• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

Information ناامیدی

ناامیدی

’’دنیا میں ہر سال آٹھ لاکھ افراداپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں۔‘‘یہ رپورٹ ہے عالمی ادارہ صحت کی ،جس کے مطابق ہر چالیس سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کررہا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ انسان اس حد تک کیسے چلا جاتا ہے کہ وہ خود کشی پر مجبور ہوجا تاہے۔جواب ایک ہی ہے :مایوسی اور ناامیدی،خودکشی پر تحقیق کے بعد یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اس فعل کے مرتکب ہونے والے شخص کا جو بھی مسئلہ ہوتا ہے وہ سب سے پہلے اس کی امید پر حملہ آور ہوتا ہے ۔’’امید‘‘ کو ’’ناامیدی ‘‘ میں بدلتا ہے او رپھر آہستہ آہستہ اس کو بھڑکاتا رہتا ہے ۔یہاں تک کہ اس کے اِرد گرد مایوسیوں کے اندھیرے چھاجاتے ہیں ۔اس کو زندگی میں کوئی امید نظر
نہیں آتی اور بالآخر وہ اپنی جان لے لیتا ہے۔

اللہ نے قرآن کریم میں اپنی صفاتی نام جس ترتیب سے بیان کیے ہیں ان میں سب سے پہلے نام الرحمن الرحیم ہیں ۔صحیح البخاری کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی رحمت کے 100حصے پیدا کیے ہیں ۔ایک حصہ ایک پلیٹ کی طرح ہے جس کاحجم زمین و آسمان کے درمیان والی جگہ کے برابر ہے ۔اللہ نے زمین پر ایک رحمت اتاری ہے اور اسی رحمت کی بدولت ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ماں اپنے بچے سے بے انتہا پیار کرتی ہے ،حتیٰ کہ جانور بھی اپناسینگ اپنے بچے پر نہیں رکھتا اور باقی 99رحمتیں قیامت کے دِن اپنی مخلوق پر پھیلائے گا۔
کسی بھی انسان پر جب رحمت ہوتی ہے تو وہ اس کے اندر امید پیدا کرتی ہے ،جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کبھی میری رحمت سے ناامید مت ہونا۔(سورۃ الزمر/آیت نمبر:53)
رحمت کاایک مطلب یہ بھی ہے کہ انسان نے جوسوچا ہوتا ہے وہ نہیں ہونا بلکہ اللہ کا جوپلان ہے اس کے مطابق ہونا ہے اور اللہ کا پلان کیا ہے ؟اس کے بارے میں رب خو د کہتاہے:’’میری رحمت ،میرے غضب پرحاوی ہے ۔‘‘(صحیح المسلم/حدیث نمبر:ـ6969)

غضب کیا ہے؟اللہ تمام کائنات کا سب سے بڑا منصف ہے او اگر وہ صرف انصاف کردے تو یہ ہمارے لیے غضب ہے ، کیونکہ ہم اپنے قطرہ قطرہ اعمال کا جواب نہیں دے سکتے ،صرف اس کی رحمت کاہی سہارا ہے۔رحمت ہمیشہ حق سے زیادہ ہوتی ہے ۔یہ عمل کے نتیجے میں نہیں ہوتی کیونکہ عمل کا نتیجہ تو انجام اور حساب کتاب ہے جو کہ ہم کبھی نہیں دے سکتے۔ہمارے پاس صر ف اس کی رحمت ہی بچتی ہے جس سے ناامید ہونا کفر ہے لیکن ہم میں سے اکثر لوگ یہ کررہے ہوتے ہیں ۔اس کا زبان سے ہونا ضروری نہیں ہوتا بلکہ انسان کی ذہنی حالت بھی اس کی مرتکب ہوسکتی ہے۔

گمان،جس سے ناامیدی جنم لیتی ہے
قرآن مجید میں اللہ کے لیے جبار اور قہار کا لفظ کم جبکہ رحمت سے متعلق صفاتی نام زیادہ آئے ہیں۔اس موضوع کا سائنسی پہلو سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ پورے کا پورا قانونِ کشش (لاء آف اٹریکشن) بھی اسی پر کھڑا ہے ۔ جیسا آپ کا اپنے رب سے گمان ہوتا ہے ویسا ہی معاملہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ہر انسان کاایک گمان ہوتا ہے اور ہر گمان ایک فریکوئنسی پیدا کرتا ہے اور وہ فریکوئنسی پورے کائنات میں سے ان چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے جن پر یہ گمان مشتمل ہوتا ہے۔اگر گمان منفی ہے تو پوری کائنات آپ کے لیے منفی ہے ۔اگر گمان اچھا ہے تو پوری کائنات آپ کے لیے روشنی ہے ۔واصف علی واصف ؒ کا قول ہے کہ :
جس کے اندر روشنی نہیں ہے وہ روشنیوں کے میلے سے کچھ نہیں لے سکتا۔‘‘

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک دفعہ مجھے اپنے استاد نے ایک پروفیسر صاحب کے پاس کسی کام سے بھیجا ۔میں وہاں پہنچا اور دفتر کے باہر انتظار کرنے لگا۔کافی دیر گزرنے کے بعد پروفیسر صاحب نے مجھے بلالیا،میں اندر گیا اور جس حوالے سے آیا تھا ان کوبتادیا ۔انہوں نے اس وقت میرے استاد کے بارے میں اچھی رائے کا اظہار نہیں کیا اور میں نے جو کام بتایا ا س کے بارے میں بھی انہوں نے بے پروائی والے انداز میں کہا کہ ہاں ہوجائے گا۔میں واپس آیا اور اپنے استاد کو حقیقی واقعہ نہیں بتایا بلکہ حسن ظن کامظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صاحب تھوڑے مصروف تھے ،کچھ دیر بعد ملاقات ہوئی اور انہوں نے کام کرلینے کا وعدیٰ کرلیا ۔
کچھ دِنوں بعد میرے استاد نے مجھے بلایااور پوچھا کہ گزشتہ دِنوں میں مجھ سے آپ کا پیا ر بڑھا ہے یا کم ہو اہے؟ میں نے جواب دیا کہ بڑھ گیاہے تووہ کہنے لگے : اس دِن پروفیسر صاحب کے کمرے میں جوہوا تھا وہ آپ کا امتحان تھا۔آپ کا میرے بارے میں جوگمان تھا اس کو خراب کرنے والا وہ شخص تھا ،لیکن اچھی بات یہ ہے کہ آپ کا گمان خراب نہیں ہوا۔

ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جواپنے ہوکر بھی رشتوں میں گمان خراب کردیتے ہیں۔حالانکہ قرآن کا واضح حکم ہے کہ ’’کثرتِ گمان سے بچو!کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘(سورۃالحجراتـ/آیت نمبر:12)کثرتِ گمان کا مطلب ہے کہ خود سوال پیدا کرکے خود جواب نہ دیا کرو۔انسانی ذہن کی یہ خاصیت ہے کہ یہ جب فارغ ہوتا ہے تو بدگمانی پیداکرتا ہے ۔اس لیے کہا جاتا ہے کہ اپنے ذہن کو مصروف رکھا کرواور بزرگانِ دین میں سے ایک بزرگ ایسے بھی تھے جن کے پاس جب کوئی کام نہ ہوتا تو وہ اپنا کرتا پھاڑکر اس کو سینا شروع کردیتے ۔فارغ انسان ہمیشہ ذہنی طورپر پریشان ہوتا ہے اور کچھ عرصہ بعد اس کو اپنے کام سے بھی نفرت ہوجاتی ہے ۔اس لیے اپنی زندگی میں کوئی بھی خالی موقع ویسے نہ جانے دیا کریں۔ اس میں اپنے لیے دو تین کام بنالیا کریں ۔انسان کے اپنے گمان اتنے خطرناک ہیں کہ یہ انسا ن کو باندھ کر مارتے ہیں ۔مطلب یہ کہ یہ خود ہی سوال بناتے ہیں ، خود ہی جواب دیتے ہیں اور نتیجتاً اچھا خاصا انسان بھی بدگمانی میں پڑ کر اپنے نامہ اعمال کو خراب کردیتا ہے ۔
رب ،امید والے کے ساتھ ہوتا ہے

انسان کا گمان اگر اللہ سے ٹھیک ہو تو وہ مشکلات و مصائب میں بھی خوش رہتا ہے اور وہ اللہ سے امید رکھتا ہے ۔وہ مصیبت میں گلے شکوے اور چیخیں نہیں مارتا بلکہ صبر کا دامن تھامتا ہے ۔جس تکلیف میں انسان گلے شکوے کرکے لوگوں کو بتاتا ہے اس کو اس تکلیف کا کوئی اجر نہیں ملتا اور جس تکلیف کو سہہ کر انسان صرف اپنے رب سے کہہ دیتا ہے کہ یارب ! مجھ پر رحم فرما ،تو وہ کہتا ہے اے میرے بندے! اگر تجھے مجھ سے امید ہے تو یہ یاد رکھنا کہ میں تیرے ساتھ ہوں ۔انسان مصیبت میں کہتا ہے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کہاں پھنس گیا ہوں۔رب کہتا ہے :’’جب تجھے کچھ سمجھ نہ آئے تو صبرکرلے ،کچھ وقت بعد میں آپ کو اس کا معنی بتادوں گا۔‘‘صبر کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان واقعات و حادثات کے معانی کا انتظار کرے ۔بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ ’’میں نے اتنا عرصہ صبر کیا اور مجھے کوئی صلہ نہیں ملا۔‘‘ دراصل انہوں نے صبر نہیں کیا ہوتا بلکہ صرف انتظار کیا ہوتا ہے۔صبر میں ہمیشہ اللہ سے رجوع ہوتا ہے ۔صبر میں التجاء ہوتی ہے ۔صبر میں یہ دعا ہوتی ہے کہ یاباری تعالیٰ! اب تیرے سوا کوئی نہیں ہے ، توہی میرا ولی او ر سہارا ہے اور پھر اس کے بعد اللہ اپنا رحم و کرم ضرور کردیتا ہے ۔

بدمزہ زندگی
اسلام کا پورا فلسفہ ہی مثبت پن پر ہے ۔وجہ یہ ہے کہ مثبت سوچنے والے انسان کی سو چ مثبت ہوگی ۔خیالات اچھے ہوں گے تو فریکوئنسی بھی اچھی ہوگی اور اس کے نتیجے میں ’’نتیجہ ‘‘ بھی بہتر ہوگا۔جب بھی انسان کا گمان خراب ہوتا ہے تو اس کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کی زندگی کا ذائقہ ختم ہوجاتا ہے ۔وہ اپنی حاصل شدہ نعمتوں سے بھی خوشی حاصل نہیں کرسکتا۔وہ بچوں کی معصومیت کو انجوائے نہیں کرسکتا۔اگراس کے پاس وہ سب کچھ موجودہو جس کا ایک عام انسان صرف خواب دیکھ سکتا ہے تووہ پھر بھی اس کو انجوائے نہیں کرسکتا۔ نعمت کے ہوتے ہوئے اس کی قدر کا نہ ہونا، عذاب ہے،کہ انسان کے پاس سب کچھ ہے مگر سکون نہیں ہے ۔اس سکون کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے رب کو یاد کرے ،یاد کرنا صرف ذکر نہیں بلکہ اپنے حالات اور اس کی عطا کردہ نعمتوں پر غور کرنا ہے کہ میں کہاں تھااورکہاں آگیاہوں ۔

زیرولائن کو بھولنا نہیں
جس انسان کو ڈائری لکھنے کی عادت ہوتی ہے ا س کو ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اس کو اپنی اوقات یاد رہتی ہیں ۔انسان کو اپنی زیرو لائن کبھی نہیں بھولنی چاہیے کیونکہ یہ اللہ کا فضل ہے جس کی بنیاد پر انسان کو یہ سب کچھ مل رہا ہے ۔وگرنہ جاکر ذرادیکھ لیں تو معلوم ہوگا کہ انسان کس کسمپرسی کی حالت میں ہے۔ ایک دفعہ مجھے خاکروب کی ضرورت تھی ،ایک شخص آیا ،میں نے اس سے تنخواہ کا پوچھا تو وہ کہنے لگا:آٹھ ہزار دے دیں ۔میں نے بڑے حیران ہوکرپوچھا:آٹھ ہزار؟ وہ کہنے لگا:کوئی بات نہیں آپ سات دے دیں بس مجھے کام پر رکھ لیں ۔ اس کی یہ لاچارگی دیکھ کر میں نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر اداکیا،کیونکہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ کی آج کے دور
میں کیا حیثیت ہے ؟مگر بعض لوگ ایسے ہیں جن کی کل متاع ہی یہی ہوتی ہے۔انسان جب بھی اپنی زیرولائن یاد رکھتا ہے وہ پھر گمراہ نہیں ہوتا۔

