‘

اگر آپ اپنی کارکردگی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ایسی سوچ اپنائیے جو آپ کی صلاحیتوں کو ابھارے۔ وہ لوگ جو آپ سے بہتر حالت میں ہیں ان سے گفتگو کیجیے اور ان کے خیالات اور سوچ کو اپنایئے۔ آپ کو بھی ان جیسے نتائج ملنا شروع ہو جائیں گے۔ سوچنا ایک فن ہے۔ منفرد سوچ آپ کو منفرد بنا سکتی ہے۔
چلیں، آپ اچھا نہیں سوچ سکتے تو برا بھی مت سوچیں۔ منفی سوچ دیمک کی مانند ہے جو آپ کی ذات کو کھوکھلا کردیتی ہے۔ یہ آپ کی خوشیاں چھین لیتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ پائیدار اور دیر پا لکڑی ٹیک کی ہے۔ ٹیک کو دیمک نہیں لگتا، کیونکہ دیمک اس کے ذائقے کو پسند نہیں کرتی۔ آپ بھی منفی سوچ جو کہ دیمک کی مانند ہے کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔ اس طرح آپ مضبوط شخصیت کے مالک بن جائیں گے۔ ہر سوچ ایک بیج کی مانند ہے اور آپ کا ذہن ایک زمین کی طرح ہے۔ آپ نے اس زمین میں اپنی مرضی کے پھولوں والے پودے نہ بوئے تو غیر ضروری جھاڑیاں اور کانٹے اگنے لگیں گے۔
ایک سوچ ایک عمل کو جنم دیتی ہے۔ جب آپ کوئی عمل بار بار کرتے ہیں تو یہ آپ کی عادت بن جاتا ہے۔ آپ کی عادت پختہ ہو جائے تو وہ آپ کے کردار کو جنم دیتی ہے اور آپ کا کردار آپ کی تقدیر بناتا ہے، اس لیے اپنی تقدیر بدلنے کیلئے آپ کو اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔ بہتر سوچ بہتر رویہ پیدا کرتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ

Our Attitude Determines our altitude

یعنی زندگی میں ہماری بلندی کا تعین ہمارا رویہ کرتا ہے۔ اپنے رویے کو شان دار بنانے کیلئے اپنی سوچ کو جان دار بنائیے۔ آپ کی موجودہ حالت آپ کے ماضی کے خیالات کا نتیجہ ہے اور آپ کے مستقبل کو آپ کی آج کی سوچ متاثر کرتی ہیں۔ اچھی قسمت کا دوسرا نام مثبت سوچ اور اچھا خیال ہے، کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ ایک شخص باکمال سوچے اور اس کو شان دار نتائج نہ ملیں اس دنیا پر آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کوئی گندم بوئے اور کپاس کی فصل اگ آئے۔ جو بویا جاتا ہے، وہی کاٹا جاتا ہے۔

ہر چیز کا حصول ممکن ہے، بہ شرطیکہ سنجیدگی سے اس کے بارے میں سوچا جائے۔ المیہ یہ ہے کہ لوگ ناکامی سے بچنے کا سوچتے ہیں، حالانکہ انھیں کامیابی کا سوچنا چاہیے۔ بے شمار لوگ اپنی زندگی کو
فقط گزارنے کا سوچ رہے ہیں۔ انہیں اپنی زندگی کو خوش حال بنانے کا سوچنا چاہیے۔ طالب علم فیل نہ ہونے کا سوچتے رہتے ہیں، انھیں بھی اعلیٰ نمبروں کے حصول کے متعلق سوچنا چاہیے۔ اسی طرح لوگ جرائم، برائیوں، سماجی خرافات، خود کشی، غربت، بدنظمی، بدحالی، مسائل اور بیماریوں کے متعلق سوچتے رہتے ہیں۔ یہ تمام خیالات ان کی شخصیت کو تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔ انسان جب بولتا ہے تو اپنی سوچ اور شخصیت کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے اور آج انہی مسائل اور مصائب کے تذکرے اور تبصرے ہر فرد کی زبان پر ہیں۔ آپ خود انصاف کریں کہ برائیوں کو سوچنے اور زیر بحث لانے سے کیا یہ ختم ہو جائیں گی۔ بہت کم لوگ ان برائیوں اور مسائل کے حل کے متعلق غورو فکر کر رہے ہیں اور وہی ہیرو کہلانے کے حق دار ہیں۔

