• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

urdu poetry

  1. Tariq Iqbal Haavi

    اُسی پُرنور سی شب کو، شبِ معراج کہتے ہیں

    سبحان اللہ کیا تھی اُس پار سے، اِس پار کی حسرت کتنی شدت سے تھی محبوب کے دیدار کی حسرت نہ ہو بیاں، کشش کیا تھی، نگاہِ التفات میں بلایا عرش پر اُن کو، فرشتوں کی برات میں بیٹھے براق پر گزرے جہاں سے بھی آقا پیارے پڑھیں درود صف باندھے، ملائک و انبیاء سارے کئے ساکت جہاں سارے، کوئی حرکت نہ ہو حائل...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    میری یادیں میری باتیں بس اپنے پاس رکھنا تم

    سنو جاناں.... کیوں دوری کو لے کر یوں تم اداس رہتی ہو؟ بھلے تم دور ہو مجھ سے مگر ہر پل ہر لمحہ دل کے پاس رہتی ہو قسم جاناں تمہیں میری کہ اب اس دوری کو لے کر نہ دل اداس رکھنا تم مجھے موجود پاٶ گی میری یادیں میری باتیں بس اپنے پاس رکھنا تم فاصلے جو مقدر ہیں ہمیشہ تو نہیں رہنے ہنسی چہرے کِھلائے گی...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    جئے جاٶں ملن کی آرزو میں

    جئے جاٶں ملن کی آرزو میں کٹے دن رات تیری جستجو میں * نہیں اوجھل تو مجھ سے ایک پل بھی تیری صورت ہے گھر کے چارسو میں * اترے کانوں سے دل تک اک شیرینی عجب جادو ہے تیری گفتگو میں * اسے دیکھوں تو بہکوں بن پئے ہی کشش ایسی ہے میرے ہم سُبو میں * کشش غزلوں میں یونہی تو نہیں ہے تو ہے رہتا خیالِ آبرو میں *...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    کس سَمت چل پڑی ہے خدائی میرے خدا

    کس سَمت چل پڑی ہے خدائی میرے خدا نفرت ہی دے رہی ہے دِکھائی میرے خدا **** امن و اماں سے خالی دُنیا کیوں ہو گئی تُو نے تَو نہ تھی ایسی بنائی میرے خدا **** ذہنوں پہ اب سوار بس فکرِ معاش ہے مِل جائے کاش بھوک سے رہائی میرے خدا **** جسکا بھی جتنا بھی یہاں چلتا ہے ذور تَو قیامت ہے ہر اُس شخص نے...
  5. Tariq Iqbal Haavi

    جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں

    جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں ایسے لوگوں کا تو، بس علاج پتھر ہیں **** واہ ری دولت، تو نہ رہی، تو میرے اپنے کبھی جو موم تھے، وہ سارے آج پتھر ہیں **** جس نے اِینٹیں اُٹھا کر، بنایا ہے بیٹا ڈاکٹر اُس مزدور کے تو، سر کا تاج پتھر ہیں **** کسی کا نام لکھنا، اور جھیل میں پھینکے جانا اِن دنوں...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے

    وجود ھے ناتواں، ھمت مگر ضرور کرتا ھے جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے **** سفرِ تیرگی میں اِک، بھلی اُمید ھے جگنو ظلمت کے نگر میں، ساعتِ سعید ھے جگنو **** کہنے کو یہ جگنو اِک، بہت حقیر پیکر ھے قریب اہلِ نظر کے یہ، مگر فقیر پیکر ھے **** ھے کتنی بے ضرر ھستی، کاسِ مدام ھو کر بھی نہیں شعلہ...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    محبت قرض ہوتی ہے۔۔۔

    سنو جاناں، سمجھ لو تم۔۔۔ محبت قرض ہوتی ہے یہ ہو جائے تو ہر صورت نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔ ”محبت “ دو دلوں کا ایک دھڑکن ، بن کے دھڑکنا ہے ”محبت “ دو بُتوں کا ایک دوجے بِن تڑپنا ہے شفا ہیں قربتیں اس میں جدائی مرض ہوتی ہے یہ ہو جائے تو ہر صورت نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔ نفی اس میں نہیں ہوتی یہ بس دھیان...
  8. Tariq Iqbal Haavi

    ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی

    ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں میری سانسیں اَٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں محبت مر چُکی لیکن ، دل و دماغ میں اب تک تیری یادیں بھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں نہیں تعلق کوئی باقی، تو رُک کر کیوں میری جانب تیری آنکھیں مٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں نہیں پرواہ زمانے کی، مگر جو...
  10. Tariq Iqbal Haavi

    لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی

    لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی نہ اُس کا اور نہ اپنا بنا میں نہیں مجھ سا کوئی ناکام ساقی یونہی گِر کے سنبھلنا سیکھنا ہے سہارا دے مجھے نہ تھام ساقی دَورِ...
  11. Tariq Iqbal Haavi

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت...
  12. Tariq Iqbal Haavi

    یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو

    یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں تو لے...
  13. Tariq Iqbal Haavi

    ...سنوں جو خواب بچے کا

    سنوں جو خواب بچے کا، تو میری آنکھ بھر آئے مجھے کیوں روز سپنے میں، اَمّاں روٹی نظر آئے؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  14. Tariq Iqbal Haavi

    یوں سنگ چاٸے پیتے عمر بیت جاٸے

    بھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے اک کپ...
  15. Tariq Iqbal Haavi

    بڑی عجیب لڑکی ہے

    بڑی عجیب لڑکی ہے کسی سے کچھ نہیں کہتی زندگی کی تلخیوں کو چپ چاپ ہے سہتی بڑا ہے حوصلہ اس کا جو اتنے دُکھ چھپاتی ہے غموں سے چور ہو کر بھی ہمیشہ مسکراتی ہے صبر جب حد سے بڑھ جائے درد جب سر کو چڑھ جائے تو وائیلن تھام لیتی ہے اور اکثر ایسا کرتی ہے بجاتی ہے دُھنیں دِلسوز اور من کو ہلکا کرتی ہے نہیں...
  16. Tariq Iqbal Haavi

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں جو دیکھے اِنھیں شکار بَنے، یہ داﺅ کہاں سے سیکھے ہیں؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  17. Tariq Iqbal Haavi

    خوب جانتا ہے حاوی وہ میرے شعر وں کی حقیقت

    خوب جانتا ہے حاوی وہ میرے شعر وں کی حقیقت واہ۔۔۔ واہ۔۔۔ کہہ کر تو محفل کا بھرم رکھتا ہے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  18. Tariq Iqbal Haavi

    ایک شعر ۔ ۔ ۔ سنوں جو خواب بچے کا

    سنوں جو خواب بچے کا، تو میری آنکھ بھر آئے مجھے کیوں روز سپنے میں، اَمّاں روٹی نظر آئے؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  19. Tariq Iqbal Haavi

    تمھارے بن ادھورے ہیں

    تمھیں ہم کیسے سمجھائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں کیسے ہم دل کو بہلائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں گزارش یہ ذرا سی ہے، تمھارے بن اُداسی ہے کہو تو ملنے آجائیں، ، تمھارے بن ادھورے ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  20. Tariq Iqbal Haavi

    اہل کشمیر کے نام ۔ ۔ ۔

    آگ چھوئے گی آشیاں، تب نکلیں گے ظلم ہے انتہا پر، کب نکلیں گے؟ دردِ انسانیت کا اب احساس نہیں جنکو کوئی اپنا جب مرے گا، تب نکلیں گے (شاعر:طارق اقبال حاوی)
Top