• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information do not hopeless of God's mercy.. (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہون)

دِل، واپس لیں
روئے زمین پر موجود انسانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ڈوبنا چاہتا ہو مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جودنیا کے اس سمندر میں ڈوبنا چاہتے ہیں۔زندگی کے سمندر میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا کو اپنے اندر جانے نہ دے مگر بعض اوقات یہ مشکل ہوجاتاہے اور سمندر ہمارے اندر داخل ہو ہی جاتا ہے۔دنیا ہمارے دِل میں جھانک لیتی ہے اور پانی کی طرح۔۔ جو کشتی کو تباہ کردیتا ہے ، دنیابھی جب دل میں داخل ہوجائے تو یہ دِل کو ڈبودیتی ہے۔مجھے وہ کشتی یاد آرہی ہے جو کہ ایسی ہی تباہ ہوگئی تھی ۔انسان جب اپنے دل کی کشتی میں سب کچھ جانے دیتا ہے تو معلوم ہے پھر کیا ہوتا ہے؟مجھے پتا ہے کیونکہ ایک انسان کو میں نے ڈوبتے دیکھاہے۔میری طرح وہ بھی زندگی کی محبت میں بہت زیادہ ڈوبا ہوا ،زندگی تلاش کررہا تھا ۔معلوم ہے بحردنیا نے اس کے ساتھ کیا کیا؟اس کی کشتی کو تباہ کرڈالا،جیسا کہ اس نے میری کشتی کے ساتھ کیا تھا،وہ کشتی پانی میں ڈوب کر بے حد نیچے چلی گئی ۔ اسے کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کس قد ر اوپر آسکے گی یا کوئی چیز اس کو تھام لے گی کہ نہیں۔
وہ ڈوب گئی۔

اگر آپ دنیا کو اپنے دل میں جانے کی اجازت دیتے ہیں تو دنیا آپ کے دِل پر قابض ہوجائے گی اور آپ۔۔۔ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں جاڈوبیں گے۔تب آپ کو معلوم ہوجائے گاکہ آپ کن گہرائیوں جاپڑے ہیں۔دنیاوی محبت او ر گناہوں کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے آپ خود کو ٹوٹا ہوا اور تاریکیوں میں گھرامحسوس کریں گے ۔یہی ایک خوفناک بات ہے کہ جب انسان سمندر کی تہہ میں چلا جاتا ہے تووہاں کی تاریکیوں میں روشنی کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔بہرحال ،سمندر کی گہرائی انسان کا ’’انجام‘‘ نہیں ہے۔

یاد رکھیں رات کی تاریکی اگرچہ صبح کے اجالے سے پہلے ہوتی ہے مگر جب سورج نکلتا ہے تو پھراندھیرے کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ایسا ہی جب تک آپ کادِل دھڑکتا ہے تو یہ زندہ ہے ،مرا نہیں ۔کبھی کبھار سمندر کی تہہ تک ڈوبنا، سفر کا ایک وقفہ ہوتا ہے اور آپ جب ان گہرائیوں میں ہوتے ہیں تو آپ کے پاس ایک انتخاب کا اختیار بھی ہوتاہے۔آپ چاہیں تو وہیں رُک جائیں یہاں تک آپ کی رہی سہی سانس بھی ختم ہواور آپ زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھیں اور۔۔۔یا وہاں موتیوں کوتلاش کریں اور انہیں ڈھونڈکر اپنے ساتھ واپس اوپرلے آئیں ۔یہ کام تیراکی سے سخت مگرجواہرات سے قیمتی ہے۔
اگرآپ اپنے رب کو تلاش کرلیں تو وہ آپ کو بلند کردے گااور سمندر کی تاریکیوں کو اپنی نور کی روشنی سے بدل دے گا۔یار کھیں آپ کی زندگی میں یہ تبدیلی بعض اوقات گرجانے سے ہی شروع ہوتی ہے ۔لہٰذادنیا کے سمندرمیں گرنے کو برا نہ سمجھیں ۔چونکہ یہ ایک اکیلااور نچلا ترین مقام ہے اور یہاں موجود شخص خود کو بے بس تصور کرتا ہے،اس لحاظ سے یہاں عاجزی رہتی ہے ،اس کواپنائیں ،اس کو سیکھیں اس کو اپنے اندر بھریں اور پھر پہلے سے زیادہ مضبو ط ،پرعزم اور اپنی ضروریات سے باخبرہوکر واپس پلٹیں ۔اپنی بے اہمیتی اور رب کی عظمت کو دیکھ کر واپس آجائیں ۔یادرکھیں اگر آپ اس حقیقت کو دیکھ چکے ہیں ،تو آپ بہت کچھ دیکھ چکے ہیں ۔وہ شخص جس نے حقیقتاً دھوکا کھایا، یہ وہ ہے جو اپنے آپ کو تو دیکھتا ہے مگر اپنے رب کو نہیں ۔محروم شخص وہ ہے جس نے خدا کی خاطر اپنی بے بسی کو برداشت نہیں کیا ۔وہ اپنے ہی بنائے ہوئے مقصد پرانحصار کرتا ہے اور رب کے مقصد کو بھول جاتا ہے جو اس کی روح کامقصدہے او ر ہر اس چیز کابھی جو اس کائنات میں تخلیق کی گئی ہے۔