اگر آپ نے پہلے کبھی اپنی زندگی کو شان دار بنانے کے متعلق نہیں سوچا تو اب سوچیے ۔ سوچ پر کوئی پابندی نہیں۔ خواب دیکھنا کوئی جرم نہیں۔ آپ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے بارے میں سوچیے۔ اس دولت کی مدد سے آپ ایک عالی شان گھر حاصل کرسکیں گے، ایک بڑی گاڑی آپ کے گیراج میں کھڑی ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ عزت و احترام اور محبت و چاہت سے بھرپور زندگی کے بارے میں سوچیے۔ سیروتفریح کے ڈھیروں مواقع اور خوشیوں، مسرتوں کا تصور ذہن میں لائیے۔ اپنی من پسند زندگی گزارنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ لاتعداد محبت کرنے والے دوست احباب آپ کے ساتھ ہوں گے۔ آپ تمام طرح کی فکروں سے آزاد ہو کر ایک امن و سکون والی زندگی گزار رہے ہوں، آپ کی زندگی دوسروں کیلئے فائدہ مند بن جائے اور آپ ایک مثالی انسان بن جائیں۔ جب تک آپ اس طرح کی فائدہ مند سوچ اپنے اندر داخل نہیں ہونے دیں گے، آپ کی زندگی نہیں بدلے گی۔ بڑا سوچیے، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ "Think more get more"۔ یہ زندگی اُن لوگوں کو محدود نتائج دیتی ہے جو محدود سوچ اپناتے ہیں۔

یہ اصول یاد رکھیے کہ فقط ایک بار سوچنے سے بات نہیں بنتی۔ متواتر سوچیے کیونکہ دنیا کے تمام بڑے لوگ دن میں کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔آپ بار بار سوچیے کہ آپ کو کیا حاصل کرنا ہے۔ اس طرح یہ سوچ آپ کے اندر چھپے ہوئے جن کو جگا دے گی۔ یہ جن آپ کا لاشعور ہے۔ لاشعور جس خیال اور سوچ کو ایک بار پکڑ لے تو وہ اسے حاصل کرکے ہی رہتا ہے۔ اس کو فعال (Active)کرنے کیلئے آپ کو بار بار اپنی کامیابی کے متعلق سوچنا ہوگا۔ آپ پہلے یہ سوچیے کہ آپ نے آئندہ سے کیا سوچنا ہے۔ اگر ایک شخص درست انداز میں سوچنے کے فن سے آشنا ہو جائے تو یقینا اس نے زندگی گزارنے کا فن سیکھ لیا۔​
 
Last edited:

Ali Raza liaqat

Administrator
how we can change our thoughts

"Change your thinking, life will change itself"

To be an extraordinary person, you have to be extraordinary. The world's greatest success has begun with a single thought. All progress from the Cave Age to the present day is the result of human thought and reflection. From the very beginning man started thinking of making life easier and today due to this thinking facilities like electricity, telephone, airplane, computer, mobile phone are available to everyone.
The power that makes great people unique is their thinking. One thought has no reality of its own, because every person thinks differently about the same event, but every thought gives rise to a reality. All your circumstances are due to your thinking, because they become what you think they are. One who does not think of success and happiness cannot achieve it. Thinking is like the flow of water. When this flow is constantly falling on a rock, the hard rock is also cut and gives way to it.
There is nothing good or bad in this world. It's just your way of thinking. People want to change their lives, but they are not ready to change their minds. That is why their life is not successful. Our circumstances are not our choice, but we can choose our ideas. It is an inescapable fact that "we can change our circumstances by changing our thoughts." Think good and positive to be a good person. The meaning of the hadith is:

"Good thinking is part of worship."

