• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Hazrat Salem( may Allah be pleased with him)حضرت سالم رضی اللہ عنہ

There was a bazaar in Madinah, the heat was so intense that people were getting exhausted.
A merchant stood beside himself for a slave.
The slave, who was still a child, was also standing in the sun, sweating profusely.
All the merchant's goods were sold at good prices, only this slave was left, whom no one was interested in buying.
The merchant thought that by buying this slave he might have made a loss-making deal.
He thought that he would get a good profit, but it was becoming difficult to get the real cost here. He thought that if he sold the slave at the full price, he would sell it immediately.
When a girl from Madinah saw this slave, she asked the merchant how much the slave would sell.
The merchant said that I have taken so much and I will give only that much.
The girl took pity on the child and bought it. The merchant also thanked God and returned.
When Abu Hudhaifah came to Madinah from Makkah, he also came to know the story of this girl.
Impressed by the girl's compassion, he sent her a marriage proposal which was accepted.
On his return, the girl whose name was Thabitah bint Yaar became his wife and was with him and that slave also reached Mecca with his mistress.
When Abu Hudhayfah came to Mecca and met his old friend 'Uthman ibn Affan, he found something changed and felt a cold seal in his behavior.
He asked his friend why Usman was so cold!
So 'Uthman ibn Affan replied, "I have accepted Islam and you have not yet become Muslims, so how can our friendship continue?"
Abu Hudhaifah said, "Then take me to Muhammad (peace and blessings of Allaah be upon him) and bring me into the Islam which you have accepted."
So Hazrat Uthman (RA) presented him in the service of the Holy Prophet (PBUH) and he entered the realm of Islam after reciting the word.
When he came home, he told his wife and slave that he was a Muslim, so they both recited the word.
Hazrat Abu Hudhaifah (may Allah be pleased with him) said to this slave, "Since you have also become Muslims, I can no longer keep you as a slave, so you are now free from me."
The slave said, "My lord, there is no one in this world except you two."
Where will I go if you set me free? Hazrat Abu Hudhaifah adopted this slave as his son and kept him with him.
Ghulam started learning the Qur'an and memorized a lot of the Qur'an in a few days.
And when he recited the Qur'an, he recited it in a very beautiful tone.
Among the Companions who migrated to Madinah before the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) at the time of migration was Hazrat Umar (ra) along with Hazrat Abu Hudhaifah (ra) and his adopted son.
Arriving in Madinah, when the time came to appoint an Imam for prayers, he was chosen as the Imam because of his beautiful recitation and memorization of the Qur'an.
And under his leadership, Jalil-ul-Qadr Companions like Hazrat Umar (RA) also used to offer prayers.
When the Jews of Medina saw him being led, they were astonished that he was the same slave whom no one was willing to buy.
See how much honor he has received today that he has become the Imam of the Muslims.
Allah (swt) had made them so happy that when they recited the verses of the Qur'an, the people would be overwhelmed and the passers-by would start listening.
Once Umm Al-Mumineen, Hazrat Ayesha (RA) was late in coming to the Messenger of Allah (SAW).
When he asked the reason for the pause, he said that a reciter was reciting it, it was too late to listen to him and he praised Khushalhani so much that he himself came out carrying the chador.
I saw them reciting while sitting.
He said happily: Praise be to Allah that He has made a person like you in my ummah.
Do you know who these lucky companions were?
His name was Hazrat Salem.
Who was known as Salem Molly Abu Hudhaifah.
He was martyred in the battle of death. May Allah's blessings be upon him.