اپنے آپ کو واپس لانے کے لیے خدا کو تلا ش کریں۔ وہ کرم کرتا ہے ،وہ آپ کی کشتی کو دوبارہ جوڑدے گا۔دِل، جس کو آپ ہمیشہ ٹوٹا ہوا محسوس کرتے تھے ،اس کو جوڑ دے گا۔جو بھی کچھ ضائع ہوچکا ہے وہ دوبارہ آجائے گامگر یاد رہے کہ یہ سب کچھ وہ تب کرے گا جب آپ اس کو تلاش کریں۔اور جب وہ آپ کو محفوظ بنالے تو بحرِدنیامیں گرنے پراس سے معافی مانگیں،اپنے اس فعل پر پچھتائیں البتہ مایوس مت ہوں ۔جیسا کہ ابن القیم ؒ نے فرمایاکہ جب حضرت آدم ؑ جنت سے نکلے تو شیطان بہت خوش ہوامگر وہ نہیں جانتا تھا کہ جب ایک غوطہ خور سمندر میں ڈوبکی لگاتا ہے تو وہ ہیروں کو جمع کرکے واپس نکلتا ہے۔

توبہ اور رجوع الی اللہ ایک حیرت انگیز اور طاقتور چیز ہے ،یہ دِل کے لیے ایک پالش ہے ۔یہ اتنا حیرت انگیزپالش ہے کہ یہ صرف صاف نہیں کرتا بلکہ یہ اس چیز کو پہلے والی گندی حالت سے زیادہ چمک دار بناتاہے۔اگر آپ اللہ کی طرف پلٹیں ،اس کی مغفرت کو تلاش کریں اور اپنی زندگی اور اپنے دِل کو دوبارہ اس کی طرف متوجہ کریں تو آپ کے اندر یہ قابلیت پیدا ہوجائے گی کہ پھر آپ زیادہ طاقتور بن جائیں گے اورپھردنیا کے سمندر میں کبھی بھی نہیں گریں گے۔ابن القیم ؒ نے لکھا ہے:

سلف صالحین میں سے کسی کاقول ہے کہ ایک انسان ایک گناہ کرتا ہے جو اس کو جنت میں داخل کردیتا ہے اور دوسرا شخص اچھا عمل کرتا ہے لیکن وہ اس کو جہنم میں لے جاتا ہے۔کسی نے پوچھا:یہ کیسے ہوسکتا ہے تو وہ بولے:گناہ کرنے والا شخص مسلسل اپنے گناہ کے بارے میں سوچتا ہے ۔یہ سوچ اس میں خوف پیدا کردیتی ہے اور اس پر مجبو ر کرتی ہے کہ وہ اس پر پچھتائے ،اس پر روئے اوراس گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہو۔پھروہ اللہ کے سامنے ٹوٹے دِل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اس کا سر عاجزی سے جھکا ہوتا ہے۔لہٰذ ا یہ گناہ اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے بہ نسبت زیادہ نیکیاں کرنے سے ،نیز یہ کہ یہ ندامت اس کی عاجزی اور انکساری کا باعث بھی بنتا ہے جو کہ انسان کو خوشی اور کامیابی کی طرف لے کرجاتی ہے اور بالآخر یہ گناہ اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتا ہے۔جبکہ نیک عمل کرنے والا،وہ اس بات پر غور نہیں کرتا کہ یہ نیکی اس کے رب کی طرف سے اس پر احسان ہے ،بلکہ وہ یہ کہتے ہوئے تکبر اور اپنی ذات کے گھمنڈمیں مبتلا ہوجاتا ہے کہ :میں نے اتنی اتنی اتنی اور اتنی نیکیاں کیں ۔یہ خصلت اس کی ذات کی برتری ،تکبر اور فخرکو بڑھاتی ہے ،اس طرح یہ چیز اس کے جہنم میں داخلے کا باعث بن جاتی ہے۔

اللہ ہمیں قرآن میں یاددلاتا ہے کہ اپنی امید کو کبھی مت کھونا۔وہ فرماتاہے: کہہ دو ،اے میرے بندو!جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ،اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہونا، بے شک وہ مہربان اور معاف کرنے والا ہے۔ (القرآن:39:53)

یہ ان تمام لوگوں کے لیے پکار ہے جو اپنے نفس کے ظلم کے غلام ہیں ،جو نفس اور خواہشات کے جیل کے قیدی ہیں ۔یہ پیغا م ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو دنیا کے سمندر میں ڈوب چکے ہیں ، اس کی تہہ تک جا چکے ہیں اور اس کی خوب صورت لہروں سے دھوکا کھاچکے ہیں ۔
اوپر آجاؤ، پاکیزہ ہوا کی طرف آجاؤ،سمندری جیل کے اوپرموجودحقیقی دنیا کی طرف واپس آجاؤ۔اپنی آزادی اور اپنی زندگی کی طرف واپس آجاؤاپنی روح کی موت کو پیچھے چھوڑدو۔آپ کا دِل پہلے سے زیادہ طاقتور ،زیادہ مخلص اور زندہ ہوسکتا ہے ۔کیا توبہ آپ کے دِ ل کو پالش کرکے پہلے سے زیادہ خوب صورت نہیں بناتا؟