If you want to improve your performance, adopt a mindset that enhances your abilities. Talk to people who are better off than you and adopt their ideas and thinking. You will start to get similar results. Thinking is an art. Unique thinking can make you unique.
Come on, if you can't think well, don't think badly. Negative thinking is like a termite that hollows out your caste. It robs you of happiness. The most durable and long lasting wood tech in the world. Tech doesn't like termites, because termites don't like its taste. Don't let negative thoughts like termites come near you. That way you will have a stronger personality. Every thought is like a seed and your mind is like an earth. If you do not plant the flowering plants of your choice in this land, unnecessary bushes and thorns will start growing.

A thought gives rise to an action. When you do something over and over again, it becomes a habit. When your habit matures, it gives birth to your character and your character makes your destiny, so to change your destiny you have to change your thinking. Better a poor horse than no horse at all

"Our Attitude Determines our altitude"

That is, our attitude determines our height in life.
Make your thinking come alive to make your behavior great. Your present state is the result of your past thoughts and your future is influenced by your present thinking. Another name for good luck is positive thinking and a good idea, because it is not possible for a person to think perfectly and not get great results. It has never happened in this world that a wheat crop and a cotton crop have sprouted. What is sown is reaped.

Everything is possible, provided you think about it seriously. The tragedy is that people try to avoid failure, even though they must think of success. Countless people are just thinking of living their lives. They should think about making their lives happier. Students keep thinking about not failing, they should also think about getting high marks. In the same way, people keep thinking about crime, evils, social superstitions, suicide, poverty, disorder, misery, problems and diseases. All these thoughts destroy his personality. When a person speaks, he is expressing his thoughts and personality and today the same problems and sufferings are mentioned and commented on in the language of every individual. Judge for yourself if thinking and discussing evils will end them. Very few people are thinking about the solution of these evils and problems and they deserve to be called heroes.

If you have never thought about making your life better, think now. There are no restrictions on thinking. Dreaming is not a crime. Think about making as much money as you can. With the help of this wealth you will be able to get a luxurious house, a big car will be parked in your garage. Think of a life full of respect and love. Imagine for a second you were transposed into the karmic driven world of Earl. What do you think about living your life to the fullest? Innumerable loving friends will be with you. You are living a peaceful life free from all worries, your life will be useful to others and you will become an ideal human being. Unless you allow this kind of useful thinking to enter you, your life will not change. Think big, because it is said "Think more get more". This life gives limited results to those who adopt limited thinking.

Remember the rule that just thinking once is not enough. Think regularly because all the great people of the world are accustomed to dreaming with open eyes during the day. Think again and again about what you have to achieve. In this way, this thought will awaken those hidden inside you. This is your subconscious. Once the subconscious catches the thought and thinking, it only acquires it. To activate it, you need to think about your success over and over again. Think about what you think of the future. If a person becomes acquainted with the art of thinking correctly, then surely he has learned the art of living.
 
اپنی سوچ بدلیے، زندگی خود بدل جائے گی

غیر معمولی شخصیت بننے کیلئے آپ کی سوچ غیر معمولی ہونی چاہیے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی کی ابتدا بھی ایک سوچ سے ہوئی ہے۔ غاروں کے دَور سے آج تک کی تمام ترقی صرف انسان کی سوچ اور غورو فکر کا نتیجہ ہے۔ انسان نے ابتدا سے ہی زندگی کو باسہولت بنانے کیلئے سوچنا شروع کیا اور آج اس سوچ کی وجہ سے بجلی، ٹیلی فون، ہوائی جہاز، کمپیوٹر، موبائل فون جیسی سہولیات ہر ایک کو میسر ہیں۔
عظیم لوگوں کو منفرد بنانے والی طاقت کا نام ان کی سوچ ہے۔ ایک سوچ کی اپنی کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ ہر شخص کی ایک ہی واقعے کے حوالے سے سوچ مختلف ہوتی ہے، لیکن ہر سوچ ایک حقیقت کو جنم دیتی ہے۔ آپ کے تمام حالات آپ کی سوچ کے مرہونِ منت ہیں، کیونکہ آپ جیسا سوچتے ہیں ویسا بن جاتے ہیں۔ جو شخص کامیابی اور خوش حالی کا نہیں سوچتا، وہ اسے حاصل بھی نہیں کر سکتا۔ سوچ پانی کے بہاؤ کی مانند ہے۔ جب یہ بہاؤ متواتر ایک پتھر پر پڑتا رہے تو سخت پتھر بھی کٹ جاتا ہے اور اسے راستہ فراہم کر دیتا ہے۔
اس دنیا میں نہ کچھ اچھا ہے اور نہ برا۔ یہ فقط آپ کے سوچنے کا انداز ہے۔ لوگ اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں، لیکن سوچ بدلنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے اُن کی زندگی بھی کامیاب نہیں ہوتی۔ ہمارے حالات ہمارا انتخاب نہیں، لیکن ہم اپنے خیالات کو ضرور منتخب کرسکتے ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ’’ ہم اپنے خیالات کو بدل کر اپنے حالات بدل سکتے ہیں۔‘‘ ایک اچھا انسان بننے کیلئے اچھا اور مثبت سوچیے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے :

’’نیک گمان رکھنا عبادت کا حصہ ہے۔‘‘

اگر آپ اپنی کارکردگی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ایسی سوچ اپنائیے جو آپ کی صلاحیتوں کو ابھارے۔ وہ لوگ جو آپ سے بہتر حالت میں ہیں ان سے گفتگو کیجیے اور ان کے خیالات اور سوچ کو اپنایئے۔ آپ کو بھی ان جیسے نتائج ملنا شروع ہو جائیں گے۔ سوچنا ایک فن ہے۔ منفرد سوچ آپ کو منفرد بنا سکتی ہے۔
چلیں، آپ اچھا نہیں سوچ سکتے تو برا بھی مت سوچیں۔ منفی سوچ دیمک کی مانند ہے جو آپ کی ذات کو کھوکھلا کردیتی ہے۔ یہ آپ کی خوشیاں چھین لیتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ پائیدار اور دیر پا لکڑی ٹیک کی ہے۔ ٹیک کو دیمک نہیں لگتا، کیونکہ دیمک اس کے ذائقے کو پسند نہیں کرتی۔ آپ بھی منفی سوچ جو کہ دیمک کی مانند ہے کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔ اس طرح آپ مضبوط شخصیت کے مالک بن جائیں گے۔ ہر سوچ ایک بیج کی مانند ہے اور آپ کا ذہن ایک زمین کی طرح ہے۔ آپ نے اس زمین میں اپنی مرضی کے پھولوں والے پودے نہ بوئے تو غیر ضروری جھاڑیاں اور کانٹے اگنے لگیں گے۔
ایک سوچ ایک عمل کو جنم دیتی ہے۔ جب آپ کوئی عمل بار بار کرتے ہیں تو یہ آپ کی عادت بن جاتا ہے۔ آپ کی عادت پختہ ہو جائے تو وہ آپ کے کردار کو جنم دیتی ہے اور آپ کا کردار آپ کی تقدیر بناتا ہے، اس لیے اپنی تقدیر بدلنے کیلئے آپ کو اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔ بہتر سوچ بہتر رویہ پیدا کرتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ

Our Attitude Determines our altitude

یعنی زندگی میں ہماری بلندی کا تعین ہمارا رویہ کرتا ہے۔ اپنے رویے کو شان دار بنانے کیلئے اپنی سوچ کو جان دار بنائیے۔ آپ کی موجودہ حالت آپ کے ماضی کے خیالات کا نتیجہ ہے اور آپ کے مستقبل کو آپ کی آج کی سوچ متاثر کرتی ہیں۔ اچھی قسمت کا دوسرا نام مثبت سوچ اور اچھا خیال ہے، کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ ایک شخص باکمال سوچے اور اس کو شان دار نتائج نہ ملیں اس دنیا پر آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کوئی گندم بوئے اور کپاس کی فصل اگ آئے۔ جو بویا جاتا ہے، وہی کاٹا جاتا ہے۔

