• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information Book friendship and education system in pakistan( کتاب دوستی اور نظام ِتعلیم )

کتاب دوستی اور نظام ِتعلیم

کتاب ایک ایسی دوست ہے جو بندے کی نہ تو خوش آمدانہ تعریف کرتا ہے اور نہ ہی اس کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے۔ یہ دوست اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو کبھی نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے ناجائز فائدہ اْٹھانے نہیںدیتا۔جس طرح لباس انسان کے ظاہر کو خوبصورت بناتا ہے اسی طرح کتاب انسان کے باطن کو خوبصورت بناتی ہے۔ باطن میں خوبصورتی حُسنِ خیال سے پیدا ہوتی ہے اورکتاب حُسنِ خیال پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کتاب پڑھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنی خوراک اورآکسیجن ،جس طرح ایک استاد زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اسی طرح کتاب بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ جس طرح ایک اچھا دوست پے بیک کرتا ہے اسی طرح کتاب بھی پے بیک کرتی ہے۔ غیر نصابی کتابیں ’’قوم سازی‘‘ کے لیے بہت ضروری ہوتی ہیں۔ دانشور ،شاعر ،ادیب اور فنونِ لطیفہ کے لوگ معاشرے کی آکسیجن ہوتے ہیں۔ مستقبل سازی کے تعین میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ جینا اہم نہیں ہے بلکہ دلوں میں زندہ رہنا اہم ہے اور دلوں میں تب ہی زندہ رہا جاتاہے جب وزڈم (wisdom) ہو اور وزڈم کا ایک حصہّ کتاب سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک جگہ والٹیر کہتا ہے دنیاپر انسانوں کی نسبت کتابوں نے زیادہ حکومت کی ہے اور تاریخ کے بڑے نام کتاب کی وجہ سے ہی زندہ ہیں۔
کتاب زندگی میں دوطرح سے لائی جا سکتی ہے پہلا علم کی طلب اور دوسرا کسی کے مشورے سے۔ جب کوئی معروف شخصیت کسی کتاب کو متعارف کراتی ہے تو وہ کتاب زیادہ پڑھی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے کالم نویس ایسے ہیں جو اچھی کتابیں متعارف کراتے ہیں ،انہی میں سے ایک جاوید چودھری صاحب ہیں جو اپنے کالموں کے ذریعے کتاب کے کلچر کو فروغ دیتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں کتاب پڑھنے کا رجحان بہت کم ہے جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی کتاب پڑھنے کا رجحان زیادہ ہے۔ اگر ’’سیلف ہیلپ‘‘ کے موضوع کو ہی لیا جائے تو اس موضوع پر وہاں انڈسٹری وجود میں آچکی ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد اس موضوع کو فالو کرتی ہے۔ اس موضوع کی وجہ سے ان کے معاشرے میں مثبت اپروچ پیدا ہو رہی ہے۔جب رائے عامہ پیدا کرنے اور بنانے والے کتاب کو متعارف کرواتے ہیں تو معاشرے میں کتاب پڑھنے کا کلچر پیدا ہوتاہے۔

کتاب کے مطالعے کے دوران اہم مسئلہ اس کے اہم نکات کو یاد رکھنا ہے۔ کتاب یاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کتاب کو اپنی زندگی کے کسی حوالے سے ملا لیا جائے۔ جب کتاب زندگی کے کسی حوالے سے مل جائے تو پھر اس کو یاد رکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ لوگ کتا ب تو پڑھتے ہیں لیکن اس کو اپنی زندگی سے ملانہیں پاتے ۔ کتاب کو یاد رکھنے کے لیے ایک ڈائری بنائیں۔ جو اچھی اور کام کی بات ملے اس کو ڈائری میں لکھ لیں۔ جس نے لیکچر تیار کرنا ہے اسے چاہیے جیسے جیسے وہ کتاب پڑھتا جائے ساتھ ساتھ اپنے نوٹس بناتا جائے۔ جس کا مقصد صرف کتاب کا مطالعہ ہو اور وہ کتاب یاد کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ پہلے وہ دیکھے کہ اس نے کتاب سے کیا سیکھنا ہے۔ اس کے لاشعور میں کون کون سے سوال ہیں جن کے جواب کی ضرورت ہے۔ جب تک جستجو نہ ہو ، سوال نہ ہو تب تک دنیا کی بہتر ین کتاب بھی کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔

جو دانشور سوچ پیدا کرنا اور سوچنا سکھاتا ہے ہم نے اس کی قدر کرنا چھوڑ دی ۔ جس نے ہماری سوچوں کو جلا بخشی ہے ،ہم نے اس کو ہیرو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔کتاب چھاپنے والا ، کتاب لکھنے والا پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ کتا ب پڑھنی چاہیے۔ ہمارے ہاں کتاب پڑھنے ، کتاب پروموٹ کرنے اور کتاب لکھنے والے کو عزت دینے کا کلچر نہیں ہے۔اس میں کوئی شک نہیں لکھنے والا شناخت چاہتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسکول میں پڑھانے والا استاد ، کالج میں پڑھانے والاپروفیسر کب کتاب کی اہمیت سے آگاہ کرے گا۔معاشرے کے لیے کتاب کتنی ضروری ہے اس کا ادراک کس نے کروانا ہے؟ ایک سالانہ اُردو کانفرس کرا لینے سے کتاب کی اہمیت میں تبدیلی نہیں آتی۔ جب تک تعلیمی اداروں میں پڑھانے والا استاد بچوں کوغیر نصابی کتابوںسے روشناس نہیں کرائے گا تب تک بچوں میں علم کی پیاس پیدا نہیں ہوگی۔ جب تک دانشو ر جو معاشرے کی آکسیجن ہوتا ہے اس کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جائے گا تب تک نئی نسل میں علم سے محبت پیدا نہیں ہوگی۔ پاکستا ن کی بقا محفوظ ہاتھوں میں دینے کے لیے ضروری ہے کہ نئی نسل کو تعمیری لٹریچر سے روشناس کرایا جائے۔

تعلیمی نصاب تیار کرنے کے لیے قابل افراد پر مشتمل بورڈ ہوتا ہے جو بڑی محنت اور پلاننگ سے نصاب تیار کرتا ہے ۔ نصاب تیار کرنے کا مقصد قوم میں اتحاد پیدا کرنا ، اچھا ہیومن ریسورس تیار کرنا اور نوجوان نسل کوفائدہ مند شہری بنانا ہے۔1947ء سے لے کر آج تک پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں وہ چاہے فوجی ہوں یا سوِل، تعلیم کسی بھی حکو مت کی ترجیح اوّل نہیں رہی۔ تعلیم کے حوالے سے اس وقت ہمارے ملک میں کئی قسم کے سسٹم رائج ہیں۔ جس کے نتیجہ میں قوم متحد ہونے کی بجائے ہجوم بن گئی ہے۔کئی طرح کے سسٹم اور اتنی ہی قسم کے نصاب صرف نمبرز لینے اور ڈگریاں دینے کا ذریعہ ہیں ۔ نصاب کے ذریعے قوم میں جو اتحاد پیدا ہونا چاہیے اور جو تبدیلی آنی چاہیے وہ نہیں آرہی۔

تعلیمی میدان میں پرائیوٹایزیشن کے کلچر نے تعلیم سے اخلاقیات کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے اوراندھا اندھے کو راستہ دکھانے لگا ہے۔ ایک پی۔ ایچ۔ ڈی۔ پروفیسر جوخود اخلاقی طور پر مضبوط نہیں ہے وہ بچوں کی گرومنگ کیسے کرے گا۔والدین اگر اپنی ذمہ داری قبول کر لیں تو انقلاب آ سکتا ہے۔والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کو تعلیمی ادارے زیورِ تعلیم سے آراستہ کر نے کے ساتھ ساتھ اِن کی اخلاقی تربیت بھی کریں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ والدین خود بچوں کی تربیت نہ کریں اور بچوں کی تربیت ہو جائے؟ یہ اپنے آپ میں بہت بڑا سوال ہے۔
اس وقت مارکیٹ میں سمارٹ فون کی شکل میں جو جدید ٹیکنالوجی آئی ہے یہی ہمارا ٹی وی ، یہی ہماری کتاب بلکہ یہی سب کچھ ہے۔ یہ صد ی جو گزر رہی ہے یہ کتا ب کی آخری صدی ہے اس کے بعد دنیا میں کتاب نہیں ہوگی۔ ساری دنیا ’’ای بکس‘‘ میں شفٹ ہو جائے گی۔ اس چیز کو سامنے رکھتے ہوئے معاشرے کو بدلنے کے لیے ہمیں اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ امریکہ اس وقت سُپر پاور ہے اس کے کامیاب ہونے کی کئی ساری وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے لوگوں نے اپنی دولت لائبریریوں اور تحقیق کرنے والے اداروں پر لگادی ۔حکومت کو سب سے پہلے اس حقیقت کو مان لینا چاہیے کہ ایک آدمی پورے سسٹم کو نہیں ٹھیک کر سکتا۔ سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے ٹیم کی ضرورت ہے جو سسٹم بنائے اور اس کو لے کر چلے۔ اور تعلیمی نظام کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر آ پ نے پچاس سال کی پلاننگ کرنی ہے تو ا پنے ہتھیاروں کو بہتر بنائیں ،اگر سو سال کی پلاننگ کرنی ہے تو اپنی فصلوں کی پیداوار بہتر بنائیں اوراگر ہزار سال کی پلاننگ کرنی ہے تو پھر تعلیم کے نظام کو بہتر بنائیں۔
 