اس پردے کو ختم کردیں جو آپ نے اپنے گناہوں کی نحوست سے بنایا ہوا ہے۔یہ پردہ آپ کے اورزندگی کے درمیان ، آپ کے اور آزادی کے درمیان ،آپ کے اور روشنی کے درمیان اور آپ کے اور خد ا کے درمیان لٹک رہا ہے۔اس کو ختم کریں اور اوپرآجائیں۔اپنے آپ کی طرف واپس آجائیں ۔واپس آجائیں اس مقام پر جہاں سے آپ نے آغاز کیا تھا۔گھر کی طرف واپس آجائیں۔یاد رکھیں کہ جب آپ کے سامنے باقی تمام دروازے بند ہوجائیں تو ایک دروازہ ایساہے جو ہمیشہ کھلا رہتاہے ۔اس کو تلاش کریں تو رَب آپ کوسمندر کی ظالم لہروں کی چنگل سے اپنے سورج کی مہربانی میں پناہ دے دے گا۔
یہ دنیا آپ کو توڑ نہیں سکتی جب تک کہ آپ اس کو اجازت نہ دیں۔ یہ آپ پر قبضہ نہیں کرسکتی جب تک آپ اس کواپنی چابیاں نہ دیں۔۔اپنا دِل نہ دیں اور اگر۔۔۔ ایسا ہوچکا ہے کہ آپ نے اپنی چابیاں دنیا کو دے دی ہیں تو اب ان کو واپس لے لیں ۔یادرکھیں یہ دنیا آپ کا انجام نہیں ہے بلکہ ایک سفر ہے ۔آ پ یہاں اس لیے نہیں ہیں کہ مر جائیں ۔اپنے دِل کو واپس لے لیں اور اس کو اپنے مالک حقیقی کے پاس رکھیں ،اللہ کے پاس،جس کواپنی محبت سے لبریز دِل بہت پسند ہے۔​
 
do not hopeless of God's mercy

There are no human beings on earth who want to drown but there are some people who want to drown in this ocean of the world. In the ocean of life man tries not to let the world go inside him but some Sometimes it becomes difficult and the sea enters us. The world peeks into our heart and like water. The one who destroys the ark, the world also sinks the heart when it enters the heart. I remember the ark that was destroyed like this. When man lets everything go in the ark of his heart, then he knows. What happens? I know because I have seen a man drowning. Like me, he too was deeply immersed in the love of life, searching for life. Do you know what the ocean did to him? Destroyed his boat. As he did with my boat, it sank and sank. She had no idea how far she would go or if something would stop her.
She drowned.

If you allow the world to go into your heart, the world will take over your heart and you ... You will be enchanted in the deepest depths of the ocean. Then you will know what depths you are in. You will feel broken and at home in the darkness because of the influence of worldly love and sins. This is a terrible thing. When man goes to the bottom of the ocean, there is no sign of light in the darkness. However, the depth of the ocean is not the "end" of man.

Remember that the darkness of the night, even before the dawn, but when the sun rises, there is no sign of darkness. Similarly, as long as your heart beats, it is alive, not dead. Sometimes to the bottom of the sea. Drowning is a break in the journey and when you are in these depths you have a choice. You can stop there if you want, until your breath is gone and you lose your life. Or look for pearls there and find them and come back upstairs with them. This work is harder than swimming but more precious than jewels.

If you seek your Lord, He will exalt you and change the darkness of the sea with the light of His light. Dude, this change in your life sometimes starts with thunder. Therefore, it is not bad to fall into the sea of this world. Understand. Since this is a lonely and inferior place and the person here feels helpless, in this sense there is humility here, adopt it, learn it, fill it in yourself and then be stronger, more determined than before. And come back aware of your needs. Come back seeing your insignificance and the greatness of the Lord. Remember if you see this fact. Yes, you have seen a lot. The person who is really deceived is the one who sees himself but not his Lord. The deprived person is the one who endures his helplessness for the sake of God. He does not. He relies on his own purpose and forgets the purpose of the Lord which is the purpose of his soul and everything that has been created in this universe.

Seek God to bring you back. He will reconnect your boat. The heart, which you always felt broken, will reconnect. Whatever is lost will come again. But remember that all this is then. He will do it when you seek it. And when He makes you safe, then apologize for falling into the sea, repent for your action, but do not despair. As Ibn al-Qayyim said, He was very happy but did not know that when a diver dives into the sea, he collects diamonds and returns.

Repentance and turning to Allah is a wonderful and powerful thing, it is a polish for the heart. It is such a wonderful polish that it not only cleanses but also makes the thing more shiny than the previous filthy condition. Turn to Him, seek His forgiveness, and turn your life and your heart to Him again, then you will have the ability to become stronger and never fall into the ocean of the world. Ibn al-Qayyim wrote:

Some of the Salaf-e-Saliheen say that a person commits a sin which makes him enter Paradise and another person does good deeds but he takes him to Hell. Someone asked: How can this be? The sinner constantly thinks about his sin. This thought creates fear in him and forces him to repent, weep over it and be ashamed before Allah Almighty because of this sin. The guard stands before Allah with a broken heart and bows his head in humility. Therefore, this sin is more beneficial for him than doing more good deeds. That this remorse also leads to his humility and submission, which leads man to happiness and success, and ultimately this sin leads to his entry into Paradise. He does not consider that this good deed is a favor from his Lord to him, but he becomes arrogant and proud of his caste by saying: I have done so many and so many good deeds. This quality is his caste. Increases his superiority, arrogance and pride, thus making him enter Hell.

