• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information 7 Secrets to become a Successful Teacher (اچھے اُستاد بننے کے راز )

اچھے اُستاد بننے کے راز

دنیا کا کوئی بھی طالب علم صرف فزکس، کیمسٹری یا دوسرے مضامین پڑھنے نہیں آتا۔ دراصل وہ ایک تعلیمی ادارے یاایک استاد کے پاس اس لیے آتا ہے کہ استاد یا ادارہ اس کو یہ یقین دے دے کہ تم کچھ کرسکتے ہو۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے تمام کے تمام استاد بہت اچھا پڑھاتے ہیں، بڑی محنت کرتے ہیں لیکن بچے کو یقین نہیں دیتے۔ وہ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ سب سے پہلا نمبر یقین کا آتا ہے، دماغ کا نہیں آتا۔ اگر آپ ایک بچے کو یقین دے دیتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ بیٹا، اگر آپ اپنی صلاحیت پر یقین کرو گے تو یہی صلاحیت آپ کو آسمان کی بلندیوں تک لے کر جائے گی تو آپ اس پر دنیا کا سب سے بڑا احسان کردیتے ہیں۔
ایک اچھے استاد کو بچے کے اندر پہلے محنت کا یقین پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اسے کہنا پڑتا ہے کہ بیٹا، آپ اپنی محنت پر یقین کیجیے۔ جب بچے کو اپنی محنت پر یقین ہو جاتا ہے تو پھر اس کا پڑھنے کا جی کرتا ہے۔ بچے کو دوسرا یقین خدا کی ذات کا دینا ضروری ہے کہ بیٹا،تم خدا پر یقین رکھو۔ اس کے کرم پر یقین رکھو۔ آج تک اس نے کسی کی محنت ضائع نہیں کی۔ جب بھی کوئی شخص آگے بڑھنے کیلئے محنت اور کوشش کرتا ہے تو قدرت اس کی معاون ہوجاتی ہے۔

دوسرا راز
دنیا کے بہت کم لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ جب بھی آپ کو آگے بڑھنا ہوتا ہے، آپ کو کسی مقام یا منزل پر پہنچنا ہوتا ہے تو آپ کیلئے بہت ضروری ہے کہ وہاں تک پہنچنے کا آپ کے پاس کوئی مقصد ہو۔ اگر آپ کی زندگی میں کوئی مقصد ہے تو پھر آپ عام انسان نہیں ہیں۔ آپ دنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہیں۔
اگر آپ بچوں کو مقصد دے دیتے ہیں تو پھر آپ عام استاد نہیں رہتے، مگر مقصد دینے کیلئے یہ ضروری ہے کہ آپ کے پاس بھی کوئی مقصد ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمار ے آج کے استاد کے پاس کوئی مقصد نہیں ہے۔ اگر اس سے پوچھا جائے کہ آپ کیوں پڑھا رہے ہیں تو وہ جواب دیتا ہے،اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اس کا مقصد چند پیسے ہوتا ہے۔ وہ اپنے جیب خرچ کے لیے اور اپنی زندگی گزارنے کیلئے ایک دہاڑی دار مزدور والی سوچ لیے گھر سے نکلتا ہے، اس لیے نسلوں کی تبدیلی اس کی تعلیم سے ممکن نہیں ہوتی۔
مؤثر استاد بننے کا راز یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی مقصد ضرور ہو۔ ساتھ ہی وہ بچوں کو بھی مقصد سے روشناس کرائے۔ وہ بچوں کو ٹارگٹ دے، چھوٹے چھوٹے ٹاسک دے تاکہ بچوں کو شروع سے عادت پڑ جائے کہ ہمیں زندگی کے صرف دن، ہفتے، مہینے اور سال پورے نہیں کرنے، بلکہ دن،ہفتے اور مہینوں کو کسی مقصد کے تحت گزارنا ہے۔
تیسرا راز
دنیا کا ہر انسان ترقی کرنا چاہتا ہے، آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ آپ کسی سے انٹرویو لیں اور پوچھ لیں کہ کیا وہ ترقی کرنا چاہتا ہے؟ وہ طالب علم ہو،ماں ہو، باپ ہو، استادہو، بزنس مین ہو۔۔۔ اس کا زندگی کے کسی شعبے سے بھی تعلق ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ وہ ترقی کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اسے ترقی کے سب سے بڑے رازکا پتا نہیں ہوتا۔ وہ راز یہ ہے کہ دنیا میں ترقی صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو دوسروں کے ساتھ چلنے والے ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک فرد کے ساتھ نہیں چلتے، بڑی ٹیم بنا کر کیسے چلیں گے۔ ہم تعلق توڑنے پر آتے ہیں تو اپنے سگے بہن بھائیوں سے تعلق توڑ دیتے ہیں۔ ہمیں واسطہ پڑ جائے تو ہم والدہ سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ساتھ چلنا پڑجائے تو ہمیں اپنے والد صاحب ہی اچھے نہیں لگتے۔ ہم اپنے خاندان کو، اپنے گھر کو، اپنی فیملی کو، اپنے رشتے داروں کو، اپنے محلے داروں کو، اپنے علاقے کو، اپنے شہر کو اور اپنے ملک کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتے توپھر ہم ترقی کیسے کرسکتے ہیں۔