عظمت والا کون؟
کسی بھی انسان کی عظمت اگر آپ نے معلوم کرنی ہوتو یہ دیکھیں کہ وہ معاشرے کو ’’پے بیک‘‘ کتنا کررہا ہے۔اس کو اللہ نے جن کمالات اور نعمتوں سے نوازا ہے وہ اس میں کتنوں کو لوگوں کو واپس کررہا ہے ۔اسی کو کام کی زکات بھی کہتے ہیں۔قرآن میں بھی جہاں نماز کا ذکر ہے ،ساتھ ہی زکات کا بھی ہے اور زکات صرف مال کی نہیں ،بلکہ عقل وفہم اور جسم کی بھی ہوتی ہے ۔اگر انسان کے پاس سب کچھ ہے مگر وہ معاشرے کو ’’پے بیک‘‘ نہیں کررہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زکات نہیں دے رہا اور یہ یاد رکھیں کہ زکا ت نہ دینے والے کی زندگی میں ایسے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں کہ پھر وہ اپنی وہی رقم اورعقل ان کوحل کرتے کرتے لگادیتا ہے ۔یہ مسائل بیماری کی صورت میں ہوسکتے ہیں ، شدید مالی و جانی نقصان یا حادثے کی صورت میں بھی ہوسکتے ہیں۔تو کیا مسائل اور بیماریاں جھیلنے سے یہ بہتر نہیں کہ انسان معاشرے کو ’’پے بیک ‘‘کریں؟

گمان کی حفاظت کریں
اپنے گمان کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ خاص طورپر ایسی صحبتوں سے بچنے کی کوشش کریں جہاں انسان کا گمان خراب ہوتا ہے ۔لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے ضرورپیش آئیں ، ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں لیکن اپنا خیال ان کو نہ دیں،یعنی ان کے مطابق اپنا گمان نہ بنائیں،کیونکہ ہوسکتا ہے ان کا خیال درست نہ ہو اوریہ تو سب کو معلوم ہے کہ جو شخص خود لنگڑا ہو وہ دوسرے کو کیا چلنا سکھائے گا۔چائنیز میں ایک کہاوت ہے کہ بعض لوگوں کو اگر چاند دکھایا جائے تو وہ چاند کو نہیں،انگلی کو دیکھتے ہیں۔ایسے ہی لوگ بھی معاشرے میں ہوتے ہیں جو انسان کی اچھی بھلی عادات کو نہیں بلکہ صرف برائیوں کو دیکھتے ہیں۔جو انسان جتنا ذہنی طورپر چھوٹا ہے وہ اتنا ہی متعصب ہوتا ہے ۔وہ ذہنی طورپر بڑا نہیں ہوتا ۔انسان اپنے اندر کے بونے کو صرف ایک چیز سے بڑا کرسکتا ہے اوروہ ہے صبر،وہ بونابڑا ہوجائے تو پھر انسان ساری چیزوں کو صرف ایک زاویے سے نہیں سوچتا۔
جیسے پانی میں بھنو ر آتا ہے تودُور سے ہی پانی ا س میں شامل ہوناشروع ہوتا ہے ، ایسی ہی انسان کی زندگی میں ناامیدی بھی ہوتی ہے۔یہ جب بھی شروع ہو اپنے آپ کو ایک طرف کردیں۔اپنی صورت حال ،گفتگواور خاص طورپرخودکلامی کو بدلیں۔خودکلامی اتنی طاقتور چیز ہے کہ انسان کے سارے مستقبل کا انحصار اس پر ہوتا ہے اور یہ اگر منفی ہو تو پھرانسان کو باہر کے دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔

رب منتظر ہے
بدگمانی اور ناامیدی انسان کواللہ کی رحمت سے دور کرتی ہے اور دنیا کا سب سے خطرنا ک نقصان یہ ہے کہ جس میں انسان کو شعور ہی نہ ہو کہ میرا نقصان ہورہا ہے۔اس لیے خود کو اس لاشعوری نقصان سے بچانا ہے اور رب کی رحمت کے سائے تلے آنا ہے کہ وہ تو کب کا اپنے بندے کے ایک آ نسو ،ایک سسکی اور ایک صدا کا منتظر ہے اور بس بہانہ ڈھونڈرہا ہے ۔جیسے ہی یہ بہانہ ملتا ہے وہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔پھر انسان کو نہ مایوسیاں ڈراتی ہیں اور نہ ہی وہ گمان کی بھول بھلیوں میں بھٹک کر اپنی آخرت خراب کرتا ہے۔

 
Last edited by a moderator:
ناامیدی

’’دنیا میں ہر سال آٹھ لاکھ افراداپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں۔‘‘یہ رپورٹ ہے عالمی ادارہ صحت کی ،جس کے مطابق ہر چالیس سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کررہا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ انسان اس حد تک کیسے چلا جاتا ہے کہ وہ خود کشی پر مجبور ہوجا تاہے۔جواب ایک ہی ہے :مایوسی اور ناامیدی،خودکشی پر تحقیق کے بعد یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اس فعل کے مرتکب ہونے والے شخص کا جو بھی مسئلہ ہوتا ہے وہ سب سے پہلے اس کی امید پر حملہ آور ہوتا ہے ۔’’امید‘‘ کو ’’ناامیدی ‘‘ میں بدلتا ہے او رپھر آہستہ آہستہ اس کو بھڑکاتا رہتا ہے ۔یہاں تک کہ اس کے اِرد گرد مایوسیوں کے اندھیرے چھاجاتے ہیں ۔اس کو زندگی میں کوئی امید نظر
نہیں آتی اور بالآخر وہ اپنی جان لے لیتا ہے۔

اللہ نے قرآن کریم میں اپنی صفاتی نام جس ترتیب سے بیان کیے ہیں ان میں سب سے پہلے نام الرحمن الرحیم ہیں ۔صحیح البخاری کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی رحمت کے 100حصے پیدا کیے ہیں ۔ایک حصہ ایک پلیٹ کی طرح ہے جس کاحجم زمین و آسمان کے درمیان والی جگہ کے برابر ہے ۔اللہ نے زمین پر ایک رحمت اتاری ہے اور اسی رحمت کی بدولت ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ماں اپنے بچے سے بے انتہا پیار کرتی ہے ،حتیٰ کہ جانور بھی اپناسینگ اپنے بچے پر نہیں رکھتا اور باقی 99رحمتیں قیامت کے دِن اپنی مخلوق پر پھیلائے گا۔
کسی بھی انسان پر جب رحمت ہوتی ہے تو وہ اس کے اندر امید پیدا کرتی ہے ،جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کبھی میری رحمت سے ناامید مت ہونا۔(سورۃ الزمر/آیت نمبر:53)
رحمت کاایک مطلب یہ بھی ہے کہ انسان نے جوسوچا ہوتا ہے وہ نہیں ہونا بلکہ اللہ کا جوپلان ہے اس کے مطابق ہونا ہے اور اللہ کا پلان کیا ہے ؟اس کے بارے میں رب خو د کہتاہے:’’میری رحمت ،میرے غضب پرحاوی ہے ۔‘‘(صحیح المسلم/حدیث نمبر:ـ6969)

