• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

urdu shayri

  1. Tariq Iqbal Haavi

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں جو دیکھے اِنھیں شکار بَنے، یہ داﺅ کہاں سے سیکھے ہیں؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  2. Tariq Iqbal Haavi

    بڑی عجیب لڑکی ہے

    بڑی عجیب لڑکی ہے کسی سے کچھ نہیں کہتی زندگی کی تلخیوں کو چپ چاپ ہے سہتی بڑا ہے حوصلہ اس کا جو اتنے دُکھ چھپاتی ہے غموں سے چور ہو کر بھی ہمیشہ مسکراتی ہے صبر جب حد سے بڑھ جائے درد جب سر کو چڑھ جائے تو وائیلن تھام لیتی ہے اور اکثر ایسا کرتی ہے بجاتی ہے دُھنیں دِلسوز اور من کو ہلکا کرتی ہے نہیں...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں جو دیکھے اِنھیں شکار بَنے، یہ داﺅ کہاں سے سیکھے ہیں؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  4. Tariq Iqbal Haavi

    تمھارے بن ادھورے ہیں

    تمھیں ہم کیسے سمجھائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں کیسے ہم دل کو بہلائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں گزارش یہ ذرا سی ہے، تمھارے بن اُداسی ہے کہو تو ملنے آجائیں، ، تمھارے بن ادھورے ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  5. Tariq Iqbal Haavi

    اہل کشمیر کے نام ۔ ۔ ۔

    آگ چھوئے گی آشیاں، تب نکلیں گے ظلم ہے انتہا پر، کب نکلیں گے؟ دردِ انسانیت کا اب احساس نہیں جنکو کوئی اپنا جب مرے گا، تب نکلیں گے (شاعر:طارق اقبال حاوی)
  6. Tariq Iqbal Haavi

    دادا کی گھڑی

    کچھ پرانی سنبھالی چیزوں میں پڑی نکلی پکڑ کے چوما جو میرے دادا کی گھڑی نکلی اٹھا کے فوراً ہی ہاتھ میں ڈالی میں نے مجھے نہ آئی مگر پھر بھی پھنسالی میں نے یہی حرکت میں بچپن میں کیا کرتا تھا گھڑی یہ چھین میں دادا سے لیا کرتا تھا بہت پیار سے کہتے تھے اپنے پوتے سے میرے دادا کے الفاظ پھر یہ ہوتے تھے...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    ذرا احساس ہونے دو

    مجھے وہ خود پکارے گا، ذرا احساس ہونے دو سبھی مسئلے سدھارے گا، ، ذرا احساس ہونے دو ابھی تو دیکھ کر مجھ کو، جو سر پہ خاک ڈالے ہے وہ خود کو پھر نکھارے گا، ذرا احساس ہونے دو ابھی جو اوڑھے پھرتا ہے ، پرائی عیش و عشرت کے لبادے سب اُتارے گا، ذرا احساس ہونے دو تمہیدیں باندھ کر اُلٹی، سدا جیتا ہے...
  8. Tariq Iqbal Haavi

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ تم چاند سے، پھولوں سے، کہیں خوبصورت ہو میرا پہلا ارماں ہو، تم میری ضرورت ہو مہکا ڈالو من کی کلیاں، اِک بار مسکراﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ میری شاعری میں تم ہو، میری گفتگو میں تم ہو دِل میں...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے اگرچہ بھرپور ہے خاروں کے سو درجے بہتر ہے حاوی کیکر بھی میرے یاروں سے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  10. Tariq Iqbal Haavi

    ایک شعر: وابستہ اس سال نو سے، کوئی امید مت کرنا

    وابستہ اس سال نو سے، کوئی امید مت کرنا صرف فرق ہے انیس بیس کا، اور کچھ نہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  11. Tariq Iqbal Haavi