مدینہ کا بازار تھا، گرمی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ نڈھال ہورہے تھے.
ایک تاجر اپنے ساتھ ایک غلام کو لیے پریشان کھڑا تھا.
غلام جو ابھی بچہ ہی تھا وہ بھی دھوپ میں کھڑ ا پسینہ پسینہ ہورہا تھا.
تاجر کا سارا مال اچھے داموں بک گیا تھا بس یہ غلام ہی باقی تھا جسے خریدنے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں دکھا رہا تھا ---
تاجر سوچ رہا تھا کہ اس غلام کو خرید کر شاید اس نے گھاٹے کا سودا کیا ہے.
اس نے تو سوچا تھا کہ اچھا منافع ملے گا لیکن یہاں تو اصل لاگت ملنا بھی دشوار ہورہا تھا, اس نے سوچ لیا تھا کہ اب اگر یہ غلام پوری قیمت پر بھی بکا تو وہ اسے فورا بیچ دے گا ---
مدینہ کی ایک لڑکی کی اس غلام پر نظر پڑی تو اس نے تاجر سے پوچھا کہ یہ غلام کتنے کا بیچو گے.
تاجر نے کہا کہ میں نے اتنے میں لیا ہے اور اتنے کا ہی دے دوں گا.
اس لڑکی نے بچے پر ترس کھاتے ہوئے اسے خرید لیا تاجر نے بھی خدا کا شکر ادا کیا اور واپسی کے راہ لی ---
مکہ سے ابو حذیفہ مدینہ آئے تو انہیں بھی اس لڑکی کا قصہ معلوم ہوا.
لڑکی کی رحم دلی سے متاثر ہوکر انہوں نے اسکے لیے نکاح کا پیغام بھیجا جو قبول کرلیا گیا.
یوں واپسی پر وہ لڑکی جس کا نام ثبیتہ بنت یعار تھا انکی بیوی بن کر ان کے ہمراہ تھی اور وہ غلام بھی مالکن کے ساتھ مکہ پہنچ گیا ---
ابو حذیفہ مکہ آکر اپنے پرانے دوست عثمان ابن عفان سے ملے تو انہیں کچھ بدلا ہوا پایا اور انکے رویے میں سرد مہری محسوس کی.
انہوں نے اپنے دوست سے استفسار کیا کہ عثمان یہ سرد مہری کیوں!
تو عثمان بن عفان نے جواب دیا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور تم ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تو اب ہماری دوستی کیسے چل سکتی ہے ---
ابو حذیفہ نے کہا تو پھر مجھے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو اور اس اسلام میں داخل کردو جسے تم قبول کر چکے ہو.
چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور وہ کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے.
گھر آکر انہوں نے اپنی بیوی اور غلام کو اپنے مسلمان ہونے کا بتایا تو ان دونوں نے بھی کلمہ پڑھ لیا ---
حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا کہ چونکہ تم بھی مسلمان ہوگئے ہو اس لیے میں اب تمہیں غلام نہیں رکھ سکتا لہذا میری طرف سے اب تم آزاد ہو.
غلام نے کہا آقا میرا اب اس دنیا میں آپ دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے.
آپ نے مجھے آزاد کردیا تو میں کہاں جاؤں گا, حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو اپنا بیٹا بنا لیا اور اپنے پاس ہی رکھ لیا.
غلام نے قران پاک سیکھنا شروع کر دیا اور کچھ ہی دنوں میں بہت سا قران یاد کرلیا.
اور وہ جب قران پڑھتے تو بہت خوبصورت لہجے میں پڑھتے ---
ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جن صحابہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ اور انکا یہ لے پالک بیٹا بھی تھا.
مدینہ پہنچ کر جب نماز کے لیے امام مقرر کرنے کا وقت آیا تو اس غلام کی خوبصورت تلاوت اور سب سے زیادہ قران حفظ ہونے کی وجہ سے انہیں امام چن لیا گیا.
اور انکی امامت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی نماز ادا کرتے تھے ---
مدینہ کے یہودیوں نے جب انہیں امامت کرواتے دیکھا تو حیران ہوگئے کہ یہ وہی غلام ہے جسے کوئی خریدنے کے لیے تیار نہ تھا.
آج دیکھو کتنی عزت ملی کہ مسلمانوں کا امام بنا ہوا ہے.
اللہ پاک نے انہیں خوش گلو اسقدر بنایا تھا کہ جب آیاتِ قرآنی تلاوت فرماتے تو لوگوں پر ایک محویت طاری ہوجاتی اور راہ گیر ٹھٹک کر سننے لگتے ---
ایک بار ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے میں دیر ہوئی.
آپ ﷺ نے توقف کیوجہ پوچھی تو بولیں کہ ایک قاری تلاوت کررہا تھا، اسکے سننے میں دیر ہوگئی اور خوش الحانی کی اس قدر تعریف کی کہ آنحضرت ﷺ خود چادر سنبھالے ہوئے باہر تشریف لے آئے.
دیکھا تو وہ بیٹھے تلاوت کررہے ہیں.
آپ ﷺ نے خوش ہوکر فرمایا:- اللہ پاک کا شُکر ہے کہ اُس نے تمہارے جیسے شخص کو میری امت میں بنایا ---
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ خوش قسمت صحابی کون تھے؟
ان کا نام حضرت سالم رضی اللہ عنہ تھا.
جو سالم مولی ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھے.
انہوں نے جنگ موتہ میں جام شہادت نوش کیا، اللہ کی کروڑ ہا رحمتیں ہوں ان پر ---
 
Top