غضب کیا ہے؟اللہ تمام کائنات کا سب سے بڑا منصف ہے او اگر وہ صرف انصاف کردے تو یہ ہمارے لیے غضب ہے ، کیونکہ ہم اپنے قطرہ قطرہ اعمال کا جواب نہیں دے سکتے ،صرف اس کی رحمت کاہی سہارا ہے۔رحمت ہمیشہ حق سے زیادہ ہوتی ہے ۔یہ عمل کے نتیجے میں نہیں ہوتی کیونکہ عمل کا نتیجہ تو انجام اور حساب کتاب ہے جو کہ ہم کبھی نہیں دے سکتے۔ہمارے پاس صر ف اس کی رحمت ہی بچتی ہے جس سے ناامید ہونا کفر ہے لیکن ہم میں سے اکثر لوگ یہ کررہے ہوتے ہیں ۔اس کا زبان سے ہونا ضروری نہیں ہوتا بلکہ انسان کی ذہنی حالت بھی اس کی مرتکب ہوسکتی ہے۔

گمان،جس سے ناامیدی جنم لیتی ہے
قرآن مجید میں اللہ کے لیے جبار اور قہار کا لفظ کم جبکہ رحمت سے متعلق صفاتی نام زیادہ آئے ہیں۔اس موضوع کا سائنسی پہلو سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ پورے کا پورا قانونِ کشش (لاء آف اٹریکشن) بھی اسی پر کھڑا ہے ۔ جیسا آپ کا اپنے رب سے گمان ہوتا ہے ویسا ہی معاملہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ہر انسان کاایک گمان ہوتا ہے اور ہر گمان ایک فریکوئنسی پیدا کرتا ہے اور وہ فریکوئنسی پورے کائنات میں سے ان چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے جن پر یہ گمان مشتمل ہوتا ہے۔اگر گمان منفی ہے تو پوری کائنات آپ کے لیے منفی ہے ۔اگر گمان اچھا ہے تو پوری کائنات آپ کے لیے روشنی ہے ۔واصف علی واصف ؒ کا قول ہے کہ :
جس کے اندر روشنی نہیں ہے وہ روشنیوں کے میلے سے کچھ نہیں لے سکتا۔‘‘

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک دفعہ مجھے اپنے استاد نے ایک پروفیسر صاحب کے پاس کسی کام سے بھیجا ۔میں وہاں پہنچا اور دفتر کے باہر انتظار کرنے لگا۔کافی دیر گزرنے کے بعد پروفیسر صاحب نے مجھے بلالیا،میں اندر گیا اور جس حوالے سے آیا تھا ان کوبتادیا ۔انہوں نے اس وقت میرے استاد کے بارے میں اچھی رائے کا اظہار نہیں کیا اور میں نے جو کام بتایا ا س کے بارے میں بھی انہوں نے بے پروائی والے انداز میں کہا کہ ہاں ہوجائے گا۔میں واپس آیا اور اپنے استاد کو حقیقی واقعہ نہیں بتایا بلکہ حسن ظن کامظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صاحب تھوڑے مصروف تھے ،کچھ دیر بعد ملاقات ہوئی اور انہوں نے کام کرلینے کا وعدیٰ کرلیا ۔
کچھ دِنوں بعد میرے استاد نے مجھے بلایااور پوچھا کہ گزشتہ دِنوں میں مجھ سے آپ کا پیا ر بڑھا ہے یا کم ہو اہے؟ میں نے جواب دیا کہ بڑھ گیاہے تووہ کہنے لگے : اس دِن پروفیسر صاحب کے کمرے میں جوہوا تھا وہ آپ کا امتحان تھا۔آپ کا میرے بارے میں جوگمان تھا اس کو خراب کرنے والا وہ شخص تھا ،لیکن اچھی بات یہ ہے کہ آپ کا گمان خراب نہیں ہوا۔

ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جواپنے ہوکر بھی رشتوں میں گمان خراب کردیتے ہیں۔حالانکہ قرآن کا واضح حکم ہے کہ ’’کثرتِ گمان سے بچو!کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘(سورۃالحجراتـ/آیت نمبر:12)کثرتِ گمان کا مطلب ہے کہ خود سوال پیدا کرکے خود جواب نہ دیا کرو۔انسانی ذہن کی یہ خاصیت ہے کہ یہ جب فارغ ہوتا ہے تو بدگمانی پیداکرتا ہے ۔اس لیے کہا جاتا ہے کہ اپنے ذہن کو مصروف رکھا کرواور بزرگانِ دین میں سے ایک بزرگ ایسے بھی تھے جن کے پاس جب کوئی کام نہ ہوتا تو وہ اپنا کرتا پھاڑکر اس کو سینا شروع کردیتے ۔فارغ انسان ہمیشہ ذہنی طورپر پریشان ہوتا ہے اور کچھ عرصہ بعد اس کو اپنے کام سے بھی نفرت ہوجاتی ہے ۔اس لیے اپنی زندگی میں کوئی بھی خالی موقع ویسے نہ جانے دیا کریں۔ اس میں اپنے لیے دو تین کام بنالیا کریں ۔انسان کے اپنے گمان اتنے خطرناک ہیں کہ یہ انسا ن کو باندھ کر مارتے ہیں ۔مطلب یہ کہ یہ خود ہی سوال بناتے ہیں ، خود ہی جواب دیتے ہیں اور نتیجتاً اچھا خاصا انسان بھی بدگمانی میں پڑ کر اپنے نامہ اعمال کو خراب کردیتا ہے ۔
رب ،امید والے کے ساتھ ہوتا ہے

