• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

لال قلعہ

Abrar

Member
پانچویں مغل بادشاہ شہاب الدین محمد خرم، جو کہ شاہجہاں کے نام سے زیادہ مشہور ہوئے، 1628 میں تخت نشین ہوئے تھے۔ ان کی حکمرانی آگرہ کے قلعہ سے شروع ہوئی تھی لیکن کچھ دنوں بعد جب مغل سلطنت کا دائرہ کافی بڑھ گیا تو شاہجہاں کو جگہ کی کمی کا احساس ہوا۔ انھیں محسوس ہوا کہ امیر، نواب، دوسری ریاستوں کے بادشاہ اور ان کے ساتھ آنے والی خواتین کے قیام میں پریشانیاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے شاہجہاں نے طے کیا کہ وہ دہلی میں ایک قلعہ تعمیر کرائیں گے جو عظیم الشان بھی ہوگا اور آس پاس کے علاقوں میں سبزہ و ہریالی بھی ہوگی۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے 1639 میں دہلی کے قلعہ کی بنیاد رکھی گئی۔
آج جس مقام پر دہلی کا لال قلعہ موجود ہے، اس کا انتخاب نجومیوں کے مشورہ سے کیا گیا تھا۔ اس مقام سے ملحق جمنا ندی بہتی تھی۔ جہاں تک لال قلعہ کی تعمیر میں لگے وقت کا سوال ہے، اس میں تقریباً 10 سال کا وقفہ لگا۔ سب سے پہلے اس کی دیوار کی تعمیر کا کام شروع ہوا اور جب دیواریں مکمل طور پر کھڑی ہو گئیں تو ان کے سامنے خندق تیار کیے گئے۔ بعد ازاں محلات تعمیر کرنے کا کام شروع ہوا۔
بہر حال، 1649 میں لال قلعہ بن کر تیار ہو گیا اور شاہجہاں کو تشریف آوری کا پیغام بھیجا گیا۔ اس وقت شاہجہاں کابل میں تھے اور قلعہ تعمیر ہو جانے کی خبر سننے کے بعد وہاں سے بذریعہ کشتی دہلی آمد کی تیاری کی۔ ان کی کشتی خضری دروازے سے داخل ہوئی اور پھر جشن و تاجپوشی کی ایسی تقریب ہوئی جو ایک مثال ثابت ہوئی۔ اس موقع پر مہمانوں کے لیے بڑے بڑے خیمے تیار کیے گئے جس میں زربف، اطلس اور کمخواب کے پردے لگائے گئے تو کچھ کو پشمینہ کے پردوں سے سجایا گیا۔ شاہجہاں نے تقریب میں استعمال کرنے کے لیے ایران سے خاص قسم کے قالین بھی منگوائے۔ سونا، چاندی اور جواہرات سے لدے ہوئے ایسے خیمے بھی تیار ہوئے جس سے تقریب کی رونق میں چار چاند لگ گئے۔ دہلی میں شاہجہاں کے لیے تخت طاؤس بنایا گیا جس کو دیوان خاص میں جگہ ملی۔​
213214
قابل ذکر بات یہ ہے کہ لال قلعہ کے اندر جو عمارتیں موجود تھیں اس کا تقریباً 80 فیصد حصہ انگریزوں نے 1857 کے بعد منہدم کر دیا۔ دراصل 1857 کا جوغدر ہوا تھا اس میں میرٹھ
ٓئے باغی سواران (جنھیں انگریز باغی سپاہی کہتے تھے) لال قلعہ کے اندر موجود عمارت میں ہی ٹھہرے تھے اور اس کو ہیڈ کوارٹر بنا کر بہادر شاہ ظفر کو اپنا بادشاہ قرار دیا تھا۔ اسی غصے میں انگریزوں نے قلعہ کے اندر کی عمارتوں کو نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ کر کے ایک بڑے حصے کو نقصان پہنچایا۔ ممکن تھا کہ مکمل تعمیرات کو منہدم کر دیا جاتا لیکن لارڈ کیننگ نے ایسا نہ کرنے کا حکم دیا اور ایک چھوٹا حصہ بچ گیا جسے اس وقت آپ دیکھ سکتے ہیں۔
جو بلڈنگیں اس توڑ پھوڑ میں بچ گئیں ان میں لاہوری دروازہ بھی ہے جو قلعہ کے اندر آنے کے لیے صدر دروازہ تھا۔ لاہوری دروازے کے اوپر اس وقت سامنے کی جانب ایک اوٹ آپ دیکھ سکتے ہیں جو اورنگ زیب نے بنوایا تھا۔ اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ایک وقت یہاں سے سامنے فتح پوری مسجد تک دکھائی دیتا تھا جس کے سبب امیر و امرا کو وہاں سے اپنے گھوڑوں اور ہاتھی سے اترنا پڑتا تھا۔ ایسا اس لیے کہ فتح پور سیکری سے دیوانِ عام تک ایک سیدھی سڑک تھی اور جب بادشاہ دیوانِ عام میں تخت ظل الٰہی (جس کو نشیمن ظل الٰہی کہتے ہیں) پر بیٹھتے تھے تو ان کے احترام میں سامنے سے آ رہے لوگوں کو اپنی سواریوں سے اترنا ہوتا تھا۔ اسی کے مدنظر اورنگ زیب نے اس کے اوپر اوٹ لگائی جس کے بارے میں شاہجہاں نے کہا کہ ’’تم نے دلہن کو گھونگھٹ پہنا دیا۔‘‘​