چوتھا راز
آپ دنیا کی مرتبہ تاریخ نکال کر دیکھیں تو آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ تاریخ انسانی میں دنیا کے کامیاب ترین لوگ، مؤثر ترین لوگ، دنیا کے کامیاب ترین استاد، کامیاب ترین دانشور دراصل کردار والے لوگ تھے۔
آج کا استاد۔۔۔ اس کے پاس مضمون ہے، فزکس ہے، کیمسٹری ہے، یادداشت ہے، ڈگری ہے، پروفیسر ہے، لیکن اس کے پاس کردار نہیں ہے۔ جب کردار نہیں ہوتا تو زندگی بھی کم ہوجاتی ہے۔ یہ اس زندگی کی بات ہے جو بڑے اساتذہ کو ملتی ہے۔ سقراط زہر کا پیالہ سامنے رکھتا ہے اور مسکراتا ہے۔ اس کے پاس کھڑا شخص پوچھتا ہے، تم مرنے لگے ہو اور مسکرا رہے ہو؟ وہ کہتا ہے، نہیں میر ی زندگی بہت زیادہ ہے ، میری زندگی تو میرے افکار کی زندگی ہےاور وہ تمام درس جو میں نے ان سٹرکوں پر، ان چوراہوں پر، ان اسکولوں میں دیئے تھے، یہ کئی ہزار سال پڑھائے جائیں گے۔ آج دنیا میں فلسفے کا کوئی طالب علم ممکن ہی نہیں کہ فلسفے کی ڈگری سقراط کو پڑھے بغیر لے سکے۔ یہ کمال ہوتا ہے ایک بڑے استاد کا۔

پانچواں راز
ہمارے ملک میں ڈگریوں ، پروفیسروں، استادوں کی بھرمار ہے، لیکن جب آپ ڈھونڈنے جاتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے پاس پڑھانے کی صلاحیت نہیں ہے تو آپ حیران ہوتے ہیں۔ ان کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگریاں توہوتی ہیں، وہ ڈاکٹر بھی ہوتے ہیں،پروفیسر بھی ہوتے ہیں، انھوں نے ماسٹر بھی کیا ہوتا ہے لیکن ان میں پڑھانے کی صلاحیت موجود نہیں ہوتی۔ کیا عجیب بات ہے کہ آپ کشتی ایسے ملاح کے حوالے کر دیں جو کشتی چلانا ہی نہ جانتا ہو۔
جب استاد میں قابلیت نہ ہو تو پھر ہوتا یہ ہے کہ اساتذہ کے لیکچر بیزار کرتے ہیں، کلاسوں میں بیٹھے ہوئے بچوں کو نیند آتی ہے، پروفیسر پڑھا رہا ہوتا ہے، بچے اپنے موبائل نکال کر اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ آج کے استاد کو انگیج کرنا نہیں آتا۔ جب بھی آپ کو جوڑنا آتا ہوتا ہے تو آپ عام استاد نہیں رہتے، آپ مؤثر استاد بن جاتے ہیں۔