انسان کا گمان اگر اللہ سے ٹھیک ہو تو وہ مشکلات و مصائب میں بھی خوش رہتا ہے اور وہ اللہ سے امید رکھتا ہے ۔وہ مصیبت میں گلے شکوے اور چیخیں نہیں مارتا بلکہ صبر کا دامن تھامتا ہے ۔جس تکلیف میں انسان گلے شکوے کرکے لوگوں کو بتاتا ہے اس کو اس تکلیف کا کوئی اجر نہیں ملتا اور جس تکلیف کو سہہ کر انسان صرف اپنے رب سے کہہ دیتا ہے کہ یارب ! مجھ پر رحم فرما ،تو وہ کہتا ہے اے میرے بندے! اگر تجھے مجھ سے امید ہے تو یہ یاد رکھنا کہ میں تیرے ساتھ ہوں ۔انسان مصیبت میں کہتا ہے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کہاں پھنس گیا ہوں۔رب کہتا ہے :’’جب تجھے کچھ سمجھ نہ آئے تو صبرکرلے ،کچھ وقت بعد میں آپ کو اس کا معنی بتادوں گا۔‘‘صبر کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان واقعات و حادثات کے معانی کا انتظار کرے ۔بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ ’’میں نے اتنا عرصہ صبر کیا اور مجھے کوئی صلہ نہیں ملا۔‘‘ دراصل انہوں نے صبر نہیں کیا ہوتا بلکہ صرف انتظار کیا ہوتا ہے۔صبر میں ہمیشہ اللہ سے رجوع ہوتا ہے ۔صبر میں التجاء ہوتی ہے ۔صبر میں یہ دعا ہوتی ہے کہ یاباری تعالیٰ! اب تیرے سوا کوئی نہیں ہے ، توہی میرا ولی او ر سہارا ہے اور پھر اس کے بعد اللہ اپنا رحم و کرم ضرور کردیتا ہے ۔

بدمزہ زندگی
اسلام کا پورا فلسفہ ہی مثبت پن پر ہے ۔وجہ یہ ہے کہ مثبت سوچنے والے انسان کی سو چ مثبت ہوگی ۔خیالات اچھے ہوں گے تو فریکوئنسی بھی اچھی ہوگی اور اس کے نتیجے میں ’’نتیجہ ‘‘ بھی بہتر ہوگا۔جب بھی انسان کا گمان خراب ہوتا ہے تو اس کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کی زندگی کا ذائقہ ختم ہوجاتا ہے ۔وہ اپنی حاصل شدہ نعمتوں سے بھی خوشی حاصل نہیں کرسکتا۔وہ بچوں کی معصومیت کو انجوائے نہیں کرسکتا۔اگراس کے پاس وہ سب کچھ موجودہو جس کا ایک عام انسان صرف خواب دیکھ سکتا ہے تووہ پھر بھی اس کو انجوائے نہیں کرسکتا۔ نعمت کے ہوتے ہوئے اس کی قدر کا نہ ہونا، عذاب ہے،کہ انسان کے پاس سب کچھ ہے مگر سکون نہیں ہے ۔اس سکون کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے رب کو یاد کرے ،یاد کرنا صرف ذکر نہیں بلکہ اپنے حالات اور اس کی عطا کردہ نعمتوں پر غور کرنا ہے کہ میں کہاں تھااورکہاں آگیاہوں ۔

زیرولائن کو بھولنا نہیں
جس انسان کو ڈائری لکھنے کی عادت ہوتی ہے ا س کو ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اس کو اپنی اوقات یاد رہتی ہیں ۔انسان کو اپنی زیرو لائن کبھی نہیں بھولنی چاہیے کیونکہ یہ اللہ کا فضل ہے جس کی بنیاد پر انسان کو یہ سب کچھ مل رہا ہے ۔وگرنہ جاکر ذرادیکھ لیں تو معلوم ہوگا کہ انسان کس کسمپرسی کی حالت میں ہے۔ ایک دفعہ مجھے خاکروب کی ضرورت تھی ،ایک شخص آیا ،میں نے اس سے تنخواہ کا پوچھا تو وہ کہنے لگا:آٹھ ہزار دے دیں ۔میں نے بڑے حیران ہوکرپوچھا:آٹھ ہزار؟ وہ کہنے لگا:کوئی بات نہیں آپ سات دے دیں بس مجھے کام پر رکھ لیں ۔ اس کی یہ لاچارگی دیکھ کر میں نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر اداکیا،کیونکہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ کی آج کے دور
میں کیا حیثیت ہے ؟مگر بعض لوگ ایسے ہیں جن کی کل متاع ہی یہی ہوتی ہے۔انسان جب بھی اپنی زیرولائن یاد رکھتا ہے وہ پھر گمراہ نہیں ہوتا۔

عظمت والا کون؟
کسی بھی انسان کی عظمت اگر آپ نے معلوم کرنی ہوتو یہ دیکھیں کہ وہ معاشرے کو ’’پے بیک‘‘ کتنا کررہا ہے۔اس کو اللہ نے جن کمالات اور نعمتوں سے نوازا ہے وہ اس میں کتنوں کو لوگوں کو واپس کررہا ہے ۔اسی کو کام کی زکات بھی کہتے ہیں۔قرآن میں بھی جہاں نماز کا ذکر ہے ،ساتھ ہی زکات کا بھی ہے اور زکات صرف مال کی نہیں ،بلکہ عقل وفہم اور جسم کی بھی ہوتی ہے ۔اگر انسان کے پاس سب کچھ ہے مگر وہ معاشرے کو ’’پے بیک‘‘ نہیں کررہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زکات نہیں دے رہا اور یہ یاد رکھیں کہ زکا ت نہ دینے والے کی زندگی میں ایسے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں کہ پھر وہ اپنی وہی رقم اورعقل ان کوحل کرتے کرتے لگادیتا ہے ۔یہ مسائل بیماری کی صورت میں ہوسکتے ہیں ، شدید مالی و جانی نقصان یا حادثے کی صورت میں بھی ہوسکتے ہیں۔تو کیا مسائل اور بیماریاں جھیلنے سے یہ بہتر نہیں کہ انسان معاشرے کو ’’پے بیک ‘‘کریں؟