215216
جب ہم لوگ قلعہ میں داخل ہوتے ہیں تو لاہوری دروازے کے اوٹ سے داخل ہوتے ہیں۔ اس لاہوری دروازے سے ہوتے ہوئے چھتہ بازار ہے جس کی خوبصورت تعمیر کے پیچھے بھی ایک اہم وجہ ہے۔ دراصل شاہجہاں نے کابل میں ایک بازار دیکھا تھا جو ڈھکا ہوا تھا۔ اسی کی مناسبت سے چھتہ بازار کی تعمیر کی گئی اور اسے کھلا آسمان دینے کی جگہ covered کر دیا گیا۔ اس سے آگے بڑھیں گے تو نقار خانہ کا دیدار ہوگا۔ مزید آگے بڑھنے پر دیوانِ عام ہے جس کے پشت میں دیوانِ خاص موجود ہے۔ یہیں پر چار پانچ محل بھی موجود ہیں جو انگریزوں کے توڑ پھوڑ کے بعد بچ گئے۔ ان محلوں میں سے ایک رنگ محل بھی ہے جس کو شاہجہاں کے زمانے میں امتیاز محل کا نام دیا گیا تھا۔
لال قلعہ میں ایک شاہ برج بھی اس وقت موجود ہے جس میں سے نہر بہشت نکلتی ہے اور وہ نہر حمام تک جاتی ہے۔ حمام کو آج کل بند رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی خوبصورت نقاشی کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچ سکے۔ لال قلعہ کے اندر موجود موتی مسجد کو بھی بند رکھا جاتا ہے جس کی تعمیر اورنگ زیب نے کرائی تھی۔ سنگ مرمر کی بنی اس مسجد کی خوبصورتی بھی قابل دید ہے۔ ویسے دیوانِ خاص بھی سنگ مرمر سے ہی تعمیر ہے اور اس کی چھت و دیواروں پر سونے کے پانی سے دلکش نقاشی بھی کی گئی تھی جو اس وقت بہت خراب حالت میں ہے۔ دیوانِ خاص کا سنگ مرمر بھی بالکل سیاہ ہو چکا ہے۔ آپ لال قلعہ میں اس مقام کا نظارہ کریں گے تو دیکھیں گے کہ اسی جگہ یہ شعر کندہ ہے:
گر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
دیوانِ خاص سے تصبیح خانہ کی طرف جانے کا ایک راستہ ہے اور تصبیح خانہ وہ جگہ ہے جہاں پر ایک میزانِ عدل بنا ہوا ہے۔ اس مقام پر وقتاً فوقتاً بادشاہ اپنی دربار لگایا کرتے تھے اور رعایا کی شکایات سن کر ان کا انصاف کرتے تھے۔ تصبیح خانہ کے بعد محل کا وہ حصہ ہے جہاں عورتیں رہتی تھیں۔ گویا کہ یہ مقام شہزادیوں اور بادشاہ کی بیگمات کے لیے مخصوص تھیں۔ اس کے اندر بادشاہ، خواجہ سرا یا نابالغ لڑکے ہی جا سکتے تھے۔
کسی مرد کا اس مقام سے گزر ممنوع تھا۔ بہر حال، انگریزوں کی توڑ پھوڑ کے بعد لال قلعہ کے اندر کی تعمیرات میں بس تصبیح خانہ، خواب گاہ، چھوٹی بیٹھک، بڑی بیٹھک اور امتیاز محل جیسے مقامات ہی اس وقت باقی ہیں۔ 80 فیصد عمارتوں کے انہدام کے باوجود لال قلعہ کی خوبصورتی لوگوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ پاتی ہے تو غور کیجیے کہ جب لال قلعہ اپنی اصل حالت میں ہوگی تو کس قدر خوبصورت نظارہ پیش کرتی ہوگی۔یقیناً ہم لوگ اس خوبصورتی کا نظارہ نہیں کر سکتے لیکن اسے محسوس ضرور کر سکتے ہیں۔
2007ء میں لال قلعہ کو عالمی اثاثوں کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم برائے ثقافت، یونیسکو کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔​
217218
 
Top