چھٹا راز
اگر کسی استاد سے پوچھا جائے کہ آپ کیوں پڑھا رہے ہیں تو عموماً یہ جواب ملتا ہے کہ میرے کچھ دن گز ر جائیں۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ وہ جواب دیتا ہے، مجھے اس کی خبر نہیں ہے۔ جس استاد کے پاس ویژن ہی نہیں ہے، اس کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس کی آج کی محنت کتنی نسلوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ نپولین نے کہا تھا، ’’اگر ایک استاد ایک نسل کو پڑھا لے، دوسری کو پڑھا لے ، تیسری کو بھی پڑھا لے تو اس کے بعد اسے گولی مار دینی چاہیے۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو تین نسلوں کو متاثر کر دے، دراصل وہ تین نسلوں کو متاثر نہیں کرتا، وہ کئی زمانوں کو متاثر کرتا ہے۔ معذرت کے ساتھ، ہمارا استاد ایک نسل کو بھی متاثر نہیں کر پا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ویژن ہی نہیں ہے۔ اسے اپنی محنت پر یقین ہی نہیں ہے۔ شاید ایک خودکش حملہ آور سو انسانوں کی جان لے لیتا ہے، لیکن اگر ایک استاد مؤثر اور قابل نہیں ہے تووہ سو نسلوں کو برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔
ویژن والا انسان ہمیشہ زندہ انسان ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ جذبے والا ہوتا ہے۔ اس کے اندر ایک بجلی سی دوڑ رہی ہوتی ہے اور یہی بجلی وہ بچوں کو، اگلی نسلوں کو منتقل کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے، میں کافی نہیں ہوں، میری طرح کے کئی لوگ چاہئیں۔ وہ اپنے علم کو، اپنی عقل کو، اپنے شعور کو دوسروں میں شامل کرنا شروع کرتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آج کے استاد کے پاس مسئلے ہی اتنے ہیں کہ وہ علم بانٹنے کی بجائے رزق کی فکریں بانٹ رہا ہے۔ وہ پورا سال بچے کو ڈراتا رہتا ہے اور کہتا رہتا ہے کہ کچھ نہیں ہونا۔ وہ اپنی پریشانیاں، فکریں، ڈپریشن بچوں کو تقسیم کرتا رہتا ہے۔ پھر وہی بچہ کل کو محروم باشندہ بن کر معاشرے کا محروم فرد بن جاتا ہے۔ پاکستان کو ایک اور محروم فرد مل جاتا ہے۔ پھر ہم اس سے توقع لگاتے ہیں کہ وہ اقبالؒ کا شاہین بنے۔ بھلا، وہ کیسے اقبالؒ کا شاہین بنے گا۔

ساتواں راز
آپ کسی اچھی سی بیکری میں جاتے ہیں تو آپ وہاں جا کر دیکھتے ہیں کہ ایک اچھا سا کیک رکھا ہے۔ آپ اسے کھاتے بعد میں ہیں، سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ یہ کتنا خوب صورت ہے۔ آپ پیسے دیتے ہیں اور کیک اٹھا کر گھر لے آتے ہیں،یہ بعد کی بات ہے کہ اچھا نکلتا ہے یا نہیں۔ سب سے پہلے ہماری آنکھ دیکھتی ہے کہ وہ چیز اچھی ہے یا نہیں۔ کیک کی طرح ہمیں بھی لوگ اس طرح دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