گمان کی حفاظت کریں
اپنے گمان کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ خاص طورپر ایسی صحبتوں سے بچنے کی کوشش کریں جہاں انسان کا گمان خراب ہوتا ہے ۔لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے ضرورپیش آئیں ، ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں لیکن اپنا خیال ان کو نہ دیں،یعنی ان کے مطابق اپنا گمان نہ بنائیں،کیونکہ ہوسکتا ہے ان کا خیال درست نہ ہو اوریہ تو سب کو معلوم ہے کہ جو شخص خود لنگڑا ہو وہ دوسرے کو کیا چلنا سکھائے گا۔چائنیز میں ایک کہاوت ہے کہ بعض لوگوں کو اگر چاند دکھایا جائے تو وہ چاند کو نہیں،انگلی کو دیکھتے ہیں۔ایسے ہی لوگ بھی معاشرے میں ہوتے ہیں جو انسان کی اچھی بھلی عادات کو نہیں بلکہ صرف برائیوں کو دیکھتے ہیں۔جو انسان جتنا ذہنی طورپر چھوٹا ہے وہ اتنا ہی متعصب ہوتا ہے ۔وہ ذہنی طورپر بڑا نہیں ہوتا ۔انسان اپنے اندر کے بونے کو صرف ایک چیز سے بڑا کرسکتا ہے اوروہ ہے صبر،وہ بونابڑا ہوجائے تو پھر انسان ساری چیزوں کو صرف ایک زاویے سے نہیں سوچتا۔
جیسے پانی میں بھنو ر آتا ہے تودُور سے ہی پانی ا س میں شامل ہوناشروع ہوتا ہے ، ایسی ہی انسان کی زندگی میں ناامیدی بھی ہوتی ہے۔یہ جب بھی شروع ہو اپنے آپ کو ایک طرف کردیں۔اپنی صورت حال ،گفتگواور خاص طورپرخودکلامی کو بدلیں۔خودکلامی اتنی طاقتور چیز ہے کہ انسان کے سارے مستقبل کا انحصار اس پر ہوتا ہے اور یہ اگر منفی ہو تو پھرانسان کو باہر کے دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔

رب منتظر ہے
بدگمانی اور ناامیدی انسان کواللہ کی رحمت سے دور کرتی ہے اور دنیا کا سب سے خطرنا ک نقصان یہ ہے کہ جس میں انسان کو شعور ہی نہ ہو کہ میرا نقصان ہورہا ہے۔اس لیے خود کو اس لاشعوری نقصان سے بچانا ہے اور رب کی رحمت کے سائے تلے آنا ہے کہ وہ تو کب کا اپنے بندے کے ایک آ نسو ،ایک سسکی اور ایک صدا کا منتظر ہے اور بس بہانہ ڈھونڈرہا ہے ۔جیسے ہی یہ بہانہ ملتا ہے وہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔پھر انسان کو نہ مایوسیاں ڈراتی ہیں اور نہ ہی وہ گمان کی بھول بھلیوں میں بھٹک کر اپنی آخرت خراب کرتا ہے۔


very nice
 
aj
ناامیدی

’’دنیا میں ہر سال آٹھ لاکھ افراداپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں۔‘‘یہ رپورٹ ہے عالمی ادارہ صحت کی ،جس کے مطابق ہر چالیس سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کررہا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ انسان اس حد تک کیسے چلا جاتا ہے کہ وہ خود کشی پر مجبور ہوجا تاہے۔جواب ایک ہی ہے :مایوسی اور ناامیدی،خودکشی پر تحقیق کے بعد یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اس فعل کے مرتکب ہونے والے شخص کا جو بھی مسئلہ ہوتا ہے وہ سب سے پہلے اس کی امید پر حملہ آور ہوتا ہے ۔’’امید‘‘ کو ’’ناامیدی ‘‘ میں بدلتا ہے او رپھر آہستہ آہستہ اس کو بھڑکاتا رہتا ہے ۔یہاں تک کہ اس کے اِرد گرد مایوسیوں کے اندھیرے چھاجاتے ہیں ۔اس کو زندگی میں کوئی امید نظر
نہیں آتی اور بالآخر وہ اپنی جان لے لیتا ہے۔

اللہ نے قرآن کریم میں اپنی صفاتی نام جس ترتیب سے بیان کیے ہیں ان میں سب سے پہلے نام الرحمن الرحیم ہیں ۔صحیح البخاری کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی رحمت کے 100حصے پیدا کیے ہیں ۔ایک حصہ ایک پلیٹ کی طرح ہے جس کاحجم زمین و آسمان کے درمیان والی جگہ کے برابر ہے ۔اللہ نے زمین پر ایک رحمت اتاری ہے اور اسی رحمت کی بدولت ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ماں اپنے بچے سے بے انتہا پیار کرتی ہے ،حتیٰ کہ جانور بھی اپناسینگ اپنے بچے پر نہیں رکھتا اور باقی 99رحمتیں قیامت کے دِن اپنی مخلوق پر پھیلائے گا۔
کسی بھی انسان پر جب رحمت ہوتی ہے تو وہ اس کے اندر امید پیدا کرتی ہے ،جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کبھی میری رحمت سے ناامید مت ہونا۔(سورۃ الزمر/آیت نمبر:53)
رحمت کاایک مطلب یہ بھی ہے کہ انسان نے جوسوچا ہوتا ہے وہ نہیں ہونا بلکہ اللہ کا جوپلان ہے اس کے مطابق ہونا ہے اور اللہ کا پلان کیا ہے ؟اس کے بارے میں رب خو د کہتاہے:’’میری رحمت ،میرے غضب پرحاوی ہے ۔‘‘(صحیح المسلم/حدیث نمبر:ـ6969)

غضب کیا ہے؟اللہ تمام کائنات کا سب سے بڑا منصف ہے او اگر وہ صرف انصاف کردے تو یہ ہمارے لیے غضب ہے ، کیونکہ ہم اپنے قطرہ قطرہ اعمال کا جواب نہیں دے سکتے ،صرف اس کی رحمت کاہی سہارا ہے۔رحمت ہمیشہ حق سے زیادہ ہوتی ہے ۔یہ عمل کے نتیجے میں نہیں ہوتی کیونکہ عمل کا نتیجہ تو انجام اور حساب کتاب ہے جو کہ ہم کبھی نہیں دے سکتے۔ہمارے پاس صر ف اس کی رحمت ہی بچتی ہے جس سے ناامید ہونا کفر ہے لیکن ہم میں سے اکثر لوگ یہ کررہے ہوتے ہیں ۔اس کا زبان سے ہونا ضروری نہیں ہوتا بلکہ انسان کی ذہنی حالت بھی اس کی مرتکب ہوسکتی ہے۔

گمان،جس سے ناامیدی جنم لیتی ہے
قرآن مجید میں اللہ کے لیے جبار اور قہار کا لفظ کم جبکہ رحمت سے متعلق صفاتی نام زیادہ آئے ہیں۔اس موضوع کا سائنسی پہلو سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ پورے کا پورا قانونِ کشش (لاء آف اٹریکشن) بھی اسی پر کھڑا ہے ۔ جیسا آپ کا اپنے رب سے گمان ہوتا ہے ویسا ہی معاملہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ہر انسان کاایک گمان ہوتا ہے اور ہر گمان ایک فریکوئنسی پیدا کرتا ہے اور وہ فریکوئنسی پورے کائنات میں سے ان چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے جن پر یہ گمان مشتمل ہوتا ہے۔اگر گمان منفی ہے تو پوری کائنات آپ کے لیے منفی ہے ۔اگر گمان اچھا ہے تو پوری کائنات آپ کے لیے روشنی ہے ۔واصف علی واصف ؒ کا قول ہے کہ :
جس کے اندر روشنی نہیں ہے وہ روشنیوں کے میلے سے کچھ نہیں لے سکتا۔‘‘