Allah reminds us in the Qur'an never to lose hope. He says: Say: O My servants who have wronged their souls, do not despair of Allah's mercy; surely He is the Merciful, the Forgiving. (Qur'an: 39:53)

It is a cry for all those who are slaves to the tyranny of their souls, who are prisoners of the prison of their souls and desires. This is the message for all those who have drowned in the sea of the world, And its beautiful form has been deceived by the waves.
Come up, come to the fresh air, come back to the real world above the sea prison. Come back to your freedom and your life, leave the death of your soul behind. Your heart can be stronger, more sincere and alive than ever. Doesn't repentance polish your heart and make it look better than before?

Remove the veil that you have made by the misfortune of your sins. This veil is hanging between you and life, between you and freedom, between you and the light and between you and God. Finish it and come up. Come back to yourself. Come back to where you started. Come back to the house. Remember that when all the other doors in front of you are closed, there is a door that It is always open. If you seek it, the Lord will shelter you from the clutches of the cruel waves of the sea in the grace of His sun.
This world cannot break you unless you allow it. It can't take over you unless you give it your keys ... your heart and if ... It has happened that you have given your keys to the world, so take them back now. Remember this world is not your end but a journey. You are not here to die. Take back your heart. Take it and keep it with your true master, with Allah, who loves your heart full of love.
 
دِل، واپس لیں
روئے زمین پر موجود انسانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ڈوبنا چاہتا ہو مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جودنیا کے اس سمندر میں ڈوبنا چاہتے ہیں۔زندگی کے سمندر میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا کو اپنے اندر جانے نہ دے مگر بعض اوقات یہ مشکل ہوجاتاہے اور سمندر ہمارے اندر داخل ہو ہی جاتا ہے۔دنیا ہمارے دِل میں جھانک لیتی ہے اور پانی کی طرح۔۔ جو کشتی کو تباہ کردیتا ہے ، دنیابھی جب دل میں داخل ہوجائے تو یہ دِل کو ڈبودیتی ہے۔مجھے وہ کشتی یاد آرہی ہے جو کہ ایسی ہی تباہ ہوگئی تھی ۔انسان جب اپنے دل کی کشتی میں سب کچھ جانے دیتا ہے تو معلوم ہے پھر کیا ہوتا ہے؟مجھے پتا ہے کیونکہ ایک انسان کو میں نے ڈوبتے دیکھاہے۔میری طرح وہ بھی زندگی کی محبت میں بہت زیادہ ڈوبا ہوا ،زندگی تلاش کررہا تھا ۔معلوم ہے بحردنیا نے اس کے ساتھ کیا کیا؟اس کی کشتی کو تباہ کرڈالا،جیسا کہ اس نے میری کشتی کے ساتھ کیا تھا،وہ کشتی پانی میں ڈوب کر بے حد نیچے چلی گئی ۔ اسے کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کس قد ر اوپر آسکے گی یا کوئی چیز اس کو تھام لے گی کہ نہیں۔
وہ ڈوب گئی۔

اگر آپ دنیا کو اپنے دل میں جانے کی اجازت دیتے ہیں تو دنیا آپ کے دِل پر قابض ہوجائے گی اور آپ۔۔۔ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں جاڈوبیں گے۔تب آپ کو معلوم ہوجائے گاکہ آپ کن گہرائیوں جاپڑے ہیں۔دنیاوی محبت او ر گناہوں کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے آپ خود کو ٹوٹا ہوا اور تاریکیوں میں گھرامحسوس کریں گے ۔یہی ایک خوفناک بات ہے کہ جب انسان سمندر کی تہہ میں چلا جاتا ہے تووہاں کی تاریکیوں میں روشنی کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔بہرحال ،سمندر کی گہرائی انسان کا ’’انجام‘‘ نہیں ہے۔

