• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information how to become creative

Ali Raza liaqat

Administrator
تخلیقی انسان
(Creative person)
تخلیق کا مطلب ہے نئے امکانات کو سوچنا،زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے اس صلاحیت کا ہونا بہت ضروری ہے ، کیونکہ آج کا دور ٹیلنٹ اور قابلیت کا دور ہے اور اس میں جو بھی انسان کچھ نیا سوچ سکتا ہے اور زمانے کو نئے آئیڈیاز دے سکتا ہے ،وہ کامیاب ہے ۔جدید دور میں تخلیقی صلاحیت پر دسترس رکھنے والے ڈاکٹر ایڈورڈ ڈی بونو ہے ۔اس موضوع پر ان کی بہترین کتابیں بھی موجود ہیں۔میں نے ڈاکٹر ایڈورڈ ڈی بونو کو پڑھ کر اپنی کریٹیویٹی اور تخلیقی صلاحیت کو بڑھایا ہے۔ایڈورڈ ڈی بونو کے نزدیک ہر وہ انسان جو نیا سوچتاہے اور زیادہ سے زیادہ امکانات پر غور کرتاہے وہ تخلیق کی صلاحیت سے مالا مال ہوجا تا ہے۔
میں اپنے سیشنز میں شرکاء سے ’’کریٹیویٹی‘‘ کے متعلق ایک سرگرمی کرواتا تھا کہ مثال کے طورپر سیشن ختم ہونے کے بعد جیسے ہی آپ اپنی گاڑی کے پاس پہنچے تو آپ پر یہ افسوسناک انکشاف ہوا کہ گاڑی کی چابی گم ہوگئی ہے تو اب آپ کے پاس کیا کیاامکانات ہیں؟بہت سارے لوگ ایسے تھے جو ایک دو امکانات کے بعد خاموش ہوجاتے اور ان کے پاس کوئی تیسراحل موجود نہیں ہوتا تھا جس سے ثابت ہورہا تھا کہ ان کی سوچنے کی صلاحیت ابھی اتنی متحرک اور ایکٹیو نہیں ہوئی ۔اس ایکٹیویٹی کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ کسی ہنگامی صورتِ حال میں پھنس گئے ہیں تو اس سے نکلنے کے لیے آپ کے پاس کیا تدابیر ہیں اور آ پ کا ذہن کتنا تیزی سے سوچ سکتاہے۔جو بھی انسان ناخوش گوار صورتِ حال سے اپنے لیے حل ڈھونڈ کرخود کو نکال لیتا ہے وہ ’’کریٹیو‘‘ہوتا ہے۔
جب بھی انسان تخلیقی سوچ والا ہوتا ہے اس کے پا س نئے نئے آئیڈیاز ہوتے ہیں۔وہ سوچتا ہے، چیزوں کو جوڑتا ہے اور نئی تخلیق کی طرف آتا ہے ۔ تخلیق کی دولت سے مالا مال انسان زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے اپنے رستے خود ہی بنالیتا ہے۔اگر اس کے اِردگرد نسل در نسل جہالت چل رہی ہو توبھی وہ پہلا فرد ہوتا ہے جو یہ سوچتا ہے کہ اس جہالت کو ختم ہوجانا چاہیے ۔دراصل ہر انسان کے گرد کچھ دائرے ہوتے ہیں ان میں ایک مضبوط دائرہ رسم و رواج ، روایات اور جہالت کا بھی ہوتا ہے او راس دائرے کو اپنی قابلیت کے بل بوتے پر توڑکر آگے نکلنے والا’’ تخلیقی انسان ‘‘ہی ہوتا ہے۔
تخلیقی صلاحیت سے بھرپور انسان اپنی قابلیت کی بناء پراپنے لیے رزق کے اسباب بھی پید اکرسکتا ہے ۔ہر انسان کویہ دیکھنا چاہیے کہ زندگی کے میدان میں وہ کتنا تخلیقی ہے۔ایجادات صرف سائنسدان نہیں کرتے اور نہ ہی صرف سائنسی چیزوں کا نام ایجادات ہے بلکہ ان کے علاوہ بھی کچھ چیزیں ہوسکتی ہیں ۔ہر وہ انسان جو کسی کام کے کرنے میں نیا راستہ تلاش کرلے ،وہ ایجاد کہلاتا ہے۔نئے انداز سے کسی کو سمجھادینا بھی ایک طرح سے ’’ایجاد‘‘ہی ہے۔
یاد رکھیں تخلیقی صلاحیت والا انسان امکانات کے مائنڈ سیٹ کے ساتھ رہتا ہے ۔وہ کہتا ہے کہ اگرمیرے سامنے دروازہ بند ہے تو نیا بھی تو کھل سکتا ہے ۔وہ سوچتا ہے کہ اگر یہ کام اس طرح نہ ہوا تو فلاں کرلوں گا۔وہ نہ ہو ا تو فلاں کرلوں گا۔تخلیق کار انسان پُر امید ہوتا ہے ۔یہ یقین اس کو مثبت رکھتی ہے اور اس کو اللہ کی رزاقیت پر یقین دلاتی ہے اورجو انسان تخلیقی صلاحیت سے خالی ہو تو پھر اگر اس کے پاس 16ویں گریڈ کی نوکری بھی ہو توبھی وہ سوچے گاکہ ’’معلوم نہیں میرا کیا بنے گا؟‘‘
مادی دنیا میں رہنے والے کسی بھی انسان سے اگر کوئی چیز چھن جائے تو ا س کو دُکھ ہوتا ہے، تخلیقی انسان کوبھی اگرچہ دُکھ ہوتاہے مگر وہ مایوس نہیں ہوتااور نہ ہی دِل ہار کر بیٹھ جاتا ہے ،وہ نئے رستے دریافت کرتا ہے ۔اگر اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے تویہ اس کے لیے انجام نہیں بنتا بلکہ وہ اپنی صلاحیت کی بدولت اس حادثے کو بھی اپنے لیے ایک بہترین موقع بنالیتا ہے ۔تخلیقی صلاحیت انسان کے اندر اعتماد پید اکرتی ہے اور اس اعتماد کی بدولت وہ نئے نئے ایڈونچر کرتا ہے ۔یہ چیز اگر کسی بچے میں آجائے تو پھر اس کو اور کیا چاہیے ۔میں نے اپنی زندگی میں ان بچوں کو زیادہ آگے بڑھتے دیکھا ہے جو پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی معیاری ادارے سے پڑھ کر بھی نہیں آئے ہوتے لیکن پھر بھی انہوں نے سی ایس ایس کیا ہوتا ہے اور مقابلے کے امتحان میں شامل ہوتے ہیں ۔
اپنے اندر کی تخلیقی صلاحیت کو جگائیں،یہ ہم میں سے ہر ایک میں موجود ہے بس اس کی پریکٹس اور اس کوپالش کرنے کی ضرورت ہے ۔یہ صلاحیت انسان میں اعتماد پیدا کردیتی ہے اور اعتماد ایسی دولت ہے جو کسی بھی انسان کو مل جائے تووہ زندگی میں آگے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے ۔اعتماد دراصل یقین کی ہی ایک قسم ہے اور یقین کا سلسلہ ایمان سے جاکر ملتا ہے ۔پھر انسان سردیوں کی ٹھٹھرتی رات میں بھی اس غرض کے ساتھ کھڑ ا ہوتا ہے کہ کوئی مسافر آئے گااور میں اپنے جلتے دیے سے روشنی دے کراس کو آسانی دوں گا۔​
 
Top