آج کے استاد کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ دیکھنے میں ہی اچھا نہیں لگتا۔ وہ اپنے حلیے، لباس ، انداز، اپنے جوتوں ،اپنے اٹھنے بیٹھنے اور اپنے کھانے پینے کے انداز سے استاد نہیں لگتا۔ دنیا کے مؤثر ترین انسان مہذب لوگ ہوتے ہیں۔ انھیں کھانے،پینے ،پہننے ،چلنے کی تمیزہوتی ہے۔ آپ کبھی یہ چیزیں اپنی زندگی میں شامل کرکے دیکھئے، لوگ آپ سے محبت کرتے ہوئے آپ کے ساتھ وقت گزارنا چاہیں گے۔ لوگ اس خواہش کا اظہار کریں گے کہ آپ ہمیں تھوڑا سا وقت دیں۔ لوگ آپ کا تذکرہ اچھے انداز میں کریں گے۔ آج کے استاد کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک بہترین کاٹن کا سوٹ پہنتا ہے اور نیچے جوگر پہن لیتا ہے۔ بچوں کو وہ فٹ بال کا کھلاڑی زیادہ لگتا ہے ایک مؤثر استاد نہیں لگتا۔ بچے نے مضمون بعد میں پڑھنا ہے، پہلے اپنے استاد کا حلیہ دیکھنا ہے۔ یقین کیجیے، صرف کلاس روم ہی میں نہیں، استاد کہیں جارہا ہو، کسی محفل میں ہو، حتیٰ کہ بازار میں سودا سلف لے رہا ہو، وہ اگر اچھا استاد ہے تو اپنی چال ڈھال سے بتادیتا ہے کہ وہ استاد ہے۔

اگر آپ کے چھوٹے چھوٹے معاملات اچھے ہیں، عمدہ ہیں تو آپ موثر انسان ہیں۔ اگر آپ مؤثر انسان ہیں تو مؤثر استاد بھی ہیں۔ کئی سال بعد جب بچے بڑے ہوجائیں گے وہ آپ کو یاد ضرور رکھیں گے۔ وہ مڑ کر دیکھیں گے۔ وہ مہذب انسانوں کی فہرست میں آپ کو کھڑا کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ واقعی ایک انسان ملا تھا جو بہت زیادہ شائستہ تھا اور اچھا اُستاذ تھا۔

 
Last edited:
7 Secrets to become a good teacher:

No student in the world comes to study only physics, chemistry or other subjects. In fact, he comes to an educational institution or a teacher to convince him that you can do something. The problem is that all of our teachers teach very well, work hard but don't trust the child. They forget the fact that the first number comes from belief, not from the mind. If you convince a child and tell him that, son, if you believe in your own ability, that ability will take you to the heights of heaven, then you do him the greatest favor in the world.

The first secret
A good teacher has to instill in the child the belief of hard work first. He has to say, son, believe in your hard work. When the child is convinced of his hard work, then he wants to read it. It is important to give the child a second conviction of God. Son, you must believe in God. Believe in His grace. To this day, he has not wasted anyone's hard work. Whenever a person works hard and strives to move forward, nature helps him.

The second secret
Very few people in the world know that whenever you have to move, you have to reach a place or destination, so it is very important for you to have a purpose to get there. If you have a purpose in life, then you are not a normal person. You are the luckiest person in the world.
If you set a goal for your children, then you are no longer a normal teacher, but in order to set a goal, you must have a goal. The problem is that our teacher today has no purpose. If he is asked why he is teaching, he answers that his purpose is to raise some money for himself and his children. He leaves home to earn a living and to earn a living as a day laborer, so generational change is not possible with his education.
The secret to being an effective teacher is to have a purpose. At the same time, he should make the children aware of the purpose. He should give targets to the children, give them small tasks so that the children get used to it from the beginning that we have to spend not only days, weeks, months and years of life, but also days, weeks and months for a purpose.

The third secret
Every human being in the world wants to progress, wants to move forward. You interview someone and ask if they want to progress? Be it a student, a mother, a father, a teacher, a businessman ... No matter what area of life he belongs to, he will admit that he wants to progress. But he does not know the biggest secret of development. The secret is that progress in the world is made only by those who are with others. The problem is that we don't go with one person, how can we go with a big team. When we break up, we break up with our siblings. When we get in touch, we get angry with the mother. If we have to walk together, we don't like our father. We cannot take our family, our home, our family, our relatives, our neighbors, our region, our city and our country with us, then how can we make progress.

