• To make this place safe and authentic we allow only registered members to participate Registration is easy and will take only 2 minutes of your time PROMISE

haavi poetry

  1. Tariq Iqbal Haavi

    یوں سنگ چاٸے پیتے عمر بیت جاٸے

    بھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے اک کپ...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    بڑی عجیب لڑکی ہے

    بڑی عجیب لڑکی ہے کسی سے کچھ نہیں کہتی زندگی کی تلخیوں کو چپ چاپ ہے سہتی بڑا ہے حوصلہ اس کا جو اتنے دُکھ چھپاتی ہے غموں سے چور ہو کر بھی ہمیشہ مسکراتی ہے صبر جب حد سے بڑھ جائے درد جب سر کو چڑھ جائے تو وائیلن تھام لیتی ہے اور اکثر ایسا کرتی ہے بجاتی ہے دُھنیں دِلسوز اور من کو ہلکا کرتی ہے نہیں...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں جو دیکھے اِنھیں شکار بَنے، یہ داﺅ کہاں سے سیکھے ہیں؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  4. Tariq Iqbal Haavi

    خوب جانتا ہے حاوی وہ میرے شعر وں کی حقیقت

    خوب جانتا ہے حاوی وہ میرے شعر وں کی حقیقت واہ۔۔۔ واہ۔۔۔ کہہ کر تو محفل کا بھرم رکھتا ہے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  5. Tariq Iqbal Haavi

    ایک شعر ۔ ۔ ۔ سنوں جو خواب بچے کا

    سنوں جو خواب بچے کا، تو میری آنکھ بھر آئے مجھے کیوں روز سپنے میں، اَمّاں روٹی نظر آئے؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  6. Tariq Iqbal Haavi

    تمھارے بن ادھورے ہیں

    تمھیں ہم کیسے سمجھائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں کیسے ہم دل کو بہلائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں گزارش یہ ذرا سی ہے، تمھارے بن اُداسی ہے کہو تو ملنے آجائیں، ، تمھارے بن ادھورے ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  7. Tariq Iqbal Haavi

    اہل کشمیر کے نام ۔ ۔ ۔

    آگ چھوئے گی آشیاں، تب نکلیں گے ظلم ہے انتہا پر، کب نکلیں گے؟ دردِ انسانیت کا اب احساس نہیں جنکو کوئی اپنا جب مرے گا، تب نکلیں گے (شاعر:طارق اقبال حاوی)
  8. Tariq Iqbal Haavi

    دادا کی گھڑی

    کچھ پرانی سنبھالی چیزوں میں پڑی نکلی پکڑ کے چوما جو میرے دادا کی گھڑی نکلی اٹھا کے فوراً ہی ہاتھ میں ڈالی میں نے مجھے نہ آئی مگر پھر بھی پھنسالی میں نے یہی حرکت میں بچپن میں کیا کرتا تھا گھڑی یہ چھین میں دادا سے لیا کرتا تھا بہت پیار سے کہتے تھے اپنے پوتے سے میرے دادا کے الفاظ پھر یہ ہوتے تھے...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    ذرا احساس ہونے دو

    مجھے وہ خود پکارے گا، ذرا احساس ہونے دو سبھی مسئلے سدھارے گا، ، ذرا احساس ہونے دو ابھی تو دیکھ کر مجھ کو، جو سر پہ خاک ڈالے ہے وہ خود کو پھر نکھارے گا، ذرا احساس ہونے دو ابھی جو اوڑھے پھرتا ہے ، پرائی عیش و عشرت کے لبادے سب اُتارے گا، ذرا احساس ہونے دو تمہیدیں باندھ کر اُلٹی، سدا جیتا ہے...
  10. Tariq Iqbal Haavi

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ تم چاند سے، پھولوں سے، کہیں خوبصورت ہو میرا پہلا ارماں ہو، تم میری ضرورت ہو مہکا ڈالو من کی کلیاں، اِک بار مسکراﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ میری شاعری میں تم ہو، میری گفتگو میں تم ہو دِل میں...
  11. Tariq Iqbal Haavi

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے اگرچہ بھرپور ہے خاروں کے سو درجے بہتر ہے حاوی کیکر بھی میرے یاروں سے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  12. Tariq Iqbal Haavi