یاد رکھیں رات کی تاریکی اگرچہ صبح کے اجالے سے پہلے ہوتی ہے مگر جب سورج نکلتا ہے تو پھراندھیرے کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ایسا ہی جب تک آپ کادِل دھڑکتا ہے تو یہ زندہ ہے ،مرا نہیں ۔کبھی کبھار سمندر کی تہہ تک ڈوبنا، سفر کا ایک وقفہ ہوتا ہے اور آپ جب ان گہرائیوں میں ہوتے ہیں تو آپ کے پاس ایک انتخاب کا اختیار بھی ہوتاہے۔آپ چاہیں تو وہیں رُک جائیں یہاں تک آپ کی رہی سہی سانس بھی ختم ہواور آپ زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھیں اور۔۔۔یا وہاں موتیوں کوتلاش کریں اور انہیں ڈھونڈکر اپنے ساتھ واپس اوپرلے آئیں ۔یہ کام تیراکی سے سخت مگرجواہرات سے قیمتی ہے۔
اگرآپ اپنے رب کو تلاش کرلیں تو وہ آپ کو بلند کردے گااور سمندر کی تاریکیوں کو اپنی نور کی روشنی سے بدل دے گا۔یار کھیں آپ کی زندگی میں یہ تبدیلی بعض اوقات گرجانے سے ہی شروع ہوتی ہے ۔لہٰذادنیا کے سمندرمیں گرنے کو برا نہ سمجھیں ۔چونکہ یہ ایک اکیلااور نچلا ترین مقام ہے اور یہاں موجود شخص خود کو بے بس تصور کرتا ہے،اس لحاظ سے یہاں عاجزی رہتی ہے ،اس کواپنائیں ،اس کو سیکھیں اس کو اپنے اندر بھریں اور پھر پہلے سے زیادہ مضبو ط ،پرعزم اور اپنی ضروریات سے باخبرہوکر واپس پلٹیں ۔اپنی بے اہمیتی اور رب کی عظمت کو دیکھ کر واپس آجائیں ۔یادرکھیں اگر آپ اس حقیقت کو دیکھ چکے ہیں ،تو آپ بہت کچھ دیکھ چکے ہیں ۔وہ شخص جس نے حقیقتاً دھوکا کھایا، یہ وہ ہے جو اپنے آپ کو تو دیکھتا ہے مگر اپنے رب کو نہیں ۔محروم شخص وہ ہے جس نے خدا کی خاطر اپنی بے بسی کو برداشت نہیں کیا ۔وہ اپنے ہی بنائے ہوئے مقصد پرانحصار کرتا ہے اور رب کے مقصد کو بھول جاتا ہے جو اس کی روح کامقصدہے او ر ہر اس چیز کابھی جو اس کائنات میں تخلیق کی گئی ہے۔

اپنے آپ کو واپس لانے کے لیے خدا کو تلا ش کریں۔ وہ کرم کرتا ہے ،وہ آپ کی کشتی کو دوبارہ جوڑدے گا۔دِل، جس کو آپ ہمیشہ ٹوٹا ہوا محسوس کرتے تھے ،اس کو جوڑ دے گا۔جو بھی کچھ ضائع ہوچکا ہے وہ دوبارہ آجائے گامگر یاد رہے کہ یہ سب کچھ وہ تب کرے گا جب آپ اس کو تلاش کریں۔اور جب وہ آپ کو محفوظ بنالے تو بحرِدنیامیں گرنے پراس سے معافی مانگیں،اپنے اس فعل پر پچھتائیں البتہ مایوس مت ہوں ۔جیسا کہ ابن القیم ؒ نے فرمایاکہ جب حضرت آدم ؑ جنت سے نکلے تو شیطان بہت خوش ہوامگر وہ نہیں جانتا تھا کہ جب ایک غوطہ خور سمندر میں ڈوبکی لگاتا ہے تو وہ ہیروں کو جمع کرکے واپس نکلتا ہے۔

توبہ اور رجوع الی اللہ ایک حیرت انگیز اور طاقتور چیز ہے ،یہ دِل کے لیے ایک پالش ہے ۔یہ اتنا حیرت انگیزپالش ہے کہ یہ صرف صاف نہیں کرتا بلکہ یہ اس چیز کو پہلے والی گندی حالت سے زیادہ چمک دار بناتاہے۔اگر آپ اللہ کی طرف پلٹیں ،اس کی مغفرت کو تلاش کریں اور اپنی زندگی اور اپنے دِل کو دوبارہ اس کی طرف متوجہ کریں تو آپ کے اندر یہ قابلیت پیدا ہوجائے گی کہ پھر آپ زیادہ طاقتور بن جائیں گے اورپھردنیا کے سمندر میں کبھی بھی نہیں گریں گے۔ابن القیم ؒ نے لکھا ہے:

سلف صالحین میں سے کسی کاقول ہے کہ ایک انسان ایک گناہ کرتا ہے جو اس کو جنت میں داخل کردیتا ہے اور دوسرا شخص اچھا عمل کرتا ہے لیکن وہ اس کو جہنم میں لے جاتا ہے۔کسی نے پوچھا:یہ کیسے ہوسکتا ہے تو وہ بولے:گناہ کرنے والا شخص مسلسل اپنے گناہ کے بارے میں سوچتا ہے ۔یہ سوچ اس میں خوف پیدا کردیتی ہے اور اس پر مجبو ر کرتی ہے کہ وہ اس پر پچھتائے ،اس پر روئے اوراس گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہو۔پھروہ اللہ کے سامنے ٹوٹے دِل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اس کا سر عاجزی سے جھکا ہوتا ہے۔لہٰذ ا یہ گناہ اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے بہ نسبت زیادہ نیکیاں کرنے سے ،نیز یہ کہ یہ ندامت اس کی عاجزی اور انکساری کا باعث بھی بنتا ہے جو کہ انسان کو خوشی اور کامیابی کی طرف لے کرجاتی ہے اور بالآخر یہ گناہ اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتا ہے۔جبکہ نیک عمل کرنے والا،وہ اس بات پر غور نہیں کرتا کہ یہ نیکی اس کے رب کی طرف سے اس پر احسان ہے ،بلکہ وہ یہ کہتے ہوئے تکبر اور اپنی ذات کے گھمنڈمیں مبتلا ہوجاتا ہے کہ :میں نے اتنی اتنی اتنی اور اتنی نیکیاں کیں ۔یہ خصلت اس کی ذات کی برتری ،تکبر اور فخرکو بڑھاتی ہے ،اس طرح یہ چیز اس کے جہنم میں داخلے کا باعث بن جاتی ہے۔