ہر چیز کا حصول ممکن ہے، بہ شرطیکہ سنجیدگی سے اس کے بارے میں سوچا جائے۔ المیہ یہ ہے کہ لوگ ناکامی سے بچنے کا سوچتے ہیں، حالانکہ انھیں کامیابی کا سوچنا چاہیے۔ بے شمار لوگ اپنی زندگی کو
فقط گزارنے کا سوچ رہے ہیں۔ انہیں اپنی زندگی کو خوش حال بنانے کا سوچنا چاہیے۔ طالب علم فیل نہ ہونے کا سوچتے رہتے ہیں، انھیں بھی اعلیٰ نمبروں کے حصول کے متعلق سوچنا چاہیے۔ اسی طرح لوگ جرائم، برائیوں، سماجی خرافات، خود کشی، غربت، بدنظمی، بدحالی، مسائل اور بیماریوں کے متعلق سوچتے رہتے ہیں۔ یہ تمام خیالات ان کی شخصیت کو تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔ انسان جب بولتا ہے تو اپنی سوچ اور شخصیت کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے اور آج انہی مسائل اور مصائب کے تذکرے اور تبصرے ہر فرد کی زبان پر ہیں۔ آپ خود انصاف کریں کہ برائیوں کو سوچنے اور زیر بحث لانے سے کیا یہ ختم ہو جائیں گی۔ بہت کم لوگ ان برائیوں اور مسائل کے حل کے متعلق غورو فکر کر رہے ہیں اور وہی ہیرو کہلانے کے حق دار ہیں۔

اگر آپ نے پہلے کبھی اپنی زندگی کو شان دار بنانے کے متعلق نہیں سوچا تو اب سوچیے ۔ سوچ پر کوئی پابندی نہیں۔ خواب دیکھنا کوئی جرم نہیں۔ آپ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے بارے میں سوچیے۔ اس دولت کی مدد سے آپ ایک عالی شان گھر حاصل کرسکیں گے، ایک بڑی گاڑی آپ کے گیراج میں کھڑی ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ عزت و احترام اور محبت و چاہت سے بھرپور زندگی کے بارے میں سوچیے۔ سیروتفریح کے ڈھیروں مواقع اور خوشیوں، مسرتوں کا تصور ذہن میں لائیے۔ اپنی من پسند زندگی گزارنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ لاتعداد محبت کرنے والے دوست احباب آپ کے ساتھ ہوں گے۔ آپ تمام طرح کی فکروں سے آزاد ہو کر ایک امن و سکون والی زندگی گزار رہے ہوں، آپ کی زندگی دوسروں کیلئے فائدہ مند بن جائے اور آپ ایک مثالی انسان بن جائیں۔ جب تک آپ اس طرح کی فائدہ مند سوچ اپنے اندر داخل نہیں ہونے دیں گے، آپ کی زندگی نہیں بدلے گی۔ بڑا سوچیے، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ "Think more get more"۔ یہ زندگی اُن لوگوں کو محدود نتائج دیتی ہے جو محدود سوچ اپناتے ہیں۔

یہ اصول یاد رکھیے کہ فقط ایک بار سوچنے سے بات نہیں بنتی۔ متواتر سوچیے کیونکہ دنیا کے تمام بڑے لوگ دن میں کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔آپ بار بار سوچیے کہ آپ کو کیا حاصل کرنا ہے۔ اس طرح یہ سوچ آپ کے اندر چھپے ہوئے جن کو جگا دے گی۔ یہ جن آپ کا لاشعور ہے۔ لاشعور جس خیال اور سوچ کو ایک بار پکڑ لے تو وہ اسے حاصل کرکے ہی رہتا ہے۔ اس کو فعال (Active)کرنے کیلئے آپ کو بار بار اپنی کامیابی کے متعلق سوچنا ہوگا۔ آپ پہلے یہ سوچیے کہ آپ نے آئندہ سے کیا سوچنا ہے۔ اگر ایک شخص درست انداز میں سوچنے کے فن سے آشنا ہو جائے تو یقینا اس نے زندگی گزارنے کا فن سیکھ لیا۔​
bilkul theek kaha apne
 
Top