English Translation
education system in pakistan
The book is a friend who neither greets the servant nor puts him on the path of evil. This friend does not let boredom. This is a neighbor that never hurts. He is an acquaintance who does not take undue advantage of lies and hypocrisy. Just as clothing beautifies one's appearance, so the book beautifies one's inner being. Inward beauty is born of good thoughts and the book plays an important role in creating good thoughts.

Reading a book is as important as food and oxygen, just as a teacher plays a vital role in life. Just as a good friend pays back, so does a book pay back. Extracurricular books are essential for "nation building". Intellectuals, poets, writers and the fine arts are the oxygen of society. They play an important role in determining the future. It is not important to live, it is important to live in the heart and it is important to live in the heart only when there is wisdom and a part of wisdom is born from the book. At one point Walter says that books have ruled the world more than humans and that the great names of history are alive because of books.
The book can be brought to life in two ways, first by seeking knowledge and second by seeking someone's advice. When a well-known person introduces a book, the book is read more. That is why there are many columnists who introduce good books, one of them is Javed Chaudhry who writes a book through his columns. Keep promoting the culture. The trend of reading books is very low in Pakistan while the trend of reading books is also high in our neighboring country India along with other countries. If the subject of "self-help" is taken, then the industry has come into existence on this subject. A large number of young people follow this topic. Due to this subject, a positive approach is being created in their society. When those who create and create public opinion introduce the book, a culture of reading books is created in the society.

The important thing in reading a book is to remember its main points. The best way to memorize a book is to combine it with a reference to your life. When a book is found in a context of life, then there is no need to memorize it. People read books but can't find it in their lives. Make a diary to remember the book. Write down in a diary what you find good and useful. Anyone who wants to prepare a lecture should read the book as well as make their own notes. Anyone who only wants to read a book and wants to memorize a book should first see what he has to learn from the book. What are the questions in his subconscious that need to be answered? Unless there is a quest, a question, even the best Yen book in the world can do no good.

We have stopped appreciating the intellectual who teaches thinking and creation. The one who has ignited our thoughts, we have refused to accept him as a hero. The publisher of the book, the writer of the book is shouting that the book should be read. We do not have a culture of reading books, promoting books and honoring the author of the book. There is no doubt that the author wants an identity. But the question is when will the teacher who teaches in the school, the professor who teaches in the college inform about the importance of the book. Who has to make the people realize how important the book is for the society? Holding an annual Urdu conference does not change the importance of the book. Children will not be thirsty for knowledge unless a teacher in an educational institution introduces them to textbooks. Unless the intellectual who is the oxygen of the society is looked upon with respect, the new generation will not develop a love of knowledge. In order to put Pakistan's survival in safe hands, it is imperative that the new generation be introduced to constructive literature.

There is a board of competent people who develops the curriculum with great effort and planning. The purpose of curriculum development is to create unity in the nation, develop good human resources and make the young generation useful citizens. No matter how many governments have come to Pakistan since 1947, whether military or civilian, education Is not the first priority. There are many types of education systems in place in our country today. As a result, the nation has become a mob instead of uniting. The unity that should be created in the nation through the curriculum and the change that should come is not coming.

The culture of privatization in the field of education has left ethics far behind in education and has started showing the way to the blind. A p H. D. How can a professor who is not morally strong himself groom his children? A revolution can come if parents accept their responsibility. We will also train. But the question is, is it possible for parents not to train their children themselves and for their children to be trained? This is a big question in itself.
This is the latest technology that has come in the market in the form of smartphones, this is our TV, this is our book, this is everything. This century that is passing is the last century of the book, after which there will be no book in the world. The whole world will shift to "ebooks". With that in mind, we need to change our policies to change society. The United States is now a superpower, and one of the main reasons for its success is that its people have invested their money in libraries and research institutes. The government must first acknowledge the fact that One man cannot fix the whole system. Fixing the system requires a team to build and carry the system. And the education system should be regularly planned. It is said that if you have to plan for fifty years, then improve your weapons, if you have to plan for a hundred years, then improve your crop production and if you have to plan for a thousand years, then improve the education system.
 
Top