The fourth secret

If you look at the history of the world, you will be amazed to know that in human history, the most successful people in the world, the most effective people, the most successful teachers in the world, the most successful intellectuals were actually people with character.
Today's teacher ... He has an essay, he has physics, he has chemistry, he has memory, he has a degree, he has a professor, but he does not have a role. When there is no character, life is short. That's the decent thing to do, and it should end there. Socrates holds a cup of poison in front of him and smiles. The person standing next to him asks, are you dying and smiling? He says, no, my life is too much, my life is the life of my thoughts and all the lessons that I gave on these streets, on these intersections, in these schools, will be taught for thousands of years. In today's world, it is not possible for a student of philosophy to take a degree in philosophy without studying Socrates. That's the decent thing to do, and it should end there.

The fifth secret
Our country is full of degrees, professors, teachers, but when you go looking for them and see that they do not have the ability to teach, you are surprised. They have PhD degrees, they are doctors, they are professors, they have masters, but they do not have the ability to teach. Is it weird that you hand over a boat to a sailor who doesn't know how to sail?
When the teacher is not qualified then what happens is that the teachers get bored of the lectures, the children sitting in the classes fall asleep, the professor is teaching, the children take out their mobile phones and start their work. There is only one reason why today's teacher does not know how to engage. Whenever you have to connect, you are no longer a regular teacher, you become an effective teacher.

The sixth secret
If a teacher is asked why you are teaching, the answer is usually a few days. He is asked what will be the result? He replies, I don't know. A teacher who has no vision has no idea how many generations his hard work can affect today. Napoleon had said, "If a teacher teaches one generation, teaches another, teaches a third, then he should be shot." This means that what affects three generations Granted, it doesn't affect three generations, it affects many times. Sorry, our teacher is not able to affect a single generation. The reason is that it does not have a vision. He is not sure about his hard work. A suicide bomber may kill a hundred people, but if a teacher is not effective and capable, he destroys a hundred generations.
A man of vision is always a living man. He is always passionate. There is an electric current running through it and it is this electricity that it transmits to children, to the next generation. He says, I am not enough, I need many people like me. He begins to incorporate his knowledge, his intellect, his consciousness into others. The tragedy is that today's teacher has so many problems that he is sharing the thoughts of sustenance instead of sharing knowledge. He keeps scaring the child all year and saying nothing will happen. He keeps sharing his worries, anxieties and depression with the children. Then the same child becomes a deprived person tomorrow and becomes a deprived person of the society. Pakistan gets another deprived person. Then we expect him to become Iqbal's Shaheen. How will he become Shaheen of Iqbal?

Seventh secret

When you go to a good bakery, you go there and see that there is a nice cake. You eat it later, first you see how beautiful it is. You pay and pick up the cake and bring it home, it depends on whether it turns out well or not. The first thing our eye sees is whether the thing is good or not. People are looking at us like a cake.

The greatest tragedy of today's teacher is that he does not look good. He doesn't look like a teacher by the way he looks, the way he dresses, the way he wears his shoes, the way he gets up and sits and the way he eats and drinks. The most effective people in the world are civilized people. They can distinguish between eating, drinking, wearing, and walking. If you ever try to incorporate these things into your life, people will love you and want to spend time with you. People will want you to give us some time. People will talk about you in a good way. The problem with today's teacher is that he wears a perfect cotton suit and a jogger underneath. Kids think that football player is more than an effective teacher. The child has to read the article later, first look at his teacher's costume. Believe me, not only in the classroom, the teacher is going somewhere, is in a party, even taking a bargain in the bazaar, if he is a good teacher, he shows with his shield that he is a teacher.

If your little things are good, you are an effective person. If you are an effective person, you are also an effective teacher. Many years later, when the children grow up, they will remember you. They will look back. They will put you on the list of civilized people. They will say that there was indeed a man who was very polite and a good teacher.
 
Top