اللہ ہمیں قرآن میں یاددلاتا ہے کہ اپنی امید کو کبھی مت کھونا۔وہ فرماتاہے: کہہ دو ،اے میرے بندو!جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ،اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہونا، بے شک وہ مہربان اور معاف کرنے والا ہے۔ (القرآن:39:53)

یہ ان تمام لوگوں کے لیے پکار ہے جو اپنے نفس کے ظلم کے غلام ہیں ،جو نفس اور خواہشات کے جیل کے قیدی ہیں ۔یہ پیغا م ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو دنیا کے سمندر میں ڈوب چکے ہیں ، اس کی تہہ تک جا چکے ہیں اور اس کی خوب صورت لہروں سے دھوکا کھاچکے ہیں ۔
اوپر آجاؤ، پاکیزہ ہوا کی طرف آجاؤ،سمندری جیل کے اوپرموجودحقیقی دنیا کی طرف واپس آجاؤ۔اپنی آزادی اور اپنی زندگی کی طرف واپس آجاؤاپنی روح کی موت کو پیچھے چھوڑدو۔آپ کا دِل پہلے سے زیادہ طاقتور ،زیادہ مخلص اور زندہ ہوسکتا ہے ۔کیا توبہ آپ کے دِ ل کو پالش کرکے پہلے سے زیادہ خوب صورت نہیں بناتا؟

اس پردے کو ختم کردیں جو آپ نے اپنے گناہوں کی نحوست سے بنایا ہوا ہے۔یہ پردہ آپ کے اورزندگی کے درمیان ، آپ کے اور آزادی کے درمیان ،آپ کے اور روشنی کے درمیان اور آپ کے اور خد ا کے درمیان لٹک رہا ہے۔اس کو ختم کریں اور اوپرآجائیں۔اپنے آپ کی طرف واپس آجائیں ۔واپس آجائیں اس مقام پر جہاں سے آپ نے آغاز کیا تھا۔گھر کی طرف واپس آجائیں۔یاد رکھیں کہ جب آپ کے سامنے باقی تمام دروازے بند ہوجائیں تو ایک دروازہ ایساہے جو ہمیشہ کھلا رہتاہے ۔اس کو تلاش کریں تو رَب آپ کوسمندر کی ظالم لہروں کی چنگل سے اپنے سورج کی مہربانی میں پناہ دے دے گا۔
یہ دنیا آپ کو توڑ نہیں سکتی جب تک کہ آپ اس کو اجازت نہ دیں۔ یہ آپ پر قبضہ نہیں کرسکتی جب تک آپ اس کواپنی چابیاں نہ دیں۔۔اپنا دِل نہ دیں اور اگر۔۔۔ ایسا ہوچکا ہے کہ آپ نے اپنی چابیاں دنیا کو دے دی ہیں تو اب ان کو واپس لے لیں ۔یادرکھیں یہ دنیا آپ کا انجام نہیں ہے بلکہ ایک سفر ہے ۔آ پ یہاں اس لیے نہیں ہیں کہ مر جائیں ۔اپنے دِل کو واپس لے لیں اور اس کو اپنے مالک حقیقی کے پاس رکھیں ،اللہ کے پاس،جس کواپنی محبت سے لبریز دِل بہت پسند ہے۔​
beshak
 
دِل، واپس لیں
روئے زمین پر موجود انسانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ڈوبنا چاہتا ہو مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جودنیا کے اس سمندر میں ڈوبنا چاہتے ہیں۔زندگی کے سمندر میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا کو اپنے اندر جانے نہ دے مگر بعض اوقات یہ مشکل ہوجاتاہے اور سمندر ہمارے اندر داخل ہو ہی جاتا ہے۔دنیا ہمارے دِل میں جھانک لیتی ہے اور پانی کی طرح۔۔ جو کشتی کو تباہ کردیتا ہے ، دنیابھی جب دل میں داخل ہوجائے تو یہ دِل کو ڈبودیتی ہے۔مجھے وہ کشتی یاد آرہی ہے جو کہ ایسی ہی تباہ ہوگئی تھی ۔انسان جب اپنے دل کی کشتی میں سب کچھ جانے دیتا ہے تو معلوم ہے پھر کیا ہوتا ہے؟مجھے پتا ہے کیونکہ ایک انسان کو میں نے ڈوبتے دیکھاہے۔میری طرح وہ بھی زندگی کی محبت میں بہت زیادہ ڈوبا ہوا ،زندگی تلاش کررہا تھا ۔معلوم ہے بحردنیا نے اس کے ساتھ کیا کیا؟اس کی کشتی کو تباہ کرڈالا،جیسا کہ اس نے میری کشتی کے ساتھ کیا تھا،وہ کشتی پانی میں ڈوب کر بے حد نیچے چلی گئی ۔ اسے کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کس قد ر اوپر آسکے گی یا کوئی چیز اس کو تھام لے گی کہ نہیں۔
وہ ڈوب گئی۔