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک دفعہ مجھے اپنے استاد نے ایک پروفیسر صاحب کے پاس کسی کام سے بھیجا ۔میں وہاں پہنچا اور دفتر کے باہر انتظار کرنے لگا۔کافی دیر گزرنے کے بعد پروفیسر صاحب نے مجھے بلالیا،میں اندر گیا اور جس حوالے سے آیا تھا ان کوبتادیا ۔انہوں نے اس وقت میرے استاد کے بارے میں اچھی رائے کا اظہار نہیں کیا اور میں نے جو کام بتایا ا س کے بارے میں بھی انہوں نے بے پروائی والے انداز میں کہا کہ ہاں ہوجائے گا۔میں واپس آیا اور اپنے استاد کو حقیقی واقعہ نہیں بتایا بلکہ حسن ظن کامظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صاحب تھوڑے مصروف تھے ،کچھ دیر بعد ملاقات ہوئی اور انہوں نے کام کرلینے کا وعدیٰ کرلیا ۔
کچھ دِنوں بعد میرے استاد نے مجھے بلایااور پوچھا کہ گزشتہ دِنوں میں مجھ سے آپ کا پیا ر بڑھا ہے یا کم ہو اہے؟ میں نے جواب دیا کہ بڑھ گیاہے تووہ کہنے لگے : اس دِن پروفیسر صاحب کے کمرے میں جوہوا تھا وہ آپ کا امتحان تھا۔آپ کا میرے بارے میں جوگمان تھا اس کو خراب کرنے والا وہ شخص تھا ،لیکن اچھی بات یہ ہے کہ آپ کا گمان خراب نہیں ہوا۔

ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جواپنے ہوکر بھی رشتوں میں گمان خراب کردیتے ہیں۔حالانکہ قرآن کا واضح حکم ہے کہ ’’کثرتِ گمان سے بچو!کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘(سورۃالحجراتـ/آیت نمبر:12)کثرتِ گمان کا مطلب ہے کہ خود سوال پیدا کرکے خود جواب نہ دیا کرو۔انسانی ذہن کی یہ خاصیت ہے کہ یہ جب فارغ ہوتا ہے تو بدگمانی پیداکرتا ہے ۔اس لیے کہا جاتا ہے کہ اپنے ذہن کو مصروف رکھا کرواور بزرگانِ دین میں سے ایک بزرگ ایسے بھی تھے جن کے پاس جب کوئی کام نہ ہوتا تو وہ اپنا کرتا پھاڑکر اس کو سینا شروع کردیتے ۔فارغ انسان ہمیشہ ذہنی طورپر پریشان ہوتا ہے اور کچھ عرصہ بعد اس کو اپنے کام سے بھی نفرت ہوجاتی ہے ۔اس لیے اپنی زندگی میں کوئی بھی خالی موقع ویسے نہ جانے دیا کریں۔ اس میں اپنے لیے دو تین کام بنالیا کریں ۔انسان کے اپنے گمان اتنے خطرناک ہیں کہ یہ انسا ن کو باندھ کر مارتے ہیں ۔مطلب یہ کہ یہ خود ہی سوال بناتے ہیں ، خود ہی جواب دیتے ہیں اور نتیجتاً اچھا خاصا انسان بھی بدگمانی میں پڑ کر اپنے نامہ اعمال کو خراب کردیتا ہے ۔
رب ،امید والے کے ساتھ ہوتا ہے

انسان کا گمان اگر اللہ سے ٹھیک ہو تو وہ مشکلات و مصائب میں بھی خوش رہتا ہے اور وہ اللہ سے امید رکھتا ہے ۔وہ مصیبت میں گلے شکوے اور چیخیں نہیں مارتا بلکہ صبر کا دامن تھامتا ہے ۔جس تکلیف میں انسان گلے شکوے کرکے لوگوں کو بتاتا ہے اس کو اس تکلیف کا کوئی اجر نہیں ملتا اور جس تکلیف کو سہہ کر انسان صرف اپنے رب سے کہہ دیتا ہے کہ یارب ! مجھ پر رحم فرما ،تو وہ کہتا ہے اے میرے بندے! اگر تجھے مجھ سے امید ہے تو یہ یاد رکھنا کہ میں تیرے ساتھ ہوں ۔انسان مصیبت میں کہتا ہے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کہاں پھنس گیا ہوں۔رب کہتا ہے :’’جب تجھے کچھ سمجھ نہ آئے تو صبرکرلے ،کچھ وقت بعد میں آپ کو اس کا معنی بتادوں گا۔‘‘صبر کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان واقعات و حادثات کے معانی کا انتظار کرے ۔بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ ’’میں نے اتنا عرصہ صبر کیا اور مجھے کوئی صلہ نہیں ملا۔‘‘ دراصل انہوں نے صبر نہیں کیا ہوتا بلکہ صرف انتظار کیا ہوتا ہے۔صبر میں ہمیشہ اللہ سے رجوع ہوتا ہے ۔صبر میں التجاء ہوتی ہے ۔صبر میں یہ دعا ہوتی ہے کہ یاباری تعالیٰ! اب تیرے سوا کوئی نہیں ہے ، توہی میرا ولی او ر سہارا ہے اور پھر اس کے بعد اللہ اپنا رحم و کرم ضرور کردیتا ہے ۔

بدمزہ زندگی
اسلام کا پورا فلسفہ ہی مثبت پن پر ہے ۔وجہ یہ ہے کہ مثبت سوچنے والے انسان کی سو چ مثبت ہوگی ۔خیالات اچھے ہوں گے تو فریکوئنسی بھی اچھی ہوگی اور اس کے نتیجے میں ’’نتیجہ ‘‘ بھی بہتر ہوگا۔جب بھی انسان کا گمان خراب ہوتا ہے تو اس کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کی زندگی کا ذائقہ ختم ہوجاتا ہے ۔وہ اپنی حاصل شدہ نعمتوں سے بھی خوشی حاصل نہیں کرسکتا۔وہ بچوں کی معصومیت کو انجوائے نہیں کرسکتا۔اگراس کے پاس وہ سب کچھ موجودہو جس کا ایک عام انسان صرف خواب دیکھ سکتا ہے تووہ پھر بھی اس کو انجوائے نہیں کرسکتا۔ نعمت کے ہوتے ہوئے اس کی قدر کا نہ ہونا، عذاب ہے،کہ انسان کے پاس سب کچھ ہے مگر سکون نہیں ہے ۔اس سکون کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے رب کو یاد کرے ،یاد کرنا صرف ذکر نہیں بلکہ اپنے حالات اور اس کی عطا کردہ نعمتوں پر غور کرنا ہے کہ میں کہاں تھااورکہاں آگیاہوں ۔