    کبھی تم سوچنا مت یہ

    محبت میں دغا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ تمھیں اک دن بھلا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ میری جتنی محبت ہے، سبھی تیری امانت ہے میں چاہت یہ گھٹا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ محبت سے تمھیں مل کے، کسی مورت کو میں دل کے مندر میں سجا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ نہیں یہ وقت گزاری ہے، عمر یہ وقف ساری ہے...
  12. Tariq Iqbal Haavi

    تنہا جینا بہترہے

    سنو۔۔۔ کچھ کہنا ہے تم سے میں نے کل رات دیکھی ہے اک آخری قسط ڈرامے کی کہ جس میں یہ دکھایا ہے مرتا ہے آخر میں، بہت جو پیار کرتا ہے یقیں جانو میرا دل بھی بہت ہی ڈر گیا ہے اب کہ اب یہ پھوٹنا چاہے بہت ہی بھر گیا ہے اب محبت نے ، وفاﺅں نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا ہے اس آخری قسط نے مجھ کو بہت ہی توڑ ڈالا ہے کہ...
  13. Tariq Iqbal Haavi

    مرشد مجھے کوئی آج ایسی چیز دیجئے

    مرشد مجھے کوئی آج ایسی چیز دیجئے بھلانے کا ہنر، یا کوئی تجویز دیجئے مرشد مجھے عشق سا لاحق ہوگیا مرشد بچا لیجئے، تعویز دیجئے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  14. Tariq Iqbal Haavi

    بڑا موسم سہانا ہے

    فضاء بھی دلربا سی ہے، سماں بھی عاشقانہ ہے کوئی تدبیر ڈھونڈو نا، بڑا موسم سہانا ہے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  15. Tariq Iqbal Haavi

    موسم بدل رہا ہے۔۔۔

    سنو جاناں موسم بدل رہا ہے اور موسم کے بدلنے پر بہت سی تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہیں ہواﺅں نے اپنے مزاج میں دُھند بھر لی ہے۔۔۔ اور پیڑوں کی قسمت میں بھی اُداسی کا موسم شروع ہونے کو ہے یوں موسم بدلنے پر بہت کچھ بدلتا ہے ہمارے لباس، انداز، مشروب اوڑھنا، بچھونا، چال ،ڈھال اور بہت کچھ مگر میرے جذبات کی...
  16. Tariq Iqbal Haavi

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟ تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے ”عاجز“ و ”شاکر“ ہو کر ہی ملے ہے ”قربت“ عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے اس...
  17. Tariq Iqbal Haavi

    خدارا کچھ ذرا سمجھو

    یہ ہے تو رب کی جانب سے، رضا سمجھو، سزا سمجھو نہیں ہے بات معمولی، خدارا کچھ ذرا سمجھو سانس لینا اذیت ہو، سوچو کیسی طبیعت ہو ہے یہ موت کی دستک، محض نہ عارضہ سمجھو جو لقمہ بن چکے اِسکا، انہی سے کچھ سبق سیکھو بہت تکلیف دہ ہے یہ، اسے موذی وَبا سمجھو بناﺅ لوگوں سے دُوری، اِسی میں ہے سمجھداری موت ہے...
  18. Tariq Iqbal Haavi

    میرے مولا صدا سن لے

    بڑے مجبور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے غموں سے چور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے مولا معاف کر دے تو، ہماری سب خطاؤں کو بہت رنجور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے (طارق اقبال حاوی)
  19. Tariq Iqbal Haavi

    میں انساں ہوں، اس دنیا میں ۔ ۔ ۔

    میں انساں ہوں، اس دنیا میں سبھی مخلوقوں میں اشرف ہوں جدت کے صلاحیت کے، سبھی گن مجھ میں بستے ہیں ہر مسئلے سے نمٹنے کو، ذہن میں لاکھوں رستے ہیں میں جو چاہوں بنا ڈالوں، میں جو چاہوں مٹا ڈالوں چاہوں تو چاہتیں بانٹوں، چاہوں تو راحتیں بانٹوں چاہوں تو نفرتیں بو دوں، یوں اکثر قدریں بھی کھو دوں مگر میں...
Top