اگر آپ دنیا کو اپنے دل میں جانے کی اجازت دیتے ہیں تو دنیا آپ کے دِل پر قابض ہوجائے گی اور آپ۔۔۔ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں جاڈوبیں گے۔تب آپ کو معلوم ہوجائے گاکہ آپ کن گہرائیوں جاپڑے ہیں۔دنیاوی محبت او ر گناہوں کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے آپ خود کو ٹوٹا ہوا اور تاریکیوں میں گھرامحسوس کریں گے ۔یہی ایک خوفناک بات ہے کہ جب انسان سمندر کی تہہ میں چلا جاتا ہے تووہاں کی تاریکیوں میں روشنی کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔بہرحال ،سمندر کی گہرائی انسان کا ’’انجام‘‘ نہیں ہے۔

یاد رکھیں رات کی تاریکی اگرچہ صبح کے اجالے سے پہلے ہوتی ہے مگر جب سورج نکلتا ہے تو پھراندھیرے کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ایسا ہی جب تک آپ کادِل دھڑکتا ہے تو یہ زندہ ہے ،مرا نہیں ۔کبھی کبھار سمندر کی تہہ تک ڈوبنا، سفر کا ایک وقفہ ہوتا ہے اور آپ جب ان گہرائیوں میں ہوتے ہیں تو آپ کے پاس ایک انتخاب کا اختیار بھی ہوتاہے۔آپ چاہیں تو وہیں رُک جائیں یہاں تک آپ کی رہی سہی سانس بھی ختم ہواور آپ زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھیں اور۔۔۔یا وہاں موتیوں کوتلاش کریں اور انہیں ڈھونڈکر اپنے ساتھ واپس اوپرلے آئیں ۔یہ کام تیراکی سے سخت مگرجواہرات سے قیمتی ہے۔
اگرآپ اپنے رب کو تلاش کرلیں تو وہ آپ کو بلند کردے گااور سمندر کی تاریکیوں کو اپنی نور کی روشنی سے بدل دے گا۔یار کھیں آپ کی زندگی میں یہ تبدیلی بعض اوقات گرجانے سے ہی شروع ہوتی ہے ۔لہٰذادنیا کے سمندرمیں گرنے کو برا نہ سمجھیں ۔چونکہ یہ ایک اکیلااور نچلا ترین مقام ہے اور یہاں موجود شخص خود کو بے بس تصور کرتا ہے،اس لحاظ سے یہاں عاجزی رہتی ہے ،اس کواپنائیں ،اس کو سیکھیں اس کو اپنے اندر بھریں اور پھر پہلے سے زیادہ مضبو ط ،پرعزم اور اپنی ضروریات سے باخبرہوکر واپس پلٹیں ۔اپنی بے اہمیتی اور رب کی عظمت کو دیکھ کر واپس آجائیں ۔یادرکھیں اگر آپ اس حقیقت کو دیکھ چکے ہیں ،تو آپ بہت کچھ دیکھ چکے ہیں ۔وہ شخص جس نے حقیقتاً دھوکا کھایا، یہ وہ ہے جو اپنے آپ کو تو دیکھتا ہے مگر اپنے رب کو نہیں ۔محروم شخص وہ ہے جس نے خدا کی خاطر اپنی بے بسی کو برداشت نہیں کیا ۔وہ اپنے ہی بنائے ہوئے مقصد پرانحصار کرتا ہے اور رب کے مقصد کو بھول جاتا ہے جو اس کی روح کامقصدہے او ر ہر اس چیز کابھی جو اس کائنات میں تخلیق کی گئی ہے۔

اپنے آپ کو واپس لانے کے لیے خدا کو تلا ش کریں۔ وہ کرم کرتا ہے ،وہ آپ کی کشتی کو دوبارہ جوڑدے گا۔دِل، جس کو آپ ہمیشہ ٹوٹا ہوا محسوس کرتے تھے ،اس کو جوڑ دے گا۔جو بھی کچھ ضائع ہوچکا ہے وہ دوبارہ آجائے گامگر یاد رہے کہ یہ سب کچھ وہ تب کرے گا جب آپ اس کو تلاش کریں۔اور جب وہ آپ کو محفوظ بنالے تو بحرِدنیامیں گرنے پراس سے معافی مانگیں،اپنے اس فعل پر پچھتائیں البتہ مایوس مت ہوں ۔جیسا کہ ابن القیم ؒ نے فرمایاکہ جب حضرت آدم ؑ جنت سے نکلے تو شیطان بہت خوش ہوامگر وہ نہیں جانتا تھا کہ جب ایک غوطہ خور سمندر میں ڈوبکی لگاتا ہے تو وہ ہیروں کو جمع کرکے واپس نکلتا ہے۔

توبہ اور رجوع الی اللہ ایک حیرت انگیز اور طاقتور چیز ہے ،یہ دِل کے لیے ایک پالش ہے ۔یہ اتنا حیرت انگیزپالش ہے کہ یہ صرف صاف نہیں کرتا بلکہ یہ اس چیز کو پہلے والی گندی حالت سے زیادہ چمک دار بناتاہے۔اگر آپ اللہ کی طرف پلٹیں ،اس کی مغفرت کو تلاش کریں اور اپنی زندگی اور اپنے دِل کو دوبارہ اس کی طرف متوجہ کریں تو آپ کے اندر یہ قابلیت پیدا ہوجائے گی کہ پھر آپ زیادہ طاقتور بن جائیں گے اورپھردنیا کے سمندر میں کبھی بھی نہیں گریں گے۔ابن القیم ؒ نے لکھا ہے:

سلف صالحین میں سے کسی کاقول ہے کہ ایک انسان ایک گناہ کرتا ہے جو اس کو جنت میں داخل کردیتا ہے اور دوسرا شخص اچھا عمل کرتا ہے لیکن وہ اس کو جہنم میں لے جاتا ہے۔کسی نے پوچھا:یہ کیسے ہوسکتا ہے تو وہ بولے:گناہ کرنے والا شخص مسلسل اپنے گناہ کے بارے میں سوچتا ہے ۔یہ سوچ اس میں خوف پیدا کردیتی ہے اور اس پر مجبو ر کرتی ہے کہ وہ اس پر پچھتائے ،اس پر روئے اوراس گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہو۔پھروہ اللہ کے سامنے ٹوٹے دِل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اس کا سر عاجزی سے جھکا ہوتا ہے۔لہٰذ ا یہ گناہ اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے بہ نسبت زیادہ نیکیاں کرنے سے ،نیز یہ کہ یہ ندامت اس کی عاجزی اور انکساری کا باعث بھی بنتا ہے جو کہ انسان کو خوشی اور کامیابی کی طرف لے کرجاتی ہے اور بالآخر یہ گناہ اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتا ہے۔جبکہ نیک عمل کرنے والا،وہ اس بات پر غور نہیں کرتا کہ یہ نیکی اس کے رب کی طرف سے اس پر احسان ہے ،بلکہ وہ یہ کہتے ہوئے تکبر اور اپنی ذات کے گھمنڈمیں مبتلا ہوجاتا ہے کہ :میں نے اتنی اتنی اتنی اور اتنی نیکیاں کیں ۔یہ خصلت اس کی ذات کی برتری ،تکبر اور فخرکو بڑھاتی ہے ،اس طرح یہ چیز اس کے جہنم میں داخلے کا باعث بن جاتی ہے۔

اللہ ہمیں قرآن میں یاددلاتا ہے کہ اپنی امید کو کبھی مت کھونا۔وہ فرماتاہے: کہہ دو ،اے میرے بندو!جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ،اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہونا، بے شک وہ مہربان اور معاف کرنے والا ہے۔ (القرآن:39:53)

یہ ان تمام لوگوں کے لیے پکار ہے جو اپنے نفس کے ظلم کے غلام ہیں ،جو نفس اور خواہشات کے جیل کے قیدی ہیں ۔یہ پیغا م ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو دنیا کے سمندر میں ڈوب چکے ہیں ، اس کی تہہ تک جا چکے ہیں اور اس کی خوب صورت لہروں سے دھوکا کھاچکے ہیں ۔
اوپر آجاؤ، پاکیزہ ہوا کی طرف آجاؤ،سمندری جیل کے اوپرموجودحقیقی دنیا کی طرف واپس آجاؤ۔اپنی آزادی اور اپنی زندگی کی طرف واپس آجاؤاپنی روح کی موت کو پیچھے چھوڑدو۔آپ کا دِل پہلے سے زیادہ طاقتور ،زیادہ مخلص اور زندہ ہوسکتا ہے ۔کیا توبہ آپ کے دِ ل کو پالش کرکے پہلے سے زیادہ خوب صورت نہیں بناتا؟

اس پردے کو ختم کردیں جو آپ نے اپنے گناہوں کی نحوست سے بنایا ہوا ہے۔یہ پردہ آپ کے اورزندگی کے درمیان ، آپ کے اور آزادی کے درمیان ،آپ کے اور روشنی کے درمیان اور آپ کے اور خد ا کے درمیان لٹک رہا ہے۔اس کو ختم کریں اور اوپرآجائیں۔اپنے آپ کی طرف واپس آجائیں ۔واپس آجائیں اس مقام پر جہاں سے آپ نے آغاز کیا تھا۔گھر کی طرف واپس آجائیں۔یاد رکھیں کہ جب آپ کے سامنے باقی تمام دروازے بند ہوجائیں تو ایک دروازہ ایساہے جو ہمیشہ کھلا رہتاہے ۔اس کو تلاش کریں تو رَب آپ کوسمندر کی ظالم لہروں کی چنگل سے اپنے سورج کی مہربانی میں پناہ دے دے گا۔
یہ دنیا آپ کو توڑ نہیں سکتی جب تک کہ آپ اس کو اجازت نہ دیں۔ یہ آپ پر قبضہ نہیں کرسکتی جب تک آپ اس کواپنی چابیاں نہ دیں۔۔اپنا دِل نہ دیں اور اگر۔۔۔ ایسا ہوچکا ہے کہ آپ نے اپنی چابیاں دنیا کو دے دی ہیں تو اب ان کو واپس لے لیں ۔یادرکھیں یہ دنیا آپ کا انجام نہیں ہے بلکہ ایک سفر ہے ۔آ پ یہاں اس لیے نہیں ہیں کہ مر جائیں ۔اپنے دِل کو واپس لے لیں اور اس کو اپنے مالک حقیقی کے پاس رکھیں ،اللہ کے پاس،جس کواپنی محبت سے لبریز دِل بہت پسند ہے۔​
be shak hamein Allah ki Rehmat se mayoos nahi hona chahiye
 
Top