زیرولائن کو بھولنا نہیں
جس انسان کو ڈائری لکھنے کی عادت ہوتی ہے ا س کو ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اس کو اپنی اوقات یاد رہتی ہیں ۔انسان کو اپنی زیرو لائن کبھی نہیں بھولنی چاہیے کیونکہ یہ اللہ کا فضل ہے جس کی بنیاد پر انسان کو یہ سب کچھ مل رہا ہے ۔وگرنہ جاکر ذرادیکھ لیں تو معلوم ہوگا کہ انسان کس کسمپرسی کی حالت میں ہے۔ ایک دفعہ مجھے خاکروب کی ضرورت تھی ،ایک شخص آیا ،میں نے اس سے تنخواہ کا پوچھا تو وہ کہنے لگا:آٹھ ہزار دے دیں ۔میں نے بڑے حیران ہوکرپوچھا:آٹھ ہزار؟ وہ کہنے لگا:کوئی بات نہیں آپ سات دے دیں بس مجھے کام پر رکھ لیں ۔ اس کی یہ لاچارگی دیکھ کر میں نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر اداکیا،کیونکہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ کی آج کے دور
میں کیا حیثیت ہے ؟مگر بعض لوگ ایسے ہیں جن کی کل متاع ہی یہی ہوتی ہے۔انسان جب بھی اپنی زیرولائن یاد رکھتا ہے وہ پھر گمراہ نہیں ہوتا۔

عظمت والا کون؟
کسی بھی انسان کی عظمت اگر آپ نے معلوم کرنی ہوتو یہ دیکھیں کہ وہ معاشرے کو ’’پے بیک‘‘ کتنا کررہا ہے۔اس کو اللہ نے جن کمالات اور نعمتوں سے نوازا ہے وہ اس میں کتنوں کو لوگوں کو واپس کررہا ہے ۔اسی کو کام کی زکات بھی کہتے ہیں۔قرآن میں بھی جہاں نماز کا ذکر ہے ،ساتھ ہی زکات کا بھی ہے اور زکات صرف مال کی نہیں ،بلکہ عقل وفہم اور جسم کی بھی ہوتی ہے ۔اگر انسان کے پاس سب کچھ ہے مگر وہ معاشرے کو ’’پے بیک‘‘ نہیں کررہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زکات نہیں دے رہا اور یہ یاد رکھیں کہ زکا ت نہ دینے والے کی زندگی میں ایسے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں کہ پھر وہ اپنی وہی رقم اورعقل ان کوحل کرتے کرتے لگادیتا ہے ۔یہ مسائل بیماری کی صورت میں ہوسکتے ہیں ، شدید مالی و جانی نقصان یا حادثے کی صورت میں بھی ہوسکتے ہیں۔تو کیا مسائل اور بیماریاں جھیلنے سے یہ بہتر نہیں کہ انسان معاشرے کو ’’پے بیک ‘‘کریں؟

گمان کی حفاظت کریں
اپنے گمان کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ خاص طورپر ایسی صحبتوں سے بچنے کی کوشش کریں جہاں انسان کا گمان خراب ہوتا ہے ۔لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے ضرورپیش آئیں ، ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں لیکن اپنا خیال ان کو نہ دیں،یعنی ان کے مطابق اپنا گمان نہ بنائیں،کیونکہ ہوسکتا ہے ان کا خیال درست نہ ہو اوریہ تو سب کو معلوم ہے کہ جو شخص خود لنگڑا ہو وہ دوسرے کو کیا چلنا سکھائے گا۔چائنیز میں ایک کہاوت ہے کہ بعض لوگوں کو اگر چاند دکھایا جائے تو وہ چاند کو نہیں،انگلی کو دیکھتے ہیں۔ایسے ہی لوگ بھی معاشرے میں ہوتے ہیں جو انسان کی اچھی بھلی عادات کو نہیں بلکہ صرف برائیوں کو دیکھتے ہیں۔جو انسان جتنا ذہنی طورپر چھوٹا ہے وہ اتنا ہی متعصب ہوتا ہے ۔وہ ذہنی طورپر بڑا نہیں ہوتا ۔انسان اپنے اندر کے بونے کو صرف ایک چیز سے بڑا کرسکتا ہے اوروہ ہے صبر،وہ بونابڑا ہوجائے تو پھر انسان ساری چیزوں کو صرف ایک زاویے سے نہیں سوچتا۔
جیسے پانی میں بھنو ر آتا ہے تودُور سے ہی پانی ا س میں شامل ہوناشروع ہوتا ہے ، ایسی ہی انسان کی زندگی میں ناامیدی بھی ہوتی ہے۔یہ جب بھی شروع ہو اپنے آپ کو ایک طرف کردیں۔اپنی صورت حال ،گفتگواور خاص طورپرخودکلامی کو بدلیں۔خودکلامی اتنی طاقتور چیز ہے کہ انسان کے سارے مستقبل کا انحصار اس پر ہوتا ہے اور یہ اگر منفی ہو تو پھرانسان کو باہر کے دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔

رب منتظر ہے
بدگمانی اور ناامیدی انسان کواللہ کی رحمت سے دور کرتی ہے اور دنیا کا سب سے خطرنا ک نقصان یہ ہے کہ جس میں انسان کو شعور ہی نہ ہو کہ میرا نقصان ہورہا ہے۔اس لیے خود کو اس لاشعوری نقصان سے بچانا ہے اور رب کی رحمت کے سائے تلے آنا ہے کہ وہ تو کب کا اپنے بندے کے ایک آ نسو ،ایک سسکی اور ایک صدا کا منتظر ہے اور بس بہانہ ڈھونڈرہا ہے ۔جیسے ہی یہ بہانہ ملتا ہے وہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔پھر انسان کو نہ مایوسیاں ڈراتی ہیں اور نہ ہی وہ گمان کی بھول بھلیوں میں بھٹک کر اپنی آخرت خراب کرتا ہے۔


ajkal har koi na umeedi ka shikar hai...
Allah hamare emaan ko mazboot kare
 
Top