    اس عید پہ میں نے سوچا ہے

    اس عید پہ میں نے سوچا ہے کچھ الگ سا مجھ کو کرنا ہے کچھ الگ سا مجھ کو دِکھنا ہے کچھ الگ سا اب سنورنا ہے میں نے پوری کیں ہمیشہ ہی اپنی دولت سے اُمیدیں اپنی گزاری ہیں پہلے کتنی ہی نئے کپڑوں میں عیدیں اپنی مگر اب جو دَورِ وبا آیا تو مجھے بھی یاد خدا آیا فکریں جو حد سے بڑھ جائیں جب قرضے سر پر چڑھ...
  13. Tariq Iqbal Haavi

    ایویں ای اکھاں بھر نہ جھلئی

    پٹھیاں گلاں کر نہ جھلئی ایویں ای اکھاں بھر نہ جھلئی تیرا ساں میں، تیرا ای آں سونہہ کھانا واں، ڈر نہ جھلئی لوک تے پھرن اجاڑن نوں کن لوکاں ول، دھر نہ جھلئی کجھ حوصلے کر، ہتھ پیر وی مار بس گھڑے بھروسے، تر نہ جھلئی عشق اے ناں ازمائشاں دا ایہنی چھیتی، ہر نہ جھلئی (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  14. Tariq Iqbal Haavi

    مرشد مجھے کوئی آج ایسی چیز دیجئے

    مرشد مجھے کوئی آج ایسی چیز دیجئے بھلانے کا ہنر، یا کوئی تجویز دیجئے مرشد مجھے عشق سا لاحق ہوگیا مرشد بچا لیجئے، تعویز دیجئے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  15. Tariq Iqbal Haavi

    وبائیں ہم پہ غالب ہیں

    گناہوں پرہیں ہم نادم، تیری رحمت کے طالب ہیں الٰہی کر کرم اپنا، وبائیں ہم پہ غالب ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  16. Tariq Iqbal Haavi

    اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں

    چلو اک کام کرتے ہیں اس جاتی رت کی کسی شام سنگ چائے پینے کا کوئی اہتمام کرتے ہیں شاید کہ پھر نہ پلٹے یہ حسیں رت شاید کہ پھر نہ لوٹیں یہ حسین پل باقی رہیں نہ شاید خوشگواریاں بھی کل چلو ہم خوشگوار رت میں کچھ لمحے جی لیتے ہیں ٓآﺅ جاناں کسی شام اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  17. Tariq Iqbal Haavi

    بڑا موسم سہانا ہے

    فضاء بھی دلربا سی ہے، سماں بھی عاشقانہ ہے کوئی تدبیر ڈھونڈو نا، بڑا موسم سہانا ہے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  18. Tariq Iqbal Haavi

    موسم بدل رہا ہے۔۔۔

    سنو جاناں موسم بدل رہا ہے اور موسم کے بدلنے پر بہت سی تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہیں ہواﺅں نے اپنے مزاج میں دُھند بھر لی ہے۔۔۔ اور پیڑوں کی قسمت میں بھی اُداسی کا موسم شروع ہونے کو ہے یوں موسم بدلنے پر بہت کچھ بدلتا ہے ہمارے لباس، انداز، مشروب اوڑھنا، بچھونا، چال ،ڈھال اور بہت کچھ مگر میرے جذبات کی...
  19. Tariq Iqbal Haavi

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟ تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے ”عاجز“ و ”شاکر“ ہو کر ہی ملے ہے ”قربت“ عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے اس...
  20. Tariq Iqbal Haavi

    اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا

    اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا، عقل کو بھی لگ جاتا ہے ۔ اور ایسا تب ہوتا ہے جب ہم بہت سے معاملات میں بجائے حقیقت کو دیکھنے کے اپنی آنکھیں محض اس لئے بند کر لینا مناسب سمجھ لیتے ہیں کہ بات ہمارے پیاروں کی ہوتی ہے۔ اور پھر یوں آنکھوں کو مسلسل بند کئے رکھنا عقل کو زنگ آلود کرتا رہتا ہے اور جب عقل...
Top